اسلام آباد (نیوز ڈیسک) خیبر پختونخوا پولیس نے شادی بیاہ کی تقریبات میں تصاویر اور ویڈیوز بنانے والے شہریوں کو نجی مواد کے تحفظ کے حوالے سے محتاط رہنے کی ہدایت کی ہے۔
پولیس کی جانب سے جاری کردہ سیکیورٹی ایڈوائزری میں خبردار کیا گیا ہے کہ ذاتی تصاویر اور ویڈیوز کا غلط استعمال کیا جا سکتا ہے۔پولیس کے مطابق شادیوں کا سیزن شروع ہونے کے ساتھ ہی خاندانوں کو چاہیے کہ وہ تقریبات کے دوران بنائی جانے والی تصاویر اور ویڈیوز کی حفاظت پر خصوصی توجہ دیں۔ یہ مواد سوشل میڈیا پر غیر مناسب انداز میں پھیلایا جاسکتا ہے، جبکہ سائبر جرائم پیشہ عناصر اسے بلیک میلنگ کے لیے بھی استعمال کرسکتے ہیں۔ایڈوائزری میں شہریوں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ اہلِ خانہ کی نجی تصاویر اور ویڈیوز بناتے اور دوسروں کے ساتھ شیئر کرتے وقت احتیاط سے کام لیں۔ ذاتی نوعیت کے مواد کو غیر ضروری طور پر دوسروں تک پہنچانے سے گریز کیا جائے تاکہ اس کے غلط استعمال کے امکانات کم کیے جاسکیں۔پولیس حکام نے توجہ دلائی ہے کہ ڈیپ فیک ٹیکنالوجی کے ذریعے تصاویر اور ویڈیوز میں مصنوعی تبدیلیاں کرکے جعلی مواد تیار کیا جاسکتا ہے۔ جرائم پیشہ افراد اس طرح کے مواد کو خاندانوں کو ہراساں کرنے، بلیک میل کرنے یا ذہنی دباؤ میں مبتلا کرنے کے لیے استعمال کرسکتے ہیں۔
حکام کے مطابق سردیوں میں شادیوں کی تقریبات بڑھنے کے باعث ڈیجیٹل سیکیورٹی کے حوالے سے آگاہی مزید اہم ہوجاتی ہے۔ نجی تصاویر یا ویڈیوز منظر عام پر لانے کی دھمکیاں متاثرہ افراد اور ان کے اہلِ خانہ کے لیے شدید پریشانی کا سبب بن سکتی ہیں۔خیبر پختونخوا پولیس نے شہریوں پر زور دیا ہے کہ شادیوں میں فوٹوگرافی اور ویڈیو ریکارڈنگ کے دوران احتیاطی اصولوں کو مدنظر رکھیں، ذاتی مواد کی ترسیل محدود رکھیں اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ ان کی نجی تصاویر اور ویڈیوز غیر متعلقہ افراد کی دسترس میں نہ جائیں۔



















































