اتوار‬‮ ، 07 جون‬‮ 2026 

تھر متاثرین کی گندم میں مٹی ملانے والے کو خصوصی پروٹوکول

datetime 13  ‬‮نومبر‬‮  2014 |

کوٹری۔۔۔۔۔تھر متاثرین کیلئے کوٹری فوڈ گودام میں رکھی گندم میں مٹی ملانے کے الزام میں گرفتار گودام انچارج کوٹری تھانے سے غائب، عدالت میں سماعت کے موقع پر پیش کر دیا گیا۔تفصیلات کے مطابق صوبائی وزیر خوراک جام مہتاب ڈہر نے گزشتہ دنوں کوٹری فوڈ گودام پر چھاپے کے دوران آفت زدہ علاقے تھر میں بھیجی جانے والی گندم میں مٹی ملانے پر گودام انچارج نظر محمد لوند کو نوکری سے فارغ کرتے ہوئے انکوائری کے بعد گرفتار کرنے کی ہدایت کی تھی جبکہ محکمہ خوراک نے لیٹرنمبرPF,Rlif/2014/1881 کے تحت گودام انچارج کو باقاعدہ گرفتار کرنے کی درخواست کی تھی، جس پر محکمہ فوڈ کے اسٹوریج انفورسمنٹ ا?فیسر حیدرا باد ریجن عبدالستار میمن نے10 نومبر کو کوٹری تھانے پر مقدمہ نمبر 439/14 درج کروایا تھا۔جس میں موقف اختیار کیا تھا کہ ملزم گودام انچارج نے تھر متاثرین کے لیے سرکاری گندم کی 292 بوریوں میں مٹی ملائی اور ایک کروڑ7 ہزار 4 سو روپے کی خورد برد کی ہے۔ کوٹری پولیس نے گودام انچارج نظر لوند کا ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ جامشورو سے دو دن کا ریمانڈ حاصل کیا تھا۔ بعد ازاں ملزم کوٹری تھانے کے لاک اپ سے مبینہ طور پر غائب رہا اور دو دن ریمانڈ کے دوران باہر گھومتا نظرآ یا جبکہ تھانے میں بھی وہ پر تکلف کھانوں سے لطف اندوز ہوتا رہا۔
ملزم کو دو دن بعد کوٹری پولیس نے عدالت میں پھر پیش کر دیا۔ نظر محمد لوند نے بتایا کہ اسے کیس میں بے گناہ پھنسایا گیا ہے، انھوں نے صاف ستھری گندم ٹھیکیدار پیرو مل کو دی تھی۔ واضح رہے کہ کوہستان انٹر پرائزز اور ڈائریکٹر فوڈ حیدراباد محمد بچل راہوپوٹو سمیت ڈی ایس سی جامشورو قمر الدین میمن کو موجودہ مقدمے سے دور رکھا گیا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



تلوم اور تلوم سے آگے


ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…