اسلام آباد (نیوز ڈیسک)بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو بینکاری ذرائع سے ترسیلات زر بھیجنے کی حوصلہ افزائی کے لیے اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے سالانہ 16 ارب روپے کے نقد انعامات پر مشتمل نئی اسکیم متعارف کرا دی۔
گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد نے اوورسیز پاکستانیوں کے لیے ’’پاسبان ریمیٹینس ریوارڈ‘‘ پروگرام کا افتتاح کیا۔ اسکیم کے تحت باضابطہ بینکاری چینلز کے ذریعے رقم پاکستان بھیجنے والے افراد انعامی قرعہ اندازی میں شامل ہوسکیں گے۔
پاکستان بینکس ایسوسی ایشن (پی بی اے) کے زیر اہتمام شروع کی جانے والی اس اسکیم کے تمام مالی اخراجات بینکنگ انڈسٹری برداشت کرے گی۔ گورنر اسٹیٹ بینک کے مطابق اس پروگرام کے لیے قومی خزانے سے کوئی رقم خرچ نہیں کی جائے گی، جبکہ بنیادی مقصد ترسیلات زر کے لیے قانونی ذرائع کے استعمال کو فروغ دینا ہے۔
پی بی اے کے چیف ایگزیکٹو منیر کمال نے بتایا کہ اسکیم کی پہلی قرعہ اندازی 15 جنوری 2027 کو ہوگی۔ اس میں یکم اکتوبر سے 31 دسمبر 2026 تک پاکستان آنے والی ترسیلات زر شامل ہوں گی۔ ان کے مطابق قرعہ اندازی کا پورا عمل ڈیجیٹل اور شفاف رکھا جائے گا جبکہ اس میں شرکت کے لیے کوئی فیس وصول نہیں کی جائے گی۔
انعامات کا طریقہ کار
اسکیم کے تحت ہر سال 10 ہزار سے زائد افراد کو انعامات دیے جائیں گے۔ ہر تین ماہ بعد مجموعی طور پر 4 ارب روپے کے 2,521 نقد انعامات تقسیم ہوں گے۔
انعامی رقم کے تحت ایک شخص کو 10 کروڑ روپے کا پہلا انعام دیا جائے گا، جبکہ 2.5 کروڑ روپے کے 20 دوسرے انعامات رکھے گئے ہیں۔ تیسرے انعام کے طور پر ایک کروڑ روپے کے 100 انعامات دیے جائیں گے، جبکہ 10 لاکھ روپے کے 2,400 چوتھے انعامات شامل ہوں گے۔
اس پروگرام میں وہ وصول کنندگان اہل ہوں گے جو کسی ایک سہ ماہی کے دوران مسلسل تین ماہ تک اپنے بینک اکاؤنٹ میں کم از کم 100 امریکی ڈالر ماہانہ وصول کریں گے۔ ہر 100 ڈالر کی ترسیل پر ایک ڈیجیٹل انٹری دی جائے گی، جبکہ زیادہ رقم بھیجنے کی صورت میں انٹریز کی تعداد بھی اسی تناسب سے بڑھتی جائے گی۔
اسکیم میں مختلف خطوں کے لیے الگ کوٹہ بھی مقرر کیا گیا ہے۔ خلیج تعاون کونسل (جی سی سی) کے ممالک کے لیے 50 فیصد، برطانیہ کے لیے 15 فیصد، یورپ کے لیے 15 فیصد، شمالی امریکا کے لیے 10 فیصد جبکہ دیگر ممالک کے لیے 10 فیصد انعامات مختص ہوں گے۔ تاہم سب سے بڑے انعام کے لیے تمام خطوں کے شرکا کو یکساں طور پر شامل کیا جائے گا۔
قرعہ اندازی کے نتائج پاسبان کی مخصوص ویب سائٹ، اسٹیٹ بینک، پاکستان بینکس ایسوسی ایشن اور متعلقہ بینکوں کے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر جاری کیے جائیں گے۔
افتتاحی تقریب سے خطاب میں گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد نے ملکی زرمبادلہ کے ذخائر اور ترسیلات زر سے متعلق اعداد و شمار بھی پیش کیے۔ ان کے مطابق فروری 2023 میں اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر کم ہو کر 3 ارب ڈالر رہ گئے تھے، جو اب بڑھ کر 21.4 ارب ڈالر کی سطح تک پہنچ چکے ہیں۔
جمیل احمد کا کہنا تھا کہ موجودہ زرمبادلہ ذخائر بیرونی قرض لے کر نہیں بلکہ مارکیٹ سے زرمبادلہ خریدنے کے ذریعے بڑھائے گئے ہیں۔ انہوں نے اوورسیز پاکستانیوں کے کردار کو سراہتے ہوئے بتایا کہ مالی سال 2019 میں کارکنوں کی ترسیلات زر 21.7 ارب ڈالر تھیں، جو مالی سال 2026 میں بڑھ کر 41.6 ارب ڈالر کی ریکارڈ سطح پر پہنچ گئیں۔



















































