اتوار‬‮ ، 30 اگست‬‮ 2026 

بیٹے کے دوست میرے کام سے متعلق تذبذب کا شکار ہیں، ملائکہ اروڑا

datetime 11  ستمبر‬‮  2024 |

ممبئی (این این آئی)بالی ووڈ اداکارہ ملائکہ اروڑا نے کہا ہے کہ میرے بیٹے ارہان کے دوست میرے کام سے متعلق تذبذب کا شکار ہیں۔حالیہ انٹرویو میں ملائکہ اروڑا نے بتایا کہ ارہان نے ایک دن مجھ سے پوچھا کہ ‘میرے دوست تذبذب کا شکار ہیں، آپ کام کیا کرتی ہیں؟’انکا کہنا تھا کہ بیٹے نے مجھ سے کہا ‘آپ زندگی گزارنے کیلیے ایک کام نہیں کرتی ہیں بلکہ آپ فیشن شوز میں حصہ لیتی ہیں، ریئلٹی شوز کرتی ہیں اور فلموں میں آئٹم سونگ بھی کرتی ہیں۔ یہی وجہ ہے میرے اکثر دوست آپ کے حقیقی پیشے سے متعلق ایک طرح کی الجھن کا شکار ہیں۔

اداکارہ نے بتایا کہ اس پر میں کہتی ہوں کہ ‘میں وہ ہی کرتی ہوں، جس کی مجھے ضرورت ہے، جو مجھے اچھا لگتا ہے۔ملائکہ اروڑا نے بالی ووڈ فلموں کیلیے کئی مشہور آئٹم سونگ جیسے ‘چھیاں چھیاں’، ‘منّی بدنام ہوئی’، ‘انارکلی دسکو چلی’ شامل ہیں۔ وہ اس کے ساتھ فیشن شو اور کئی ریئلٹی شوز کی جج رہی چکی ہیں۔واضح رہے کہ ارہان خان اداکار و پروڈیوسر اربان خان اور ملائکہ اروڑا کے اکلوتے بیٹے ہیں، وہ 2002ء میں پیدا ہوئے جبکہ ان کے والدین 19 سالہ ازدواجی زندگی کے بعد 2016ء میں علیحدہ ہوگئے تھے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)


ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…