اسلام آباد (نیوز ڈیسک) ڈیجیٹل فراڈ اور سائبر سیکیورٹی سے متعلق جاری ہونے والی ایک عالمی رپورٹ میں پاکستان کو آن لائن دھوکہ دہی کے حوالے سے سب سے زیادہ غیر محفوظ ممالک میں شامل کرتے ہوئے آخری درجے پر رکھا گیا ہے۔
بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق شناختی تصدیق کے عالمی ادارے سم سب (Sumsub) اور شماریاتی پلیٹ فارم اسٹیٹسٹا (Statista) کی مشترکہ رپورٹ گلوبل فراڈ انڈیکس 2025 میں 112 ممالک کا جائزہ لیا گیا، جس میں پاکستان مسلسل دوسرے سال بھی فہرست کے آخری نمبر پر رہا۔رپورٹ کے مطابق مختلف ممالک کی درجہ بندی کے لیے ڈیجیٹل فراڈ کی شرح، حکومتی اقدامات، ڈیجیٹل سہولیات تک رسائی اور مجموعی معاشی حالات جیسے اہم عوامل کو مدنظر رکھا گیا۔ جائزے میں بتایا گیا کہ پاکستان میں آن لائن فراڈ کے واقعات نسبتاً زیادہ ہیں، جبکہ سائبر کرائم کی روک تھام، مؤثر ڈیجیٹل سیکیورٹی نظام، ای گورننس اور متعلقہ قوانین پر عملدرآمد کے شعبوں میں بھی نمایاں خامیاں موجود ہیں۔
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ سائبر تحفظ کے اعتبار سے لکسمبرگ، ڈنمارک، فن لینڈ اور ناروے دنیا کے محفوظ ترین ممالک قرار پائے، جہاں ڈیجیٹل فراڈ کے خلاف مؤثر نظام موجود ہے۔دوسری جانب پاکستان کے علاوہ انڈونیشیا، نائیجیریا اور بھارت بھی ان ممالک میں شامل ہیں جہاں آن لائن فراڈ اور سائبر خطرات کے حوالے سے تحفظ کا معیار نسبتاً کم قرار دیا گیا ہے۔



















































