ہفتہ‬‮ ، 29 اگست‬‮ 2026 

قطرامریکی تعلیمی نظام پر کیسے اثر انداز ہوتا رہا ہے؟ چونکا دینے والے انکشافات

datetime 17  مئی‬‮  2020 |

واشنگٹن (این این آئی)قطری حکومت امریکی نظام تعلیم کو دوحا کے حق میں استعمال کرنے ، امریکی تعلیمی نظام میں خفیہ طورپر اپنا اثرو رسوخ بڑھا کر دوحا کے حق میں پروپیگنڈہ کرانے کے لیے اربوں ڈالر کی رقم خرچ کرتا رہا ہے۔ حال ہی میں سامنے آنے والی دستاویزات سے پتا چلا ہے کہ قطر نے امریکی تعلیمی نظام میں نقب لگا کر اسے اپنے حق میں استعمال کرنے کے لیے پانی کی طرح پیسہ بہایا۔

امریکی محکمہ خارجہ کے ماہرین، تحقیق کاروں اور وکلاء کی طرف سے ایک میمورینڈم کی تفصیلات امریکی خبار کو ارسال کی گئی ہیں جن میں حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ قطر کی طرف سے امریکی تعلیمی نظام پر اثر انداز ہونے سے متعلق سامنے آنے والے واقعات اور اعدادو شمار کی جامع تحقیقات کرے۔اخبار کے مطابق قطری فاؤنڈیشن ’’کیو ایف‘‘ قطری حکومت کا ایک سرکاری امدادی ادارہ ہے ہے۔ قطر فائونڈیشن دوحا کے مفادات کے حصول اور فروغ دینے کا ذمہ داری سمجھا جاتا ہے۔ اس تنظیم نے سنہ 2012ء کے بعد سے امریکا کی 28 یونیورسٹیوں میں تعلیمی اقدامات کے لیے ایک فنڈ قائم کیا جس میں کم از کم 1.5 ارب ڈالر خرچ کیے گئے ہیں۔ امریکا میں تعلیمی نظام پر خرچ کرنے کا یہ غیرمعمولی فنڈ ہے اور قطر نے کسی دوسرے ملک میں کسی بھی دوسرے شعبے میں اس عرصے میں اتنی زیادہ رقم صرف نہیں کی ہے۔ امریکی تعلیم ، لایئر پروجیکٹ کے تفتیش کاروں ، امریکا میں مقیم لاء فرموں اور قانونی تحقیقات کے ایک گروپ نے قطر کے ساتھ امریکی جامعات کیمالی تعلقات کے بارے میں معلومات کے حصول کے لیے درخواستیں دائر کرنے کی اپیل کی گئی ہے۔امریکی یونیورسٹیوں کے لیے غیر ملکی مالی اعانت ایک تشویش کا باعث ہے ، کیوں کہ متعدد ممالک جیسے قطر ، روس اور چین نے تعلیمی اداروں کے بجٹ میں اربوں ڈالر کی رقم کی صرف کی ہے۔

ان ممالک کی طرف سے دنیا کے کئی دوسرے خطوں میں سال 2019ء کے دوران اربوں ڈالر تعلیمی نظام پر اثرانداز ہونے کے لیے لگائے گئے۔امریکی محکمہ تعلیم کے مطابق بہت سے اسکولوں نے غیر ملکی فنڈز میں 1.3 ارب ڈالر سے زیادہ کی رقم کے حصول کا ذریعہ ظاہر نہیں کیا۔ بلا شبہ یہ رقم قطر فائونڈیشن جیسے اداروں کی طرف سے امریکی تعلیمی اداروں پر اثرا انداز ہونے کے لیے فراہم کی گئی ہے۔امریکا کی Lawfare فرم کی تحقیقات کی تفصیلات صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کو بھی ارسال کی گئی ہیں۔ان میں انکشاف کیاگیا ہیکہ قطر نے امریکی تعلیمی نظام اور میڈیا میں مداخلت کے لیے پیسے کا استعمال کیا ہے۔

امریکی یونیورسٹیوں اور پرائمری اور سیکنڈری اسکولوں کے اساتذہ کے لیے قطر فاؤنڈیشن اور قطر انٹرنیشنل فاؤنڈیشن کے تعاون سے مالی اعانت اور اثرانداز ہونے کے عمل نے انہیں قطری حکومت کے اصل ایجنٹوں میں تبدیل کردیا ہے۔ قطر ان تعلیمی اداروںپر میں اپنے سیاسی رجحانات کی منتقلی اور ان کو فروغ دینے سمیت دیگر ذرایع کا استعمال کیا گیا۔کچھ بڑی یونیورسٹیوں نے بھی اس منصوبے کے تفتیش کاروں کو قطر کے ساتھ اپنے معاشی تعلقات کے بارے میں تفصیلی معلومات فراہم کرنے سے انکار کردیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ معاملے کے تفتیش کاروںنے ٹرمپ انتظامیہ سے ان اسکولوں ، کالجوں اور یونیورسٹیوں ، جن میں نارتھ کیرولائنا یونیورسٹی اور ڈیوک یونیورسٹی شامل ہیں کی قطر فائونڈیشن کیساتھ لین دین کی تفصیلات سامنے لانے کے احکامات کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…