اتوار‬‮ ، 30 اگست‬‮ 2026 

مشہور ہونے کے بعد یہ سوچ کر ڈر لگتا ہے اللہ کو کیا جواب دوں گی، ہانیہ عامر

datetime 28  مئی‬‮  2024 |

کراچی (این این آئی)اداکارہ ہانیہ عامر نے کہا ہے کہ مشہور ہونے کے بعد یہ سوچ کر ڈر لگتا ہے مرنے کے بعد اللہ کو کیا جواب دوں گی۔غیر ملکی میڈیا کو ایک انٹرویو میں اداکارہ ہانیہ عامر نے کہا کہ سوشل میڈیا استعمال کرنے کی ایک وجہ یہ ہے کہ میں شوبز انڈسٹری میں ہوں اور دوسری وجہ ذہنی صحت کے بارے میں بات کرنا اور اس حوالے سے آگاہی پیدا کرنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ مجھے مشہور ہونے کے بعد یہ سوچ کر بھی ڈر لگتا ہے کہ مرنے کے بعد اللہ کو کیا جواب دوں گی کیونکہ اللہ کے سامنے پیش ہونے پر جو سوال ہوں گے ان کے جواب میں یہ تو نہیں کہہ سکتی کہ میں نے اپنی کتنی خوبصورت تصاویر سوشل میڈیا پر پوسٹ کیں اور خوب پیسہ کمایا۔انہوں نے کہا کہ اسی لئے میرا مقصد اپنے کام اور سوشل میڈیا کے ذریعے معاشرے میں مثبت سوچ کو پھیلانا اور لوگوں کو خوش کرنا ہے۔ ہانیہ عامر نے کہا کہ موجودہ حالات میں سب لوگ کسی نہ کسی وجہ سے پریشان اور ذہنی دبائو کا شکار ہیں لیکن ذہنی صحت بارے بات کرتے ہوئے کتراتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اسی لئے میں سوشل میڈیا پر بات کرتی ہوں تاکہ لوگوں کو پتہ ہو کہ ذہنی بیماریوں کا بھی علاج موجود ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)


ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…