پیر‬‮ ، 26 اکتوبر‬‮ 2026 

اسٹیٹ بینک کا بڑا فیصلہ، شرح سود اب کتنی ہوگئی؟

datetime 26  اکتوبر‬‮  2026 |

کراچی (این این آئی) اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی زری پالیسی کمیٹی نے پالیسی ریٹ میں 50 بیسس پوائنٹس یعنی 0.5 فیصد اضافہ کرتے ہوئے اسے 12 فیصد مقرر کردیا ہے۔

نئی شرحِ سود کا اطلاق 27 اکتوبر 2026ئ سے ہوگا۔ کمیٹی کے 10 میں سے 9 ارکان نے اس فیصلے کے حق میں رائے دی۔زری پالیسی کمیٹی کے مطابق مشرقِ وسطیٰ میں تنازع کی شدت اور مستقبل قریب میں اس کے حل کے امکانات محدود ہونے کے باعث عالمی منڈی میں توانائی کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار ہیں۔ محتاط زری پالیسی اور مالیاتی نظم و ضبط کے باوجود عالمی حالات کے اثرات ملکی معیشت پر پڑ رہے ہیں، جبکہ جغرافیائی و سیاسی تبدیلیوں نے مہنگائی کے خدشات میں اضافہ کردیا ہے۔کمیٹی نے قرار دیا کہ شرحِ سود میں اضافے کا مقصد مہنگائی کی توقعات کو قابو میں رکھنا، رسدی مسائل کے نتیجے میں قیمتوں پر پڑنے والے اضافی دباؤ کو روکنا اور مہنگائی کو 5 سے 7 فیصد کے مقررہ ہدف کے اندر لانا ہے۔ کمیٹی کے مطابق اقتصادی استحکام کو برقرار رکھنا پائیدار معاشی ترقی کے لیے ضروری ہے۔

زری پالیسی کمیٹی نے اپنے گزشتہ اجلاس کے بعد سامنے آنے والی معاشی صورتِ حال کا جائزہ لیتے ہوئے بتایا کہ زرِمبادلہ کی خریداری کے باعث اسٹیٹ بینک کے ذخائر تقریباً 21.5 ارب ڈالر کی سطح پر مستحکم ہیں، جو تین ماہ کی درآمدات کے لیے کافی ہیں۔ اس دوران عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے ساتھ اسٹاف لیول معاہدہ بھی طے پایا ہے۔کمیٹی کے مطابق تازہ سروے میں صارفین کی جانب سے مہنگائی کی توقعات میں اضافہ دیکھا گیا، جبکہ کاروباری اداروں کی توقعات میں کمی آئی ہے۔ صارفین اور کاروباری اداروں کے اعتماد کے اشاریے بھی کمزور ہوئے ہیں۔ پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس کے نظرِثانی شدہ اعدادوشمار کے مطابق مالی سال 2026ئ میں حقیقی مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کی نمو 3.7 فیصد رہی، جو ابتدائی تخمینے کے قریب ہے۔دوسری جانب مالی سال 2026ـ27ئ کی پہلی سہ ماہی میں فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کی ٹیکس وصولیاں ہدف سے تجاوز کرگئیں۔ کمیٹی نے یہ بھی نشاندہی کی کہ بڑے مرکزی بینکوں نے مہنگائی کے دباؤ کے باعث شرحِ سود میں اضافہ کیا ہے، جبکہ آئی ایم ایف نے عالمی مہنگائی کے تخمینے پر بھی نظرِثانی کی ہے۔

زری پالیسی کمیٹی کے جائزے کے مطابق رواں مالی سال کے آغاز پر معاشی سرگرمیوں میں بتدریج بہتری دیکھی گئی ہے۔ جولائی اور اگست 2026ئ کے دوران بڑے پیمانے کی اشیا سازی (ایل ایس ایم) کی پیداوار میں سالانہ بنیاد پر 1.9 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ مالی سال 2025ـ26ء کی آخری سہ ماہی میں یہ اضافہ صرف 0.4 فیصد تھا۔سیمنٹ اور پٹرولیم مصنوعات کی فروخت، نجی شعبے کو قرضوں کی فراہمی اور پرچیزنگ منیجرز انڈیکس سمیت مختلف اشاریے بھی معاشی سرگرمیوں میں بہتری کی نشاندہی کرتے ہیں۔ کمیٹی کے مطابق خریف کی فصلوں کے ابتدائی سرکاری تخمینوں سے زرعی پیداوار کے امکانات بھی توقعات سے بہتر دکھائی دیتے ہیں، جبکہ خدمات کے شعبے میں بھی بتدریج بہتری کے آثار سامنے آئے ہیں۔کمیٹی نے مالی سال 2026ـ27ء میں حقیقی جی ڈی پی کی نمو 3.5 سے 4.5 فیصد کے سابقہ تخمینے کے اندر رہنے کی توقع ظاہر کی، تاہم خبردار کیا کہ مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی اور ایل نینو کے باعث شدید موسمی حالات اس منظرنامے کے لیے خطرات پیدا کرسکتے ہیں۔رپورٹ کے مطابق مالی سال 2026ـ27ء کی پہلی سہ ماہی میں کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 874 ملین ڈالر ریکارڈ کیا گیا۔ چاول، بلند قدرِ اضافی ٹیکسٹائل صنوعات اور خدمات کی برآمدات میں بہتری آئی، جبکہ بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کی ترسیلاتِ زر مستحکم رہیں۔معاشی سرگرمیوں میں اضافے اور عالمی قیمتوں کے بلند رہنے کے باعث درآمدات میں بھی تیزی دیکھی گئی، خصوصاً غیر توانائی مصنوعات کی درآمدات میں اضافہ ہوا۔ کمیٹی نے توقع ظاہر کی کہ پورے مالی سال کے دوران کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ جی ڈی پی کے صفر سے ایک فیصد کے درمیان رہ سکتا ہے۔

بلند مالی رقوم کی آمد کے نتیجے میں اسٹیٹ بینک کے زرِمبادلہ ذخائر میں مزید اضافے کی بھی توقع ہے، تاہم عالمی اجناس کی قیمتوں، سخت مالیاتی حالات اور رسدی رکاوٹوں کو اہم خطرات قرار دیا گیا ہے۔مالیاتی شعبے کے حوالے سے کمیٹی نے بتایا کہ مالی سال 2026ـ27ء کی پہلی سہ ماہی میں ایف بی آر کی ٹیکس وصولیوں میں سالانہ بنیاد پر 7 فیصد اضافہ ہوا۔ اسٹیٹ بینک کے منافع کی منتقلی اور سرکاری اخراجات پر قابو رکھنے کے باعث مجموعی مالیاتی اور بنیادی توازن کے سرپلس رہنے کا تخمینہ ہے۔تاہم مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی نے مالیاتی انتظام کو مزید مشکل بنا دیا ہے۔ کمیٹی نے ٹیکس دہندگان کی تعداد بڑھانے، محصولات میں اضافے اور ساختی اصلاحات پر تیزی سے عمل درآمد کی ضرورت پر زور دیا۔ اس کے مطابق پائیدار اقتصادی استحکام کے لیے محتاط مالیاتی انتظام ناگزیر ہے۔اسٹیٹ بینک کے مطابق زرِ وسیع (ایم ٹو) کی نمو 28 اگست کو 11.4 فیصد تھی، جو 9 اکتوبر تک بڑھ کر سالانہ بنیاد پر 12.7 فیصد ہوگئی۔ اس اضافے میں اسٹیٹ بینک کے زرِمبادلہ ذخائر میں بہتری اور خالص بیرونی اثاثوں کی نمو کا اہم کردار رہا۔دوسری جانب مالیاتی یکجائی اور بیرونی مالی معاونت کے باعث بینکوں سے حکومتی خالص قرض گیری میں کمی آئی، جس سے نجی شعبے کو قرضوں کی فراہمی کے لیے گنجائش پیدا ہوئی۔ نجی شعبے کے قرضوں میں سالانہ بنیاد پر 14.1 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس میں جاری سرمائے، مستقل سرمایہ کاری اور صارفین کی مالی معاونت کے قرضے شامل ہیں۔ ٹیکسٹائل، تھوک و پرچون تجارت اور زراعت قرض حاصل کرنے والے نمایاں شعبے رہے۔

زری پالیسی کمیٹی کے مطابق مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی اور ملک میں گندم کی رسد میں رکاوٹیں مہنگائی بلند رہنے کی بڑی وجوہات ہیں۔ توانائی، گندم اور گندم سے تیار ہونے والی مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے باعث ستمبر 2026ئ میں عمومی مہنگائی کی شرح سالانہ بنیاد پر 10.3 فیصد تک پہنچ گئی، جو کمیٹی کی توقعات سے زیادہ تھی۔اس دوران قوزی مہنگائی تقریباً 8.4 فیصد کی بلند سطح پر برقرار رہی۔ کمیٹی نے خدشہ ظاہر کیا کہ خوراک اور توانائی کی قیمتوں میں مسلسل اضافے سے عوام اور کاروباری اداروں کی مہنگائی سے متعلق توقعات مزید بڑھ سکتی ہیں، جس کے اثرات بعدازاں قوزی مہنگائی میں بھی منتقل ہوسکتے ہیں۔کمیٹی کے مطابق پالیسی ریٹ میں اضافہ حقیقی شرحِ سود کو مناسب حد تک مثبت رکھنے اور وسط مدت میں مہنگائی کو مقررہ ہدف کے اندر لانے کے لیے ضروری تھا۔ تاہم مہنگائی کا آئندہ منظرنامہ مشرقِ وسطیٰ کی صورتِ حال، عالمی اجناس اور توانائی کی قیمتوں، گندم و اس کی مصنوعات کے نرخوں اور شدید موسمی حالات سے متاثر ہوسکتا ہے۔زری پالیسی کمیٹی نے زور دیا کہ عالمی رسدی دھچکوں کے اثرات سے نمٹنے کے لیے بیرونی اور مالیاتی تحفظات کو مضبوط بنانا ہوگا۔ کمیٹی کے مطابق محتاط زری و مالیاتی پالیسی کے تسلسل اور ساختی اصلاحات پر بروقت عمل درآمد کے ذریعے ہی معاشی استحکام کو برقرار رکھتے ہوئے بلند اور پائیدار اقتصادی نمو کی راہ ہموار کی جاسکتی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



درگزر کیا کریں


  نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ…

بارہ منٹ کا کھیل

  نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ…

زندگی کا ذائقہ

یونان کے کسی بادشاہ نے وزیر سے ناراض ہو کر اسے…

عمران خان بھٹو(آخری حصہ)

  نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ…

عمران خان بھٹو(دوسرا حصہ)

  نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ…

 عمران خان بھٹو

  نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(آخری حصہ)

  نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(گیارہواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دسواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(نواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(آٹھواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…