ہفتہ‬‮ ، 30 مئی‬‮‬‮ 2026 

شہزادہ چارلس کی تقریر، میگھن کے پرستاروں کی تنقید

datetime 27  جون‬‮  2020 |

لندن (این این آئی)برطانوی شہزادے ہیری کی اہلیہ میگھن مارکل کے پرستاروں نے ہیری کے والد اور برطانوی ولی عہد شہزادہ چارلس کی ایک حالیہ تقریر پر تنقید کی ہے جس  میں انہوں نے زیادہ تر تنوع پر گفتگو کی تھی۔ کلرینس ہائوس نے ایک آن لائن تقریر شیئر کی جوکہ ونڈرش ڈے کے حوالے سے تھی۔ یہ تقریب کیریبئن کے مہاجرین، 1948 میں اپنی آمد کے بعد برطانوی  معیشت میں اپنا حصہ ڈالنے کے

حوالے سے مناتے ہیں۔ تقریر میں شہزادہ چارلس نے برطانیہ میں تنوع کی تعریف کی تھی، ان کا کہنا تھا کہ ہمارے معاشرے میں جو تنوع ہے وہی ہماری عظیم طاقت ہے اور یہ ہمیں اس قدر فوائد پہنچاتا ہے کہ ہم اس پر خوشی مناتے ہیں۔ اسکے تھوڑی ہی دیر بعد پرنس آف ویلز (شہزادہ چارلس کا شاہی خطاب) پر آن لائن تنقید کے تیر برسنا شروع ہوگئے، جس میں ان پر اس حوالے سے تنقید کی جارہی تھی کہ وہ اپنی بہو میگھن مارکل پر برطانوی پریس کی جانب سے جو غیر منصفانہ سلوک روا رکھا جارہا ہے اور انہیں بلاوجہ دبائو کا سامنا ہے اس پر وہ بالکل خاموش ہیں۔ ایک ٹوئٹر صارف نے اس موقع پر تحریر کیا کہ شاہی خاندان کے چند اراکین  اور برٹش میڈیا  کا میگن مارکل کے ساتھ جو رویہ ہے اس پر آپ کیا کہتے ہیں؟ شیشے کے محلوں میں رہنے والے لوگوں کو سنگ باری نہیں کرنا چاہئے۔ایک اور صارف کا کہنا تھا کہ یہ صرف خالی خولی الفاظ ہیں، جو آپ کی جانب سے آرہے ہیں، میں نہیں سمجھتا کہ آپ ان پر یقین بھی رکھتے ہیں، اگر ایسا ہوتا تو آپ برٹش میڈیا کی جانب سے اپنی بہو میگھن جوکہ آپ کے خاندان میں تنوع کی واحد مثال ہیں، کو مصلوب کرنے پر خاموش نہ رہتے۔ ایک اور شخص نے تحریر کیا کہ شہزادہ چارلس اپنے خاندان میں تنوع کو عظیم طاقت نہیں سمجھتے اور نہ ہی وہ اسے سلیبریٹ کرتے ہیں، یہ صرف لفظی باتیں اور افسوسناک ہے۔ ایک تبصرے میں کہا گیا کہ ہوسکتا ہے کہ چند روز بعد شاہی خاندان کا کوئی فرد کسی خوبصورت افریقن امریکن  سے شادی کرلے اور اسکے بعد خاندان اس فرد کے ساتھ جب اسے نسلی طور پر نشانہ بنایا جارہا ہو متحد ہوکر کھڑے ہوجائیں اور اس کی مدد کریں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



لکڑی کا تختہ


خوش قسمتی اور بدقسمتی میںلکڑی اور لوہے جیسا فرق…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…