منگل‬‮ ، 28 جولائی‬‮ 2026 

میڈیا کے سامنے آنا اور اپنی تشہیر کرنا اچھا نہیں لگتا : گلوکار عاطف اسلم

datetime 4  دسمبر‬‮  2018 |

کراچی (این این آئی)’’دل دیاں گلاں‘‘ کچھ اس طرح، عادت، تو جانے نا، میں رنگ شربتوں کا، دیکھتے دیکھتے اور بے انتہا‘ جیسے گانوں سے دنیا بھر میں اپنے کروڑوں مداح بنانے والے پاکستانی گلوکار عاطف اسلم کو میڈیا پر کم دیکھا جاتا ہے۔اگرچہ وہ اپنے گانوں اور موسیقی کی وجہ سے لوگوں کے دلوں پر چھائے رہتے ہیں، تاہم انہیں میڈیا کو بھی کم انٹرویوز دیتے ہوئے دیکھا جاتا ہے۔

ان کے مداح جاننا چاہتے ہیں کہ عاطف اسلم بالآخر دیگر گلوکاروں اور شخصیات کی طرح میڈیا کے سامنے کم کیوں آتے ہیں اور وہ انٹرویوز کیوں نہیں دیتے۔تاہم اب خود انہوں نے اس حوالے سے وضاحت کی ہے کہ وہ کیوں میڈیا کے سامنے کم آتے ہیں اور وہ انٹریوز کیوں نہیں دیتے۔’اسپیک یوئر ہارٹ ود ثمینہ پیرزادہ‘ میں بات کرتے ہوئے عاطف اسلم نے بتایا کہ انہیں میڈیا کے سامنے آنا اور اپنی تشہیر کرنا اچھا نہیں لگتا اور نہ ہی وہ اپنے حوالے سے ہونے والی چہ مگوئیوں پر صفائی دینے کے عادی ہیں۔عاطف اسلم نے ماضی کا قصہ یاد کرتے ہوئے بتایا کہ جب کچھ ذاتی وجوہات کی بناء پر انہوں نے میوزیکل بینڈ ’جل‘ کے ساتھ کام کرنا چھوڑ دیا تھا تو میڈیا نے ان کے خلاف غلط باتیں لکھی تھیں۔گلوکار نے بتایا کہ اس وقت تمام اخبارات اور میگزین نے یہی لکھا کہ میوزیکل بینڈ میری وجہ سے تحلیل ہوا ہے اور میری ہی غلطی ہے، تاہم انہوں نے یہ خبریں پڑھنے کے باوجود کچھ نہیں بولا۔عاطف اسلم نے لوگوں کے رویوں پر بات کرتے ہوئے کہا کہ انہیں سب سے زیادہ نفرت لوگوں کی رائے سے ہوتی ہے، جب کوئی کسی کے لیے رائے دیتا ہے تو یہ خیال تک نہیں کرتے کہ ان کی رائے سے کسی کی شخصیت کس قدر متاثر ہوگی۔انہوں نے ایک مثال دیتے ہوئے بتایا کہ حال ہی میں ایک نوجوان لڑکی نے لوگوں کی رائے اور خیالات کے باعث ہی خودکشی کی۔تاجدار حرم جیسے کلاموں سے لوگوں کا دل جیتنے والے گلوکار کا کہنا تھا کہ انہیں زندگی میں سب سے بڑی خوشی اس وقت ہوئی، جب کہ عابدہ پروین نے انہیں بلا کر کہا کہ وہ ان کے ساتھ پرفارمنس کرنا چاہتی ہیں۔عاطف اسلم کے مطابق وہ اس خوشی کو لفظوں میں بیان نہیں کرسکتے، جب عابدہ پروین نے ان سے ایک ساتھ گانے کے لیے کہا۔ ان کا کہنا تھا کہ عابدہ پروین بہت بڑی شخصیت ہیں اور وہ ان کا بہت احترام کرتے ہیں۔گلوکار نے بتایا کہ وہ عابدہ پروین کے لیے گاڑی کا دروازہ کھولتے تھے، تاہم انہوں نے انہیں منع کردیا اور کہا کہ کسی بھی شخص کے لیے احترام اور عزت دل میں ہوتا ہے۔



کالم



ہمارا امیرالعظیم


امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…

وراثت

بنوں میں دو بھائی رہتے تھے‘ والد زمین دار اور…

ووزی ناں (Vozinha)

وہ بچپن سے فٹ بال کھیل رہا تھا‘ والد کا انتقال…

چین جائیں

چین ڈیڑھ ارب لوگوں کا ملک ہے‘ دنیا کی ایک چوتھائی…