بدھ‬‮ ، 15 اپریل‬‮ 2026 

شروع سے آخر تک دیکھنے پر مجبور کردینے والی بہترین فلم

datetime 5  دسمبر‬‮  2022 |

نیویارک (این این آئی)اگر آپ کو ذہنوں کو الجھا دینے والی ایکشن تھرلر و سائنس فکشن فلمیں پسند ہیں تو 2011 کی یہ فلم ضرور پسند آئے گی۔ڈائریکٹر ڈنکن جونز نے 2009 میں فلم’’مون‘‘ کے ساتھ اپنا ڈیبیو کیا تھا اور یہ فلم بھی اپنی نوعیت کی منفرد کہانی پر مبنی تھی مگر وہ ہر فرد کی پسند کے مطابق نہیں تھی۔

اس کے بعد 2011 میں ان کی فلم سورس کوڈ ریلیز ہوئی جس میں منفرد سائنس فکشن تصور پیش کیا گیا مگر اس کے ساتھ ساتھ کہانی میں تجسس اور عام ناظرین کی دلچسپی کا بھی پورا خیال رکھا گیا۔اس کی کہانی ٹائم لوپ کے گرد گھومتی ہے۔ٹائم لوپ ایک ایسا تصور ہے جس کے مطابق کوئی فرد اس میں پھنس جائے تو اسے مخصوص وقت (جیسے چند منٹ، چند گھنٹے یا ایک دن) یا تجربے سے بار بار گزرنا پڑتا ہے۔فلم میں مرکزی کردار Jake Gyllenhaal نے ادا کیا جبکہ Michelle Monaghan, Vera Farmigaاور جیفری رائٹ بھی اہم کرداروں میں نظر آئے۔اس فلم کی کہانی کولٹر اسٹیونز کے گرد گھومتی ہے جو ایک امریکی فوج کا ہیلی کاپٹر پائلٹ ہوتا ہے، جس کا ہیلی کاپٹر افغانستان میں گرجاتا ہے۔جب وہ ہوش میں آتا ہے تو ایک پرہجوم ٹرین میں سفر کررہا ہوتا ہے اور شیشے میں اس کا عکس مختلف چہرہ ظاہر کرتا ہے اور نام بھی Fentress Seanہوتا ہے۔اس کے سامنے کرسٹینا بیٹھی ہوتی ہے جو باتوں سے اس کی دوست نظر آتی ہے مگر کولٹر کو سمجھ نہیں آتا کہ اس کے ساتھ کیا ہورہا ہے۔8 منٹ بعد ایک دھماکا ہوتا ہے جس کے بعد کولٹر خود کو نیم تاریک کاک پٹ میں پاتا ہے اور ائیرفورس کیپٹن گڈون اس کی کمانڈنگ آفیسر کے طور پر کام کررہی ہوتی ہے۔گڈون اسے بتاتی ہے کہ وہ ٹرین میں دھماکا کرنے والے ملزم کو ڈھونڈنے کے مشن پر ہے اور ایک بار پھر اسے واپس بھیج دیتی ہے۔اس بار بھی کولٹر کی آنکھ ٹرین میں کھلتی ہے اور اسے لگتا ہے کہ یہ ایک سمولیشن ٹیسٹ ہے،

اس بار وہ بم ڈھونڈ لیتا ہے مگر بمبار کو شناخت نہیں کرپاتا۔8 منٹ بعد دھماکے سے ایک بار پھر نیم تاریک کاک پٹ (جسے وہ کیپسول کہتا ہے) میں پہنچ جاتا ہے اور پھر اسے علم ہوتا ہے کہ ٹرین میں یہ دھماکا اسی صبح ہوا تھا اور اس کے بعد

مزید دھماکے ہونے تھے۔ویسے تو فلم میں شکاگو کو دکھایا گیا ہے مگر اس کی عکسبندی کینیڈا کے شہر مونٹریال میں ہوئی۔کرسٹینا کے سابق بوائے فرینڈ کی کالر آئی ڈی فوٹو کے لیے ڈائریکٹر کی تصویر استعمال کی گئی۔فلم کا بجٹ 32 ملین ڈالرز تھا اور اس نے 147 ملین ڈالرز کمائے

مگر ڈائریکٹر کے مطابق فلم سے کوئی منافع نہیں ہوا۔ایک گھنٹے 33 منٹ کے ساتھ یہ ڈائریکٹر کی سب سے مختصر فلم ہے۔ایک دلچسپ بات یہ ہے کہ کولٹر نے کسی بھی چکر میں ٹرین میں پورے 8 منٹ نہیں گزارے بلکہ سب سے طویل وقت 7 منٹ اور 30 سیکنڈ کا تھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ایران کی سب سے بڑی کام یابی


وہ آرٹسٹ تھی اور اس کا نام مرینا ابراموویک (Marina…

لفظ اضافی ہوتے ہیں

نیویارک کے اطالوی ریستوران میں نوجوان لڑکی نے…

ایرانی لوگ کیسے ہیں(آخری حصہ)

ایران کا دوسرا کمال سیاحت ہے‘ میں 120 ملک گھوم…

ایرانی لوگ کیسے ہیں(پہلا حصہ)

جون 2025ء تک ایران میں پاکستان کا تاثر اچھا نہیں…

مشہد میں دو دن (آخری حصہ)

ہم اس کے بعد حرم امام رضاؒ کی طرف نکل گئے‘ حضرت…

مشہد میں دو دن

ایران کے سفر کی پہلی تحریک حسین باقری تھے‘ یہ…

ایران کیا تھا اور کیا ہو گیا

پیارے قارئین: ایران محض ایک ملک نہیں ہے یہ پہلی…

ایران کے لیے واحد آپشن

بوروڈینو (Borodino) ماسکو سے ایک سو تیس کلو میٹر دور…

ہیکل سلیمانی

اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…

مذہب کی جنگ(آخری حصہ)

اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…

مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…