ہفتہ‬‮ ، 29 اگست‬‮ 2026 

ڈرامہ ارطغرل نے پاکستانیوں کو کرونا وائرس بھلا دیا، اسلامی تاریخ کے رخشندہ باب کی مثالی ڈرامائی تشکیل نے پاکستانیوں کو اپنا گرویدہ بنا لیا، معروف صحافی عوامی رائے سامنے لے آئے

datetime 17  مئی‬‮  2020 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) پاکستان میں ہر طرف کرونا کا ذکر ہے لیکن کرونا سے بھی زیادہ ترک ڈرامہ ارطغرل غازی کا ڈنکا بج رہا ہے۔ یہ بات معروف صحافی کامران خان نے ایک نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں کہی۔ انہوں نے کہا کہ ڈرامہ ہر گزرتے دن کے ساتھ مقبولیت کے نئے ریکارڈ بنا رہا ہے، کروڑوں پاکستانی کرونا بھول کر اب ارطغرل کے پیچ و خم میں گم ہو چکے ہیں۔ یکم رمضان سے اردو زبان میں ڈب کرکے پیش کئے جانے والے ڈرامے کو بہت سراہا جا رہا ہے۔

بارہویں اور تیرہویں صدی عیسوی کے حالات پر مبنی ڈرامائی تشکیل دی گئی ہے جو آگے چل کر سلطنت عثمانیہ کے قیام کا باعث بنے۔ اس ڈرامے میں اسلامی تاریخ کے رخشندہ باب کی مثالی اور ڈرامائی تشکیل کی گئی ہے، ڈرامے میں دکھایا گیا ہے کہ ارطغرل نامی بہادر مسلمان سپہ سالار نے کس طرح سے منگولوں اور سلیبیوں کا دلیری سے مقابلہ کیا اور اپنی فتوحات کا سلسلہ برقرار رکھا۔ ڈرامہ خلافت عثمانیہ کی اسلامی تاریخ، تہذیب، تمدن اور روایات پر مبنی ہے۔ وزیراعظم عمران خان نے اس خواہش کا اظہار کیا تھا کہ اس ڈرامے کو اردو میں ترجمہ کرکے پاکستان میں نشر کیا جائے کہ ہماری قوم، ہمارے نوجوانوں کو اسلامی تاریخ کا علم ہو سکے۔ اسلامی تاریخ کے رخشندہ باب کی مثالی ڈرامائی تشکیل نے پاکستانیوں کو اپنا گرویدہ بنا لیا ہے۔معروف صحافی کامران خان نے اس ڈرامے پر پورا پروگرام ہی کر ڈالا، پروگرام میں ڈرامے کے حوالے سے دکھائی جانے والی رپورٹ میں عوام نے رائے دی کہ ڈرامہ بہترین ہے جس سے اسلامی تاریخ جاننے کا موقع مل رہاہے کیونکہ ہم تو تاریخ پڑھتے نہیں ہیں۔ کسی نے اپنی رائے دیتے ہوئے کہا کہ ہمارے بھی ایسے حکمران ہونے چاہئیں تو کسی نے کہا صرف لیڈرز کو نہیں پوری قوم کو سبق سیکھنے کی ضرورت ہے اور پاکستان میں ایسے ڈرامے بننے چاہئیں تاکہ بچوں کو پتا چلے کہ بہادری کسے کہتے ہیں۔چھوٹے بڑے تمام بچوں کو یہ ڈرامہ دیکھنا چاہیے، ڈرامے پر بولتے ہوئے کہا گیا کہ ہماری آنے والی نسلوں کو بھی پتا ہو ہمارے ہیروز نے آخر کیسے بہادری دکھائی ہے۔پاکستان میں یوٹیوب چینل پر اس ڈرامے کی پہلی قسط کو ایک کروڑ ساٹھ لاکھ سے زائد بار دیکھا گیا ہے جو ایک ریکارڈ تعداد ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…