اسلام آباد (نیوز ڈیسک)فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے بیرونِ ملک سے درآمد یا اپنے ساتھ پاکستان لائے جانے والے موبائل فونز کی رجسٹریشن کے لیے سیلز ٹیکس قسطوں میں ادا کرنے کی سہولت فراہم کر دی ہے،
جس کے تحت اہل شہری اب ٹیکس کی رقم ماہانہ اقساط کی صورت میں جمع کرا سکیں گے۔نجی ٹی وی چینل ’’اے آر وائی نیوز‘‘ کی رپورٹ کے مطابق ایف بی آر نے ڈیوائس آئیڈنٹیفکیشن، رجسٹریشن اینڈ بلاکنگ سسٹم (ڈی آئی آر بی ایس) کے ذریعے موبائل فون رجسٹر کرانے کے طریقہ کار میں آسانی پیدا کرتے ہوئے یہ نئی سہولت متعارف کرائی ہے۔اس مقصد کے لیے ایف بی آر نے کسٹمز جنرل آرڈر نمبر 06 آف 2026 جاری کیا ہے، جس کے ذریعے 2019 کے سابقہ حکم نامے میں تبدیلی کی گئی ہے۔ نئے ضابطے کے تحت اہل افراد رجسٹریشن کی درخواست دیتے وقت سیلز ٹیکس اقساط میں ادا کرنے کا انتخاب کرسکیں گے۔نئے طریقہ کار کے مطابق ٹیکس کی مجموعی رقم کو مالی سال کے اختتام تک باقی رہ جانے والے مہینوں کی تعداد کے مطابق برابر ماہانہ اقساط میں تقسیم کیا جائے گا۔ درخواست جمع کرانے والا مہینہ بھی اس حساب میں شامل ہوگا، تاہم جون میں درآمد کیے جانے والے موبائل فونز کا مکمل سیلز ٹیکس اسی ماہ کی آخری تاریخ تک ادا کرنا ضروری ہوگا۔
ایف بی آر کے مطابق پہلی قسط درخواست جمع کراتے وقت جاری ہونے والی پیمنٹ سلپ آئی ڈی (پی ایس آئی ڈی) کے ذریعے ادا کرنا ہوگی۔ بعد ازاں ہر ماہ کی قسط جمع کرانے کے لیے مقررہ تاریخ پر نئی پی ایس آئی ڈی جاری کی جائے گی۔ اگر کسی مہینے میں متعلقہ تاریخ مقرر نہ ہو تو ادائیگی کی سلپ اس مہینے کے آخری روز جاری کی جائے گی۔حکام نے واضح کیا ہے کہ تمام اقساط کی ادائیگی 30 جون تک مکمل کرنا لازمی ہوگا۔ تاہم صارفین کو یہ سہولت بھی حاصل ہوگی کہ وہ مقررہ مدت ختم ہونے سے پہلے بقایا ٹیکس کی جزوی یا مکمل رقم جمع کراسکیں۔ایف بی آر نے خبردار کیا ہے کہ اگر کوئی صارف مقررہ تاریخ تک قسط ادا نہ کرسکا تو اسے نادہندہ تصور کیا جائے گا۔ ایسی صورت میں متعلقہ موبائل فون کی رجسٹریشن غیر مؤثر قرار دے کر اسے ڈی آئی آر بی ایس کے ذریعے بلاک کردیا جائے گا، جبکہ ٹیکس کی تمام باقی رقم فوری طور پر واجب الادا ہوجائے گی۔مزید برآں، نادہندہ قرار دیے جانے والے صارف کو بقایا ٹیکس کی ادائیگی کے لیے ماہانہ اقساط کی سہولت بھی دستیاب نہیں رہے گی۔



















































