اتوار‬‮ ، 30 اگست‬‮ 2026 

فلموں کی آمدنی ختم ہوچکی، کاروبار پر توجہ دے رہا ہوں، ویویک اوبرائے

datetime 10  جولائی  2024 |

ممبئی (این این آئی)بالی ووڈ اداکار ویویک اوبرائے نے انکشاف کیا ہے کہ وہ اپنے کاروبار کی جانب توجہ دے رہے ہیں تاکہ اپنا گھر چلا سکیں، انکا کہنا ہے کہ فلموں سے انکی آمدنی ختم ہوچکی ہے۔ ویویک اوبرائے آخری بار ہدایتکار روہت شیٹی کی ٹی وی سیریز انڈین پولیس فورس میں نظر آئے تھے۔ ویویک اوبرائے نے اس موقع پر بتایا کہ انھوں نے 15 برس کی عمر میں بالی ووڈ کیریئر سے قبل اپنا کاروباری سفر شروع کیا تھا اور اب تک اسکی آمدنی پر انحصار کرتے ہیں۔ انکے مطابق میں ایک بورڈنگ اسکول سے آیا تھا اور میرے والد (سریش اوبرائے) مجھے پانچ سو روپے جیب خرچ دیا کرتے تھے، جو کہ کالج کی لڑکیوں کے ساتھ بیٹھ کر ایک ہی دن میں خرچ کر دیا کرتا تھا۔

جب والد کو پتہ چلا تو انھوں مجھے ڈانٹا اور رقم کو عقلمندی سے خرچ کرنے کی ہدایت کی۔ جس پر میں نے والدہ سے کہا کہ مجھے والد کی رقم نہیں چاہیے میں خود کچھ کرلوں گا۔جس کے بعد میں نے کام کرنا شروع کیا، جس میں چھوٹے موٹے میوزیکل پروگرام اور شو کمپیئرنگ شروع کر کے آمدنی کا آغاز کیا۔ جس کے بعد بالی ووڈ کیریئر 2002 کی فلم کمپنی میں کام سے شروع کیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)


ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…