اسلام آباد (نیوز ڈیسک)پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ٹیکسز، لیویز اور مختلف مارجنز کا نمایاں حصہ شامل ہونے کا انکشاف ہوا ہے،
جس کے باعث صارفین کو پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی بنیادی لاگت کے مقابلے میں کہیں زیادہ قیمت ادا کرنا پڑ رہی ہے۔دستیاب دستاویزات کے مطابق پیٹرول کی فی لیٹر بنیادی لاگت 197 روپے 69 پیسے ہے، جبکہ اس کی موجودہ فروختی قیمت 327 روپے 62 پیسے مقرر کی گئی ہے۔ اس طرح صارفین بنیادی قیمت کے علاوہ تقریباً 130 روپے 23 پیسے مختلف لیویز، ٹیکسز اور مارجنز کی مد میں ادا کر رہے ہیں۔پیٹرول کی موجودہ قیمت میں 80 روپے پیٹرولیم لیوی، 5 روپے کلائمٹ سپورٹ لیوی اور 21 روپے 24 پیسے کسٹمز ڈیوٹی شامل ہے۔ اس کے علاوہ 7 روپے 48 پیسے ان لینڈ فریٹ ایکولائزیشن مارجن، 7 روپے 87 پیسے آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کا مارجن اور 8 روپے 64 پیسے ڈیلرز مارجن بھی صارفین سے وصول کیا جا رہا ہے۔دوسری جانب ہائی اسپیڈ ڈیزل کی بنیادی قیمت 264 روپے 76 پیسے فی لیٹر ہے، تاہم مارکیٹ میں اس کی قیمت 380 روپے 86 پیسے فی لیٹر مقرر ہے۔
دستاویزات کے مطابق ڈیزل کی قیمت میں بھی تقریباً 116 روپے مختلف لیویز، ٹیکسز اور مارجنز کی شکل میں شامل ہیں۔اعداد و شمار کے مطابق ہائی اسپیڈ ڈیزل پر فی لیٹر 74 روپے 28 پیسے پیٹرولیم لیوی جبکہ 5 روپے کلائمٹ سپورٹ لیوی عائد ہے۔ اس کے علاوہ 15 روپے 68 پیسے کسٹمز ڈیوٹی، 4 روپے 63 پیسے ان لینڈ فریٹ ایکولائزیشن مارجن، 7 روپے 87 پیسے آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کا مارجن اور 8 روپے 64 پیسے ڈیلرز مارجن شامل کیا گیا ہے۔دستاویزات سے ظاہر ہوتا ہے کہ دونوں اہم پیٹرولیم مصنوعات کی حتمی قیمت میں بنیادی لاگت کے ساتھ مختلف سرکاری محصولات اور کاروباری مارجنز بھی قابلِ ذکر حصہ رکھتے ہیں، جس کا بوجھ بالآخر صارفین کو برداشت کرنا پڑتا ہے۔



















































