اسلام آباد (نیوز ڈیسک)پاکستان کے نامور گلوکار راحت فتح علی خان اور عاطف اسلم اپنی دلکش آواز، یادگار نغمات اور شاندار اسٹیج پرفارمنس کے باعث نہ صرف ملک بلکہ دنیا بھر میں شہرت رکھتے ہیں۔ دونوں فنکاروں کے گائے گئے مقبول گیت، خصوصاً بھارتی فلموں کے لیے ریکارڈ کیے گئے گانے، ان کی عالمی مقبولیت میں اہم کردار ادا کرتے رہے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ بڑی نجی تقریبات اور مہنگی شادیوں میں ان کی شرکت ہمیشہ خاص توجہ حاصل کرتی ہے۔ پاکستان میں ملک ریاض اور بھارت میں مکیش امبانی جیسے بااثر افراد کی شادیوں میں ان کی پرفارمنسز بھی ماضی میں خبروں کی زینت بن چکی ہیں، جہاں ان کی فیس پر خاصی بحث ہوئی۔حال ہی میں فریال تالپور کی بیٹی عائشہ تالپور کی شادی نے سوشل میڈیا پر خوب توجہ حاصل کی، جہاں راحت فتح علی خان اور عاطف اسلم نے مہمانوں کی فرمائش پر اپنے مشہور گانے پیش کیے اور تقریب کو یادگار بنا دیا۔ ذرائع کے مطابق دونوں گلوکاروں کی پرفارمنس نے تقریب میں موجود حاضرین کو خوب محظوظ کیا۔اس حوالے سے سینئر اینکر نعیم حنیف نے ایک حالیہ گفتگو میں ان فنکاروں کی شادیوں میں پرفارمنس کی فیس سے متعلق اہم معلومات شیئر کیں۔
ان کے مطابق راحت فتح علی خان پاکستان میں کسی شادی کی تقریب میں پرفارم کرنے کے عوض تقریباً ایک کروڑ پچیس لاکھ روپے وصول کرتے ہیں۔ اگر تقریب کسی اور شہر میں ہو تو یہ رقم بڑھ جاتی ہے، جبکہ بیرونِ ملک پروگرام کے لیے ان کی فیس تقریباً دوگنی ہو جاتی ہے۔نعیم حنیف کے مطابق عاطف اسلم ماضی میں شادیوں میں گانے سے گریز کیا کرتے تھے، تاہم تقریباً سات برس قبل ملک ریاض نے انہیں اپنے پوتے کی شادی میں مدعو کیا۔ عاطف اسلم نے اس وقت ڈیڑھ کروڑ روپے کا مطالبہ کیا، جو ان کے خیال میں انکار کے مترادف تھا، مگر میزبان نے یہ رقم ادا کر دی۔ نعیم حنیف کا کہنا ہے کہ انہوں نے اس ادائیگی کی رسید خود دیکھی تھی۔ اس واقعے کے بعد عاطف اسلم نے شادیوں میں پرفارم کرنا شروع کیا اور اب وہ فی تقریب دو سے ڈھائی کروڑ روپے تک معاوضہ لیتے ہیں۔انہوں نے مزید بتایا کہ معروف صوفی گلوکارہ عابدہ پروین عموماً طبی مسائل کے باعث تقریبات میں کم ہی شرکت کرتی ہیں، تاہم اگر وہ کسی پروگرام میں پرفارم کریں تو ان کا معاوضہ بھی خاصا زیادہ ہوتا ہے اور وہ تقریباً ساٹھ سے ستر ہزار ڈالر وصول کرتی ہیں۔ نعیم حنیف کے اندازے کے مطابق مذکورہ شادی میں گلوکاروں کی پرفارمنس پر مجموعی طور پر لگ بھگ سات کروڑ روپے خرچ کیے گئے۔یہ تفصیلات اس بات کی عکاسی کرتی ہیں کہ پاکستان کے صفِ اول کے گلوکار نہ صرف موسیقی کے میدان میں اپنی دھاک بٹھائے ہوئے ہیں بلکہ نجی تقریبات اور شادیوں میں ان کی موجودگی بھی کروڑوں روپے کی قدر رکھتی ہے۔















































