اتوار‬‮ ، 30 اگست‬‮ 2026 

تمکنت منصور نے پاکستانی ایپسٹین کو بے نقاب کر دیا

datetime 31  مارچ‬‮  2026 |

کراچی (این این آئی)پاکستانی شوبز انڈسٹری سے وابستہ معروف اداکارہ و ڈیجیٹل کنٹینٹ کری ایٹر تمکنت منصور نے ساتھی فنکار کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے

پاکستانی معاشرے کے جیفری ایپسٹین کو بے نقاب کر دیا۔پیشے کے اعتبار سے تمکنت منصور اداکارہ ہونے کے ساتھ ساتھ ایک ماہر ڈاکٹر بھی ہیں، جن کے پاس ایم بی بی ایس کے ساتھ دو پوسٹ گریجویٹ ڈگریاں ہیں۔فوٹوز اینڈ ویڈیوز شیئرنگ پلیٹ فارم انسٹاگرام پر 5 لاکھ فالوورز رکھنے والی اداکارہ نے سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو شیئر کی ہے۔انہوں نے سوشل میڈیا پر شیئر کردہ ویڈیو میں خواتین اداکاراں پر ان کی عمر کے حوالے سے تنقید کرنے والے ساتھی فنکار کو نام لیے بغیر شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔اداکارہ نے ساتھی فنکار کے وائرل بیان پر سخت ردِعمل دیتے ہوئے اس رویے کو پیڈو فیلیک سوچ قرار دے دیا۔انہوں نے کہا کہ چند روز قبل ایک سابق معروف اداکار کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی، جو اب خود کو خبروں میں رکھنے کے لیے دیگر اداکاروں کے بارے میں سطحی گفتگو کرتے ہیں۔تمکنت نے کہا کہ سابق معروف اداکار ایک پروگرام میں بیٹھ کر یہ کہہ رہے تھے کہ ہیروئن 15، 16 یا زیادہ سے زیادہ 19 سال کی لڑکی ہوتی ہے، یعنی کم عمر لڑکیاں جو خوبصورت، پرکشش اور دلکش نظر آئیں اور دوسروں کو متوجہ کریں، نہ کہ ماہرہ خان جیسی پکی عمر کی خواتین۔انہوں نے ساتھی اداکار پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ایسی سوچ دراصل پیڈو فیلیک رویہ ہے، ہم سب کے گھروں میں ایسے لوگ موجود ہوتے ہیں جو قریبی رشتے داروں کی شکل میں کم عمر لڑکیوں یا بچوں کو ہراساں کرتے ہیں اور جب متاثرہ بچے اس بارے میں بات کرتے ہیں تو انہیں خاموش کرا دیا جاتا ہے یا ان پر یقین نہیں کیا جاتا، یہ وہ رویہ ہے جو ایسے جرائم کو تقویت دیتا ہے، یہ مسئلہ صرف کسی ایک گھر تک محدود نہیں بلکہ ہر جگہ موجود ہے، تاہم مردوں سے اسے اکثر چھپا لیا جاتا ہے اور مجرم کو سزا دینے کے بجائے بچوں کو ہی موردِ الزام ٹھہرایا جاتا ہے۔

تمکنت منصور نے ایک واقعے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ میں نے 8 سالہ زیادتی کا شکار بچی کا علاج کیا، جس کی والدہ کہہ رہی تھیں کہ اس کے والد کو نہ بتایا جائے، کیونکہ وہ بچی کو ہی قصور وار ٹھہرائیں گے، جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ کم عمر لڑکیاں مردوں کو متوجہ کرتی ہیں، وہ ہمارے معاشرے کے جیفری ایپسٹین ہیں۔انہوں نے کہا کہ ایسے افراد کو فورا روکا جانا چاہیے، مجھے حیرت ہے کہ اینکر نے بھی انہیں نہیں ٹوکا، والدین کو چاہیے کہ وہ اپنے بچوں کے دوست بنیں اور انہیں اچھے اور برے ٹچ کے بارے میں آگاہ کریں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…