منگل‬‮ ، 27 اکتوبر‬‮ 2026 

حکومت نے تمام صوبوں کی مشاورت سے گندم کی فی من قیمت مقرر کر دی

datetime 26  اکتوبر‬‮  2026 |

اسلام آباد(این این آئی)وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق رانا تنویر حسین نے کہا ہے کہ وفاقی حکومت نے تقریباً چار دہائیوں کے بعد جامع قومی گندم پالیسی تشکیل دی ہے،

جو ملک میں غذائی تحفظ کو یقینی بنانے، کسانوں کے مفادات کے تحفظ اور گندم کی منڈی میں استحکام پیدا کرنے کی جانب ایک اہم پیش رفت ہے۔پاکستان کسان اتحاد کے صدر خالد محمود کھوکھر کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے اعلان کیا کہ حکومت نے تمام صوبائی حکومتوں کے ساتھ تفصیلی مشاورت کے بعد گندم کی قیمت 4500 روپے فی من مقرر کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ فیصلہ قومی اتفاقِ رائے سے کیا گیا ہے، جس کا بنیادی مقصد کسانوں کے مفادات کا تحفظ اور گندم کی منڈی میں قیمتوں کو مستحکم رکھنا ہے۔وفاقی وزیر نے کہا کہ وزیراعظم محمد شہباز شریف کی قیادت میں وفاقی حکومت زرعی پیداوار میں اضافے، منڈیوں کے نظام کو بہتر بنانے اور ملک بھر میں اشیائے خورونوش کی بلاتعطل فراہمی یقینی بنانے کے لیے جامع اقدامات کر رہی ہے۔حکومت کی غذائی تحفظ کی حکمتِ عملی پر روشنی ڈالتے ہوئے رانا تنویر حسین نے اعلان کیا کہ رواں سال گندم کے 60 لاکھ میٹرک ٹن تک اسٹریٹجک ذخائر برقرار رکھے جائیں گے تاکہ ملک میں گندم کی مسلسل دستیابی یقینی بنائی جا سکے اور منڈی میں کسی بھی ممکنہ بحران یا غیر متوقع صورتحال سے مؤثر انداز میں نمٹا جا سکے۔انہوں نے واضح کیا کہ رواں سال پاکستان میں گندم کی کوئی قلت نہیں ہوگی کیونکہ حکومت نے ملکی ضروریات پوری کرنے کے لیے مناسب انتظامات کر رکھے ہیں۔وفاقی وزیر نے بتایا کہ درآمدی گندم کی لاگت بھی تقریباً 4500 روپے فی من بنتی ہے،

لہٰذا حکومت کی اولین ترجیح مقامی کسانوں سے گندم کی خریداری ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت غیر ضروری درآمدات کے بجائے اپنے کسانوں کی حوصلہ افزائی اور ان کے معاشی مفادات کے تحفظ کو ترجیح دے گی۔گندم کی فراہمی سے متعلق تفصیلات بتاتے ہوئے رانا تنویر حسین نے کہا کہ پاسکو کے ذخائر سے صوبوں کو 13 لاکھ میٹرک ٹن سے زائد گندم فراہم کی جا چکی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ صوبائی حکومتوں کی طلب اور ضروریات کے مطابق ساڑھے پانچ لاکھ میٹرک ٹن تک گندم درآمد کرنے کے انتظامات بھی کیے جا سکتے ہیں۔گندم کی قیمتوں میں حالیہ اضافے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ قیمتوں میں موجودہ اضافہ مصنوعی ہے اور بعض عناصر کی جانب سے منڈی میں قیمتوں پر اثرانداز ہونے کی کوششوں کا نتیجہ ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ملک میں گندم کے وافر ذخائر موجود ہیں اور توقع ظاہر کی کہ آئندہ چند روز میں قیمتیں معمول پر آ جائیں گی۔انہوں نے کہا کہ حکومت گندم کی منڈی کی صورتحال کی مسلسل نگرانی کر رہی ہے اور مصنوعی قلت، ذخیرہ اندوزی، قیاس آرائی پر مبنی تجارتی سرگرمیوں اور بلاجواز قیمتوں میں اضافے کی روک تھام کے لیے ضروری اقدامات کیے جائیں گے۔

زرعی شعبے میں وسیع تر اصلاحات کا ذکر کرتے ہوئے رانا تنویر حسین نے کہا کہ حکومت نے پاکستان کے زرعی شعبے کو جدید خطوط پر استوار کرنے، فصلوں کی پیداوار بڑھانے اور جدید ٹیکنالوجی کے فروغ کے لیے بیج، زیتون اور بائیوٹیکنالوجی سے متعلق پالیسیاں بھی تشکیل دی ہیں۔وفاقی وزیر نے اس بات پر زور دیا کہ معیاری بیجوں کی دستیابی، جدید زرعی ٹیکنالوجی کا فروغ اور مؤثر نگرانی و ضابطہ کاری کا نظام زرعی پیداوار میں اضافے اور کسانوں کی پیداواری لاگت کم کرنے کے لیے ناگزیر ہے۔انہوں نے کہا کہ زراعت پاکستان کی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے اور پائیدار زرعی ترقی ملکی معاشی استحکام، دیہی خوشحالی اور طویل المدتی غذائی تحفظ کے لیے بنیادی اہمیت کی حامل ہے۔اس موقع پر پاکستان کسان اتحاد کے صدر خالد محمود کھوکھر نے گندم کی قیمت 4500 روپے فی من مقرر کرنے کے حکومتی فیصلے کو سراہا۔ انہوں نے تمام صوبوں اور متعلقہ فریقین کے ساتھ مشاورت کے عمل کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ کسانوں کو ان کی پیداوار کی مناسب اور مستحکم قیمت کی فراہمی زرعی شعبے کے لیے اہمیت رکھتی ہے۔وفاقی وزیر رانا تنویر حسین نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وفاقی حکومت قومی گندم پالیسی پر مؤثر عملدرآمد، کسانوں کے مفادات کے تحفظ اور پاکستان کی زرعی معیشت کو مضبوط بنانے کے لیے صوبائی حکومتوں، کسان تنظیموں اور دیگر متعلقہ اداروں کے ساتھ قریبی رابطہ اور تعاون جاری رکھے گی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



مرنے کے علاوہ


  نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ…

درگزر کیا کریں

  نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ…

بارہ منٹ کا کھیل

  نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ…

زندگی کا ذائقہ

یونان کے کسی بادشاہ نے وزیر سے ناراض ہو کر اسے…

عمران خان بھٹو(آخری حصہ)

  نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ…

عمران خان بھٹو(دوسرا حصہ)

  نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ…

 عمران خان بھٹو

  نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(آخری حصہ)

  نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(گیارہواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دسواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(نواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…