منگل‬‮ ، 23 جون‬‮ 2026 

تیل کی قیمتوں کے تعین کے فارمولامیں تبدیلی سے آئل مارکیٹنگ کمپنیز کو 104ارب روپے کا نقصان،آئل کمپنیز ایڈوائزری کونسل نےوزیرتوانائی کو خط لکھ دیا

datetime 23  جون‬‮  2026 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک)قیمتوں سے متعلق پالیسیوں پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔

کونسل کے مطابق حالیہ فیصلوں کے باعث ڈاؤن اسٹریم پٹرولیم سیکٹر کو سنگین مالی مسائل، سرمایہ کاری میں کمی اور بعض کمپنیوں کے دیوالیہ ہونے کے خدشات لاحق ہو گئے ہیں۔

او سی اے سی کا کہنا ہے کہ حالیہ ایندھن قیمتوں میں کمی ایک ایسے طریقہ کار کے تحت نافذ کی گئی جس کا مالی اثر براہ راست آئل مارکیٹنگ کمپنیوں اور ریفائنریوں پر منتقل کیا گیا۔ ادارے کے مطابق موجودہ ذخائر، جن میں تقریباً 5 لاکھ 5 ہزار میٹرک ٹن پیٹرول اور 6 لاکھ 55 ہزار میٹرک ٹن ہائی اسپیڈ ڈیزل شامل ہیں، کی وجہ سے صنعت کو تقریباً 104 ارب روپے کے مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑا۔

کونسل نے اپنے خط میں واضح کیا کہ یہ نقصانات کاروباری غلطیوں یا انتظامی کمزوریوں کے نتیجے میں نہیں بلکہ حکومتی پالیسی فیصلوں کی وجہ سے پیدا ہوئے ہیں۔ او سی اے سی کے مطابق مارچ 2026 سے درآمدی اخراجات، فریٹ چارجز اور سپلائی کے خدشات کے باوجود صنعت نے ملک میں ایندھن کی مسلسل فراہمی کو یقینی بنایا۔

خط میں یہ بھی بتایا گیا کہ ریفائنریوں نے قومی مفاد کو ترجیح دیتے ہوئے ڈیزل کے مارجن محدود رکھے، مسلح افواج اور حج آپریشنز کے لیے پرانی قیمتوں پر ایندھن فراہم کیا اور پرائس ڈیفرینشل کلیم کی مد میں 7 ارب روپے سے زائد کا بوجھ برداشت کیا۔

او سی اے سی نے مؤقف اختیار کیا کہ عوام کو ریلیف فراہم کرنا حکومت کا مثبت اقدام ہے، تاہم اس کا مکمل مالی بوجھ نجی شعبے پر ڈالنا مناسب نہیں۔ کونسل کے مطابق او ایم سیز کے مارجن میں آخری مرتبہ ستمبر 2023 میں اضافہ کیا گیا تھا، جبکہ اس وقت صنعت کو تقریباً 66 ارب 70 کروڑ روپے کے بقایا کلیمز، بڑھتی ہوئی آپریشنل لاگت اور لازمی ذخائر برقرار رکھنے کے اخراجات کا سامنا ہے۔

کونسل نے خبردار کیا کہ حکومتی سطح پر مسلسل یکطرفہ فیصلوں کے نتیجے میں غیر ملکی سرمایہ کاروں کا اعتماد متاثر ہو رہا ہے، جبکہ کمزور مالی پوزیشن رکھنے والی کمپنیاں بند ہونے کے خطرے سے دوچار ہیں، جس کے اثرات پورے توانائی شعبے اور ملکی معیشت پر مرتب ہو سکتے ہیں۔

او سی اے سی نے صورتحال کو تشویشناک قرار دیتے ہوئے وفاقی وزیر توانائی سے فوری ملاقات کی درخواست کی ہے تاکہ مشاورت کے ذریعے قیمتوں کے تعین کا منصفانہ نظام وضع کیا جا سکے، اسٹریٹجک ذخائر کو مالی نقصانات سے محفوظ بنایا جائے اور پٹرولیم سیکٹر میں سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال کیا جا سکے۔



کالم



فورنگ میں ایک رات


ہماری لینڈ لیڈی کے والدین غریب تھے‘ وہ ٹائون…

محمد بوٹا انجم

محمد بوٹا میاں چنوں کے گائوں چک 15 میں پیدا ہوا‘…

فلم میں بھی ہارنے سے انکار

یہ تبلیسی شہر تھا‘ اکتوبر کی 8 تاریخ تھی اور سن…

Pale Blue Dot

کارل ایڈورڈ سیگن (Carl Edward Sagan) خلانورد اور پلانٹری…

نصیب کی مکھی

ٹومی فلیٹ ووڈ (Tommy Fleetwood) دنیا کا مشہور گالفر ہے‘…

8 بجے تک

میرا جم میرے گھر سے پانچ منٹ کی دوری پر ہے‘ میں…

ریو سیکریٹو

دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…