پیر‬‮ ، 26 اکتوبر‬‮ 2026 

انتخابات کے بعد ایران پر قیامت خیز حملوں کا خدشہ، ٹرمپ کی نئی جنگی تیاریوں کا انکشاف

datetime 26  اکتوبر‬‮  2026 |

واشنگٹن (نیوز ڈیسک)امریکی جریدے بلومبرگ نے امکان ظاہر کیا ہے کہ اسرائیل اور امریکا میں انتخابات کے مراحل مکمل ہونے کے بعد صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے خلاف بڑے پیمانے پر فوجی کارروائی کا حکم دے سکتے ہیں۔

رپورٹ میں مشرق وسطیٰ میں دوبارہ جنگ شدت اختیار کرنے کے خدشات اور امریکی فوج کی بڑھتی ہوئی سرگرمیوں کو اہم قرار دیا گیا ہے۔بلومبرگ کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ ایران پر مزید حملوں کے مختلف امکانات کا جائزہ لے رہی ہے، تاہم کسی نئی کارروائی کے حتمی فیصلے یا اس کے وقت کے بارے میں باضابطہ تصدیق نہیں کی گئی۔ خطے میں امریکی فوجی تیاریوں اور اضافی عسکری وسائل کی تعیناتی نے بھی کشیدگی میں اضافے کے خدشات کو بڑھا دیا ہے۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اسرائیل میں 27 اکتوبر کو انتخابات متوقع ہیں، جبکہ امریکا میں 3 نومبر کو وسط مدتی انتخابات ہوں گے۔ امریکی انتخابات میں ایوان نمائندگان کی تمام 435 نشستوں اور سینیٹ کی 35 نشستوں پر مقابلہ ہوگا، اس کے علاوہ 36 ریاستوں میں گورنرز کا انتخاب بھی کیا جائے گا۔بلومبرگ کے تجزیے کے مطابق امریکی وسط مدتی انتخابات سے پہلے ایران کے خلاف نئی فوجی کارروائی کے امکانات نسبتاً محدود دکھائی دیتے ہیں۔ اس کی ایک بڑی وجہ جنگ کے اثرات کے نتیجے میں ایندھن کی قیمتوں اور مہنگائی میں اضافہ ہے، جس سے امریکی شہریوں پر مالی دباؤ بڑھا ہے۔ ان حالات میں صدر ٹرمپ کی ریپبلکن پارٹی کو کانگریس میں اپنی اکثریت برقرار رکھنے کے حوالے سے بھی مشکلات کا سامنا ہوسکتا ہے۔جریدے کی رپورٹ کے مطابق ٹرمپ اس سے قبل مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ کو چند ہفتوں میں ختم ہونے کی توقع ظاہر کر چکے ہیں، تاہم خطے میں امریکی فوج کی نقل و حرکت اور مزید عسکری وسائل کی تعیناتی نے صورتحال کے طویل ہونے کے خدشات پیدا کردیے ہیں۔

رپورٹ میں تیسرے امریکی طیارہ بردار بحری بیڑے اور مزید 10 ہزار میرینز کو خلیجی خطے کی جانب بھیجنے کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔دوسری جانب بلومبرگ نے دعویٰ کیا ہے کہ مشرق وسطیٰ کے بعض امریکی فوجی اڈوں پر تعینات اہلکاروں کی تعداد میں کمی کی گئی ہے۔ ان میں ایسے مقامات بھی شامل ہیں جہاں ایرانی جوابی حملوں کے نتیجے میں بھاری نقصان پہنچنے کی اطلاعات سامنے آئی تھیں۔بروکنگز انسٹی ٹیوٹ سے وابستہ مشرق وسطیٰ کے ایک ماہر کے مطابق موجودہ حالات اس امکان کو ظاہر کرتے ہیں کہ خطے میں دوبارہ جنگ شروع ہوسکتی ہے اور ایران کے خلاف بڑے پیمانے پر فضائی حملے کیے جاسکتے ہیں۔ادھر انٹرنیشنل کرائسس گروپ کے مشرق وسطیٰ کے ماہر علی واعظ نے خبردار کیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو ایران کے ساتھ جنگ کو اپنے سیاسی مسائل سے نمٹنے کا ذریعہ سمجھ سکتے ہیں، تاہم اس حکمت عملی کے نتائج ان کی توقعات کے برعکس بھی نکل سکتے ہیں۔ ان کے مطابق سیاسی مشکلات سے نکلنے کے لیے جنگ کا راستہ اختیار کرنا بالآخر دونوں رہنماؤں کے سیاسی مستقبل کے لیے نقصان دہ ثابت ہونے کا خطرہ رکھتا ہے۔بلومبرگ کی یہ رپورٹ ایسے وقت سامنے آئی ہے جب مشرق وسطیٰ میں فوجی سرگرمیاں، عالمی توانائی کی قیمتیں اور امریکی داخلی سیاست ایک دوسرے پر اثر انداز ہورہی ہیں۔ تاہم ایران کے خلاف کسی نئی بڑی فوجی کارروائی کے آغاز یا اس کے ممکنہ وقت کے حوالے سے تاحال کوئی حتمی اعلان سامنے نہیں آیا۔



کالم



درگزر کیا کریں


  نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ…

بارہ منٹ کا کھیل

  نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ…

زندگی کا ذائقہ

یونان کے کسی بادشاہ نے وزیر سے ناراض ہو کر اسے…

عمران خان بھٹو(آخری حصہ)

  نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ…

عمران خان بھٹو(دوسرا حصہ)

  نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ…

 عمران خان بھٹو

  نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(آخری حصہ)

  نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(گیارہواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دسواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(نواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(آٹھواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…