جمعہ‬‮ ، 04 اپریل‬‮ 2025 

پاکستان ٹیلی وژن کی عمارت پر حملہ حکومت کی منصوبہ بندی تھی،طاہر القادری کا دعوی

datetime 17  ‬‮نومبر‬‮  2014
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

لندن۔۔۔۔ پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ ڈاکٹر طاہر القادری نے دعوی کیاہے کہ پاکستان ٹیلی وڑن کی عمارت پر حملہ انہوں نے نہیں کروایا بلکہ یہ حکومت کی اپنی منصوبہ بندی تھی اور حملہ آور پی ٹی وی ہی کے ملازمین تھے۔لندن میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹرطاہرالقادری کاکہناتھا کہ دھرنے کیدوران پاکستان عوامی تحریک کے کارکنوں نے پولیس کی فائرنگ اور شیلنگ سے بچنے کیلئے پارلیمنٹ میں پناہ لی۔ انہیں پارلیمنٹ اور پی ٹی وی کے صدر دفتر پر حملے کا علم نہیں، نہ انہوں نے اس قسم کا کوئی حکم دیا اور نہ ہی وہ جانتے ہیں کہ حملہ کس نے کیا،پاکستان عوامی تحر?ک حملوں کاالزام مسترد کرتی ہے، سرکاری عمارتوں پرحملہ حکومت کی اپنی منصوبہ بندی تھی، حملہ کرنے والے پی ٹی وی ہی کے ملازمین تھے۔ پاکستان تحریک انصاف اور حکومت کے درمیان کوئی ڈیل نہیں ہوئی، اس قسم کا الزام لگانے والوں کے منہ پر اس سے بڑا طمانچہ اور کیا ہوگا کہ ہمارے خلاف ملک بھر میں مقدمات چلائے جارہے ہیں اور انہیں عدالتوں سے اشتہاری قرار دلوایا جارہا ہے۔ڈاکٹر طاہر القادری کا کہنا تھا کہ وہ پاکستان میں کرپٹ نظام کے خاتمے اور حقیقی جمہوریت کے نفاذ کے لئے اپنی جدوجہد کررہے ہیں لیکن دنیا کی کوئی طاقت انہیں پاکستان سے باہر سفر کرنے سے روک نہیں سکتی، ہمارا سفر صرف چھانگا مانگا تک محدود نہیں، ان کی تنظیم دنیا کے 90 ملکوں میں فعال ہے، اس مقصد کے لئے وہ دنیا بھر میں سفر کرتے ہیں۔ ان کا مزید کہا کہ 30 نومبر کو اسلام آباد میں عمران خان کا اپنا جلسہ ہے اور وہ اس کی کامیابی کے لئے دعاگو ہیں، ہم اپنی الگ جدو جہد شروع کرچکے ہیں،اس سلسلے میں ہم نے اپنے دھرنے کو اسلام آباد سے نکال کر ملک بھر میں پھیلادیا ہے اور عوام کو انقلاب کا حصہ بنانے کے لئے شہر شہر جارہے ہیں۔پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ کا کہنا تھا کہ سانحہ ماڈل ٹاؤن کے لواحقین کو ایک ایک کروڑ روپے اور بیرون ملک ملازمتوں کی پیشکشیں مسترد کردی ہیں، حکومت کی جانب سے سانحہ ماڈل ٹاؤن کی تحقیقات کے لئے قائم جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم جعلی ہے، جے آئی ٹی پنجاب پولیس اور پنجاب حکومت کی ہے جبکہ ہماری ایف آئی آر میں دونوں ہی نامزد ہیں، ہم اس سانحے میں کسی بے گناہ کو سزا دلوانا نہیں چاہتے لیکن ہم یہ بھی نہیں چاہتے کہ کوئی گناہ گار بچ جائے، اس لئے ہم ایسے افراد پر مشتمل جے آئی ٹی چاہتے ہیں جس پر شریف برادران کا اثر و رسوخ نہ ہو۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں 3 سول ججوں کے قتل کی تحقیقات پاک فوج کے افسر نے کی تھی، اگر ان کی تحقیقات پاک فوج کرسکتی ہے تو سانحہ ماڈل ٹاؤن میں مرنے والے بھی انسان تھے۔ انہوں نے پہلے کبھی پاک فوج سے کوئی تقاضا نہیں کیا تھا، نوازشریف نے اس معاملے میں آرمی چیف کو ثالث اور ضامن بنایا تھا، وہ بھی اسی بات کو آگے بڑھاتے ہوئے ان سے انصاف مانگتے ہیں۔ بے گناہوں کا خون رائیگاں نہیں جائے گا، ہم اس کا بدلہ انصاف اور قانون کے مطابق لے کررہیں گے

موضوعات:



کالم



چانس


آپ مورگن فری مین کی کہانی بھی سنیے‘ یہ ہالی ووڈ…

جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ

میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…

تیسری عالمی جنگ تیار(دوسرا حصہ)

ولادی میر زیلنسکی کی بدتمیزی کی دوسری وجہ اس…