جمعرات‬‮ ، 01 اکتوبر‬‮ 2026 

والد کی وفات پر الحمدللہ کہہ کر غم سے نجات حاصل کی، نادیہ جمیل

datetime 16  دسمبر‬‮  2024 |

کراچی (این این آئی)سینئر اداکارہ نادیہ جمیل نے والد کی وفات کے بعد جدائی کے غم سے نکلنے کا سبق آموز قصہ مداحوں کے ساتھ شیئر کردیا۔وائرل ویڈیو میں اداکارہ نے بتایا کہ والد کے انتقال کے بعد غم میں تھی کہ مجھے ایک سعودی دوست ملی جس نے مجھے بتایا کہ جب ان کے یہاں کوئی فوت ہوتا ہے تو وہ الحمداللہ کہتے ہیں،جس پر میں اسے حیرت سے دیکھنے لگی کہ یہ کیا کہہ رہی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ان کی اس دوست نے کہا جب میرا 15 برس کا اکلوتا بیٹا فوت ہوا تو ایک پاکستانی خاتون نے مجھ سے سوال کیا کہ میرا جوان اکلوتا بیٹا فوت ہو گیا ہے، اب میں صبر کیسے کروں گی؟ جس پر میں نے اس کے ہاتھ سے سونے کا کڑا مانگا اس نے مجھے دے دیا اور کچھ دیر بعد اس نے واپس مانگا تو میں نے اپنے ہاتھ سے وہ کڑا نکال کر اسے واپس کر دیا جس پر میں نے اسے کہا کہ یہ آپ کی چیز تھی آپ نے مانگی میں نے واپس دے دی میں یہ بھی تو کہہ سکتی تھی کہ مجھے یہ پسند آ گیا ہے اسے واپس مت لو یا کچھ دیر بعد واپس لے لینا لیکن نہیں آپ نے مانگا میں نے دے دیا۔

نادیہ جمیل نے کہا کہ میری دوست نے یہ مثال دیتے ہوئے کہا کہ بالکل اسی طرح اللہ تعالی نے مجھے اپنی چیز دی تھی، جب اس نے واپس مانگی تو میں نے یہ کہتے ہوئے اسے واپس کر دی کہ اس نے مجھ پر 15برس تک اعتبار کر کے مجھے اپنی چیز دی، اب میں قرضہ واپس کرتے ہوئے شکریہ ادا کروں گی۔اداکارہ نے کہا کہ میری دوست نے مجھے سمجھایا کہ اللہ تعالی نے تمہیں والد کا ساتھ 50برس تک دیا، ان کی یادیں ہیں، ان کا سکھایا ہوا سبق تمہارے ساتھ ہے، دنیا میں ایسے بھی بچے ہیں جنہیں 5منٹ کیلئے اپنے والد کا ساتھ نہیں ملتا اور تم تو ایسے بچوں کے ساتھ کام کرتی ہو، زیادہ بہتر جانتی ہو۔اداکارہ نے کہا کہ دوست کی بات سن کر میرا نظریہ ہی بدل گیا، اب مجھے والد کی موت کا غم ہی نہیں رہا، جو کہتے ہیں کہ انسان غم کی 7منزلوں سے گزرتا ہے، دوست کی بات سننے کے بعد میں ان سے گزری ہی نہیں میرے لب پر صرف ایک چیز الحمداللہ ہی تھی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…