بدھ‬‮ ، 23 ستمبر‬‮ 2026 

کانگو وائرس سے متاثرہ مزید 2 افراد ہلاک

datetime 27  ‬‮نومبر‬‮  2014 |

کراچی۔۔۔۔۔خاتون سمیت کانگو وائرس سے متاثرہ مزید 2 افراد ہلاک ہوگئے ہیں جس کے بعد کراچی میں کانگو وائرس سے مرنے والوں کی تعداد 6 ہوگئی ہے۔رواں برس اب تک کانگو وائرس کے 18 کیسز رپورٹ ہوچکے ہیں، کانگو وائرس سے ہلاک ہونے والے دونوں افراد کا تعلق کورنگی سے ہے، محکمہ صحت کے ذرائع کے مطابق کورنگی نمبر 6 کا رہائشی عبدالماجد نجی اسپتال میں زیر علاج تھا، ابتدائی ٹیسٹ کے بعد ڈاکٹروں نے عبدالماجدمیں کانگو وائرس کی تصدیق کی تھی،عبدالماجد کے پڑوسی نے مویشی پال رکھے ہیں اور خدشہ ہے کہ عبدالماجد کو پڑوس میں پالے گئے مویشیوں سے کانگو وائرس منتقل ہواہے تاہم اس حوالے سے ابھی مزیدتحقیقات کی جارہی ہیں۔دوسری جانب کورنگی ہی کی رہائشی 55 سالہ نورین سول اسپتال میں انتقال کرگئی، نورین کو ڈنگی وائرس کے شبے میں سول اسپتال لایا گیا تھا تاہم نورین کے انتقال کے بعد خون کے تجزیوں کی رپورٹ کے نتیجے میں ڈاکٹروں نے تصدیق کی کہ نورین کو کانگو وائرس تھا، گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد خان نے کراچی کے علاقے کورنگی میں کانگو وائرس سے 2 افراد کی ہلاکت کا نو ٹس لیتے ہوئے محکمہ صحت کے حکام کو ہدایت کی ہے کہ صوبے بھر میں موذی مرض سے متعلق فوری طور پر ا گہی مہم شروع کی جائے تاکہ شہری مرض کی ابتدائی علامات کے فوری بعد اپنا علاج کراسکیں ساتھ ہی صوبے کے تمام اسپتالوں میں مرض سے متعلق دواؤں کی فراہمی کویقینی بنایاجائے۔
علاوہ ازیں کراچی میں افریقی ممالک سے ا?نے والے افراد سے ایبولا وائرس کے ممکنہ پھیلاؤ کی روک تھام کے سلسلے میں کیے گئے اقدامات کاجائزہ لینے کے لیے عالمی ادارہ صحت کی ٹیم بدھ کو کراچی پہنچ گئی، اس موقع پرعالمی ادارہ صحت کی ٹیم نے محکمہ صحت کے حکام کے ہمراہ کراچی ایئرپورٹ جبکہ جناح اور سروسز اسپتال کادورہ کیا اور یہاں قائم کیے گئے ا?ئسولیشن وارڈ کا جائزہ لیا، عالمی ادارہ صحت کے حکام نے ایئرپورٹ موجود تھرمل اسکینر کا معائنہ بھی کیا۔
بعدازاں عالمی ادارہ صحت کے نمائندوں اورصوبائی محکمہ صحت کا مشترکہ اجلاس منعقد ہواجس میں اس سلسلے میں صوبائی محکمہ صحت کی جانب سے ایبولاوائرس کے ممکنہ پھیلاؤ کی روک تھام کاجائزہ لیا گیا، ذرائع کے مطابق عالمی ادارہ صحت محکمہ صحت کی جانب سے ایبولا وائرس کے عدم پھیلاؤ کے حوالے سے کیے گئے اقدامات پر مشتمل اپنی رپورٹ 2 دن میں جاری کرے گا۔
معلوم ہوا ہے کہ عالمی ادارہ صحت کے ماہرین نے محکمہ کے افسران سے کہا ہے کہ بیرون ملک سے مسافروں کی بڑی تعداد کراچی پہنچتی ہے ایسے مسافرجو افریقی ممالک سے سفر کرکے کراچی پہنچتے ہیں ان مسافروں کا مکمل معائنہ کیا جائے اور امیگریشن حکام ایسے مسافروں کی سفری دستاویزات اور تفصیلات سے محکمہ صحت کو ا?گاہ کریں اور حاصل ہونے والی تفصیلات سے عالمی ادارہ صحت کو ا?گاہ کیا جائے۔
سیکریٹری صحت اقبال حسین درانی اور فوکل پرسن ایبوالا وائرس ڈاکٹر خالد شیخ نے ٹیم کو بتایا کہ کراچی میں ممکنہ ایبولا وائرس کی روک تھام کے لیے 27 رکنی اسٹیرنگ تشکیل دی گئی ہے، محکمہ صحت نے جناح اور سروسز اسپتال کے ڈاکٹروں اور طبی عملے کے ماسٹر ٹرینر بھی تیار کیے ہیں انھیں جناح اسپتال میں تربیت دی گئی تھی جبکہ جناح اور سروسز اسپتال میں ا?ئسولیشن وارڈز بھی قائم ہیں اس کے علاوہ ایئرپورٹ کے سول ایوی ایشن اسپتال میں بھی ا?ئیسولیشن یونٹ بھی قائم کیا گیاہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…