ہفتہ‬‮ ، 06 جون‬‮ 2026 

71کی جنگ کے بعد کشمیر پاکستان کے ہاتھ سے نکلتا جا رہا تھا مگر پھر ذوالفقار علی بھٹو نے پانسہ پلٹ دیا،بھا رتی خفیہ فائلزمیں درج ذوالفقار علی بھٹو کا ایسا کارنامہ کہ بھارت آج بھی اس پر پیچ و تاب کھاتا ہے

datetime 4  اپریل‬‮  2019 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)پاکستان کے معروف صحافی اور کئی کتابوں کے مصنف سہیل وڑائچ نے اپنے ایک کالم میں بھارتی صحافی کلدیپ نائر کا ذکر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ کلدیپ نائر کو بھارتی فارن آفس کی خفیہ فائلوں تک رسائی حاصل تھی اور انہوں نے اپنی کتاب میں ان فائلوں میں موجود کئی راز آشکار کئے ہیں۔ سہیل وڑائچ لکھتے ہیں کہ مشرقی پاکستان کی

علیحدگی کے حوالے سے کلدیپ نائر نے انکشاف کیا کہ یحییٰ خان اور شیخ مجیب میں یہ طے ہو گیا تھا کہ مغربی پاکستان اسمبلی اور مشرقی پاکستان اسمبلی کی بنیاد پر دو کمیٹیاں بنائی جائیں جو الگ الگ آئینی مسودے تیار کر یں ذوالفقار علی بھٹو اسے پاکستان کی تقسیم سمجھتے ہوئے، ماننے پر تیار نہ ہوئے۔اسی طرح کلدیپ نائر نے شملہ معاہدہ کے حوالے سے بھی یہ راز ظاہر کیا کہ آخری وقت ذوالفقار علی بھٹو نے اپنے قلم سے مسودے میں اضافہ کیا مسودے میں تحریر تھا کہ دونوں ملکوں کی افواج 16دسمبر 1971 کی پوزیشنز پر لائن آف کنٹرول پر چلی جائیں گی۔ بھٹو صاحب نے قلم سے اضافہ کیا’’بغیر اس موقف کو تبدیل کئے جو دونوں ملکوں کا پہلے سے طے شدہ موقف ہے‘‘ ظاہر ہے اس کا مطلب یہ تھا کہ پاکستان کو مقبوضہ کشمیر پر اپنا موقف رکھنے کا حق شملہ معاہدے کے بعد بھی حاصل رہے گا۔دریں اثنا سہیل وڑائچ ایک جگہ مزید لکھتے ہیں کہ اپنے صحافیانہ تجسس کی وجہ سے کلدیپ نائر نے بہت سے سربستہ رازخفیہ فائلوں سے نکال کر لوگوں کے سامنے رکھ دئیے۔معاہدہ تاشقند کے حوالے سے بھٹو جس خفیہ معاہدےیاشق کی بات کرتے تھے وہ کلدیپ نائر نے بھارتی فارن آفس کی فائلوں سے نکا ل کر اپنی کتاب میں شائع کر دی۔ یہ دراصل صدر ایوب خان کے ہاتھ سے لکھے ہوئے یہ الفاظ تھے’’بغیر طاقت کے استعمال کے ‘‘ جو کہ پہلے سے ٹائپ شدہ معاہدے میں

بھارتی وزیر اعظم لال بہادر شاستری کے کہنے پر شامل کئے گئے تھے۔کلدیپ نائر نے انکشاف کیا کہ جب شاستری نے اپنی بیوی کوتاشقند سے دہلی فون کیا تو اس نے معاہدے پر دستخط کرنے کے حوالے سے منفی رد عمل کا اظہار کیا اور شاستری جی کو یہ بھی بتا دیا کہ بھارت میں لوگ بہت ناراض ہیں بس اسی دبائو سے شاستری کا ہارٹ فیل ہو گیا اور وہ تاشقند میں ہی وفات پا گئے۔ کلدیپ نائر نے اپنی کتاب میں اس بات کا اشارہ بھی دیا گیاکہ شاستری کو روسی خفیہ ایجنسی نے زہر دیا تاکہ روس نواز اندرا گاندھی کو بھارت میں بر سر اقتدار لایا جائے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



کوبا مایان


کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون (Cancun) میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…