منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

تھر متاثرین کی گندم میں مٹی ملانے والے کو خصوصی پروٹوکول

datetime 13  ‬‮نومبر‬‮  2014 |

کوٹری۔۔۔۔۔تھر متاثرین کیلئے کوٹری فوڈ گودام میں رکھی گندم میں مٹی ملانے کے الزام میں گرفتار گودام انچارج کوٹری تھانے سے غائب، عدالت میں سماعت کے موقع پر پیش کر دیا گیا۔تفصیلات کے مطابق صوبائی وزیر خوراک جام مہتاب ڈہر نے گزشتہ دنوں کوٹری فوڈ گودام پر چھاپے کے دوران آفت زدہ علاقے تھر میں بھیجی جانے والی گندم میں مٹی ملانے پر گودام انچارج نظر محمد لوند کو نوکری سے فارغ کرتے ہوئے انکوائری کے بعد گرفتار کرنے کی ہدایت کی تھی جبکہ محکمہ خوراک نے لیٹرنمبرPF,Rlif/2014/1881 کے تحت گودام انچارج کو باقاعدہ گرفتار کرنے کی درخواست کی تھی، جس پر محکمہ فوڈ کے اسٹوریج انفورسمنٹ ا?فیسر حیدرا باد ریجن عبدالستار میمن نے10 نومبر کو کوٹری تھانے پر مقدمہ نمبر 439/14 درج کروایا تھا۔جس میں موقف اختیار کیا تھا کہ ملزم گودام انچارج نے تھر متاثرین کے لیے سرکاری گندم کی 292 بوریوں میں مٹی ملائی اور ایک کروڑ7 ہزار 4 سو روپے کی خورد برد کی ہے۔ کوٹری پولیس نے گودام انچارج نظر لوند کا ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ جامشورو سے دو دن کا ریمانڈ حاصل کیا تھا۔ بعد ازاں ملزم کوٹری تھانے کے لاک اپ سے مبینہ طور پر غائب رہا اور دو دن ریمانڈ کے دوران باہر گھومتا نظرآ یا جبکہ تھانے میں بھی وہ پر تکلف کھانوں سے لطف اندوز ہوتا رہا۔
ملزم کو دو دن بعد کوٹری پولیس نے عدالت میں پھر پیش کر دیا۔ نظر محمد لوند نے بتایا کہ اسے کیس میں بے گناہ پھنسایا گیا ہے، انھوں نے صاف ستھری گندم ٹھیکیدار پیرو مل کو دی تھی۔ واضح رہے کہ کوہستان انٹر پرائزز اور ڈائریکٹر فوڈ حیدراباد محمد بچل راہوپوٹو سمیت ڈی ایس سی جامشورو قمر الدین میمن کو موجودہ مقدمے سے دور رکھا گیا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…