اتوار‬‮ ، 08 فروری‬‮ 2026 

پاکستان نے نیوکلیئر سپلائرز گروپ کی رکنیت مانگ لی

datetime 6  ‬‮نومبر‬‮  2014 |

نیویارک ۔۔۔۔ اقوام متحدہ میں پاکستانی مشن کے سینئر عہدیدار خلیل ہاشمی نے جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان گزشتہ 40 سال سے اپنا سول جوہری پروگرام نہایت محفوظ انداز سے چلانے کا ریکارڈ رکھتا ہے اور اس پروگرام کے تحفظ اور سلامتی کو یقینی بنانے کو سب سے زیادہ اہمیت دیتا ہے، اس لیے اسے نیوکلیئر سپلائرز گروپ کی رکنیت دی جائے۔خلیل ہاشمی نے جنرل اسمبلی سے خطاب میں جوہری توانائی کے بین الاقوامی ادارے (آئی اے ای اے) کی رپورٹ پر تبصرہ کرتے ہوئے بتایا کہ پاکستان کے سول جوہری پروگرام کو براہ راست قومی سلامتی سے منسلک کیاگیا ہے، اس تمام عرصہ کے دوران پاکستان نے سول جوہری پروگرام کے تحفظ کیلیے آئی اے ای اے کے ساتھ مل کرکام کیا ہے اور اس حوالے سے ایکشن پلان پرآئی اے ای اے کے تعاون سے عملدرآمد کیا جا رہا ہے۔ پاکستان نیوکلیئر ریگولیٹری اتھارٹی نے اپنے قواعد وضوابط کی بنیاد آئی اے ای اے کے اصولوں پر رکھی ہے اور ان حفاظتی انتظامات کی آزادانہ جانچ پڑتال کی پیشکش کی ہے۔جاپان کے فوکوشیما جوہری بجلی گھرکے حادثے کے بعد پاکستان نے اپنی جوہری تنصیبات کے حفاظتی اقدامات کی جانچ پڑتال کیلیے متعدد سخت ٹیسٹ کیے ہیں۔ جوہری بجلی گھروں کی حفاظت، جوہری مواد اور اس سے متعلقہ ریکارڈ، سرحدوں پر جوہری موادکی نقل و حرکت کی نگرانی اور تابکاری کے حوالے سے کسی بھی ہنگامی صورتحال سیکیورٹی اداروں کے کنٹرول میں ہے۔ ملک سے باہر جانے اور ملک میں آنے کے راستوں پر تابکاری کی نشاندہی کیلیے موثر میکنزم قائم ہیں تاکہ جوہری مواد کی کسی بھی غیر قانونی نقل وحمل کو روکا جاسکے۔اس کے ساتھ ساتھ پاکستان رضاکارانہ طور پر بھی اس سلسلے میں آئی اے ای اے کو معلومات فراہم کرتا ہے۔ پاکستان میں موجودتمام جوہری بجلی گھر آئی اے ای اے کے حفاظتی انتظامات کے تحت ہیں۔ انھوں نے کہا آبادی میں اضافے کی وجہ سے پاکستان کو زراعت، صنعت اور دیگر شعبوں میں بجلی کی شدید قلت کا سامنا ہے اور پاکستان اس ضرورت کو پوراکرنے کیلیے پانی، سورج، ہوا کے ساتھ ساتھ جوہری وسائل کو بروئے کارلا رہا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بٹرفلائی افیکٹ


وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…