پیر‬‮ ، 01 جون‬‮ 2026 

ہم سب لوگ ہی طارق عزیز کا پروگرام دیکھتے بڑے ہوئے،چند دن پہلے نیلام گھر کی ویڈیو دیکھ رہا تھا کہ۔۔۔صارفین صدمے کا شکار

datetime 17  جون‬‮  2020 |

لاہور ( آن لائن ) پاکستان کے معروف ٹی وی میزبان طارق عزیز 84 برس کی عمر میں انتقال کر گئے ہیں۔ معروف ٹی وی میزبان چند دنوں سے علیل تھے، اچانک طبیعت خراب ہونے پر نجی اسپتال لے جایا گیا جہاں وہ جانبر نہ ہوسکے۔پی ٹی وی کا خبر نامہ پڑھنے والے پہلے اینکر ہونے کا اعزاز بھی طارق عزیز کو حاصل ہے۔

انہوں نے اپنے پروگرام میں دیکھتی آنکھوں اور سنتے کانوں کو طارق عزیز کا سلام جیسے ڈائیلاگ عالمی شہرت پائی۔طارق عزیز کے یہ الفاظ لوگوں کے دلوں اور ذہنوں میں رچ بس گئے ہیں۔ان کے انتقال کی اچانک خبر سے ان کے مداحوں کو شدید صدمہ پہنچا ہے۔سوشل میڈیا پر صارفین ان کے انتقال پر افسوس کا اظہار کر رہے ہیں اور ان کے تاریخی ڈائیلاگس کو بھی یاد کر رہے ہیں۔ایک صارف نے طارق عزیز کی پرانی تصاویر شئیر کرتے ہوئے ٹویٹ کیا کہ تقریبا ہم سب لوگ ہی طارق عزیز کا پروگرام دیکھتے ہوئے بڑے ہوئے ہیں۔ایک صارف نے کہا کہ کچھ دن پہلے نیلام گھر کی ویڈیو دیکھ رہا تھا،کوئی میزبان کبھی بھی ان کی سطح پر نہیں پہنچ سکتا،وہ شو کے اختتام پر “پاکستان زندہ باد” کا نعرہ لگاتے تھے۔طارق عزیز کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ایک صارف نے کہا کہ متاثر کن الفاظ اور پرکشش سامعین رکھنے والے انتہائی ذہین آدمی جو پی ٹی وی پر 1974 میں نشر ہونے والے “نیلام گھر” کے میزبان تھے،اس دنیا سے رخصت ہو گئے،ایک صارف نے کہا کہ میری بچپن کی یادیں طارق عزیز کے بغیر نامکمل ہیں،ایک صارف نے طارق وزیز کے ڈائیلاگ دیکھتی آنکھوں، سنتے کانوں کو طارق عزیز کا سلام پہنچے کو یاد کرتے ہوئے ٹویٹ کیا کہ اس کے علاوہ بھی کئی صارفین نے طارق عزیز کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ وہ ہم سب کی زندگی کا حصہ رہے ہیں،ان کے انتقال سے جو خلا پیدا ہوا ہے وہ کبھی پر نہیں ہو سکتا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



لکڑی کا تختہ


خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…