لاہور( این این آئی)پنجاب حکومت نے آئندہ مالی سال 2026-27کے لئے 5903ارب 46کروڑ روپے کے حجم کا تاریخی بجٹ پیش کر دیا ،
جاری اخراجات کا تخمینہ 1962ارب 93کروڑ روپے لگایا گیا ہے جو کہ رواں مالی سال کے مقابلے میں 3.1فیصد کم ہے ،آئندہ مالی سال میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 7 فیصد جبکہ ریٹائرڈ سرکاری ملازمین کی پنشن میں 3.5فیصد اضافہ تجویز کیا گیا ہے ،پنجاب حکومت کو این ایف سی ایوارڈ کے تحت 4390 ارب 94 کروڑ روپے کی منتقلی کا تخمینہ لگایا گیا ہے جو کہ گزشتہ مالی سال کی نسبت 8.1 فیصد زیادہ ہے جبکہ آئندہ مالی سال کیلئے 1209 ارب 86 کروڑ روپے کی صوبائی آمدن کے حصول کا ہدف مقرر کیا گیا ہے، مالی سال 27-2026 کے دوران وسیع تر قومی مالیاتی و معاشی مشکلات ، سکیورٹی صورتحال ، قومی سٹریٹیجک اہمیت کے منصوبوں جیسے کہ ڈیموں کی تعمیر اور قرضوں کی واپسی کے پیش نظر وفاقی حکومت کو درکار 1035 ارب روپے میں سے سب سے زیادہ 546 ارب روپے پنجاب کی طرف سے فراہم کیے جائیں گے،بجٹ میں حکومت کی جانب سے عوام کی فلاح و بہبود کے لئے جاری منصوبوں کے لئے فنڈز مختص کرنے کے علاوہ کئی نئے منصوبے شروع کرنے کابھی اعلان کیا گیا ہے ،
تعلیم کے شعبے میں مالی سال 2026-27 کے لیے 750 ارب روپے جبکہ صحت کے شعبے میں 500 ارب 62 کروڑ روپے مختص کرنے کی تجویز ہے،آئندہ مالی سال میں بے گھر اور کم آمدنی والے خاندانوں کو اپنی چھت اپنا گھر پروگرام کے تحت 2 لاکھ افراد کو 300 ارب روپے کے بلاسود قرضے دینے کا منصوبہ ہے۔ صوبائی وزیر خزانہ مجتبیٰ شجاع الرحمن نے پنجاب اسمبلی کے ایوان میں آئندہ مالی سال کے لئے بجٹ پیش کیا۔پنجاب اسمبلی کا بجٹ اجلاس مقررہ وقت کی بجائے ایک گھنٹہ چالیس منٹ کی تاخیر سے سپیکر پنجاب اسمبلی ملک محمد احمد خان کی صدارت میں شروع ہوا۔بجٹ اجلاس کے دوران اپوزیشن نے بھرپور احتجاج کیا اور ایوان میں داخل ہوتے ہی نعرے بازی شروع کر دی، اپوزیشن ارکان نے شرم کرو، حیا کرو، خان کو رہا کرو کے نعرے لگائے جبکہ ان کے ہاتھوں میں عمران خان کی رہائی کے مطالبے پر مبنی پلے کارڈز بھی موجود تھے۔وزیر خزانہ کی بجٹ تقریر شروع ہوتے ہی اپوزیشن اراکین نے احتجاج میں شدت پیدا کر دی اور اپنی نشستوں سے اٹھ کر سپیکر ڈائس کے سامنے کھڑے ہوگئے، اپوزیشن ارکان وزیر خزانہ کی بجٹ تقریر کے دوران جعلی بجٹ نامنظور، نامنظورکے نعرے بھی لگاتے رہے ۔ حکومتی اراکین نے وزیر اعلیٰ پنجاب اور وزیر خزانہ کے گرد حفاظتی حصار قائم کئے رکھا ۔ وزیر خزانہ مجتبیٰ شجاع الرحمن نے بجٹ تقریر کا آغاز کرتے ہوئے کہا کہ میرے لیے یہ امر باعث فخر ہے کہ میں وزیر اعلی پنجاب مریم نواز شریف کی جانب سے مالی سال 27-2026 کا بجٹ اس معزز ایوان میں پیش کر رہا ہوں جو کہ ہماری حکومت کا تیسرا سالانہ بجٹ ہے۔بجٹ کی تفصیلات پیش کرنے سے قبل میں ایک اہم بین الاقوامی پیشرفت کا ذکر ضروری سمجھتا ہوں ِ،
حالیہ دنوں میں امریکہ اور ایران کے درمیان پیدا ہونے والی کشیدگی اور آبنائے ہرمز کی بندش کے باعث غیر یقینی صورتحال نے عالمی معیشت ، توانائی کی رسد اور خطے کے امن پر گہرے اثرات مرتب کئے ، ایسے نازک حالات میں ہماری موثر ، دانشمندانہ اور بر وقت سفارتکاری کے نتیجے میں امریکہ اور ایران کے درمیان معاہدہ ہونے جا رہا ہے۔ پاکستان کے کردار کو عالمی سطح پر پذیرائی ملی اور ایک ذمہ دار، امن پسند اور باوقار ریاست کے طور پر پاکستان کا تشخص اجاگر ہوا ۔ ہم وزیر اعظم محمد شہباز شریف، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور سیاسی و عسکری قیادت کو اس عظیم کامیابی پر خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔وزیر خزانہ نے کہا کہ مالی سال 26-2025 کے دوران حکومت کو بیرونی محاذ پر خطے کی کشیدہ صورتحال اور اندرونی محاذ پر سیلاب کا سامنا کرنا پڑا۔ تا ہم بین الاقوامی حالات اور تیل کی قیمتوں میں اضافے کے ممکنہ اثرات کے پیش نظر حکومت پنجاب نے مالی نظم و ضبط اور کفایت شعاری کو اپنی پالیسی کا بنیادی ستون بنایا،چنانچہ سرکاری اخراجات میں کمی،بورڈ میٹنگ فیس پر پابندی، آن لائن اجلاسوں کے فروغ اور دیگر غیر ضروری اخراجات پر قابو پانے جیسے اقدامات کئے گئے ۔ اسی سلسلے میں وزیر اعلی ، صوبائی وزرا، معاونین خصوصی اور پالیمانی سیکرٹریز کی دو ماہ کی تنخواہوں جبکہ اراکین اسمبلی کی دوماہ کی تنخواہوں میں 25 فیصد کٹوتی کی گئی۔
ان اقدامات سے حاصل ہونے والی بچت کو عوامی ریلیف کیلئے مختص کیا گیا، مجموعی طور پر 9 ارب 78 کروڑ روپے خرچ کیے گئے جس سے 4 کروڑ 74 لاکھ افراد مستفید ہوئے ۔ علاوہ ازیں عام آدمی کو فیول سبسڈی فراہم کرنے کیلئے حکومت پنجاب نے وفاقی حکومت کو 25 ارب 87 کروڑ روپے مہیا کئے ،یہ تمام اقدامات پنجاب کی قیادت کی دوراندیشی ، قومی ذمہ داری اور عوام دوستی کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔وزیر خزانہ مجتبیٰ شجاع الرحمن نے کہا کہ یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ سال 2025 کے دوران شدید بارشوں اور تین دریائوں میں بیک وقت سیلابی صورتحال نے پنجاب کے 27 اضلاع کو متاثر کیا۔ وزیر اعلی پنجاب مریم نواز شریف نے سیلاب کے دوران محض دفتر میں بیٹھ کر ہدایات جاری نہیں کیں بلکہ خود میدان میں جا کر صورتحال کی نگرانی کی ،حکومت پنجاب نے فوری، منظم اور موثر حکمت عملی کے ذریعے امدادی اور بحالی اقدامات کے تحت متاثرہ خاندانوں کو خوراک، ادویات، صاف پانی، عارضی رہائش اور دیگر ضروری سہولیات کی فراہمی یقینی بنائی ۔ 30 لاکھ سے زائد جانوروں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا جس سے دیہی معیشت کو بڑے پیمانے پر ہونے والے نقصانات سے بچایا گیا۔ سیلاب بحالی کی مختلف سرگرمیوں کیلئے مجموعی طور پر 79 ارب 78 کروڑ روپے خرچ کیے گئے جبکہ تاریخ کے سب سے بڑے سیلاب بحالی پروگرام کے تحت 21 لاکھ افراد کو 50 ارب روپے کی براہ راست مالی معاونت فراہم کی گئی۔پارٹی قائد محمد نواز شریف کی رہنمائی ، وزیر اعظم محمد شہباز شریف کی شاندار روایت اور وزیر اعلی پنجاب مریم نواز شریف کی متحرک قیادت کے باعث گزشتہ ایک سال کے دوران پنجاب نے ترقی اور عوامی خدمت کے ایک نئے دور میں قدم رکھا ہے۔ ایک وقت تھا جب عام آدمی کو اپنی جائز ضرویات کیلئے سرکاری دفاتر کے چکر لگانا پڑتے تھے، مگر آج حکومت عوام تک خود پہنچ رہی ہے
جس کی سب سے اہم مثال دستک ، ای پے ،ای بزاور ای پیڈزجیسے اقدام ہیں۔دستک پروگرام کے تحت 29 لاکھ سے زائد شہری مستفید ہوئے ، ای بزکے ذریعے 320 سرکاری خدمات کو ڈیجیٹلائزکیا گیا جس سے 81 ہزار سے زائد کاروباری افراد نے فائدہ اٹھایا اور ای پے کے تحت عام آدمی 88 قسم کے سرکاری ٹیکسز اور فیس گھر بیٹھے ادا کر سکتا ہے۔ای پیڈزکے نفاذ کے بعد اب پنجاب بھر میں ساری خریداری الیکٹرانک طریقے سے شفاف انداز میں کی جا رہی ہے۔ وزیر اعلی پنجاب مریم نواز شریف نے عوام سے جو وعدے کیے تھے ان کی تکمیل کی جانب عملی پیشرفت جاری ہے،آج پنجاب کا ہر ضلع تحصیل اور ہر طبقہ ترقی کے اس سفر میں شریک ہے۔وزیر خزانہ مجتبیٰ شجاع الرحمن نے کہا کہ مالی سال 27-2026 کے دوران وسیع تر قومی مالیاتی و معاشی مشکلات ، سکیورٹی صورتحال ، قومی سٹریٹیجک اہمیت کے منصوبوں جیسے کہ ڈیموں کی تعمیر اور قرضوں کی واپسی کے پیش نظر وفاقی حکومت کو درکار 1035 ارب روپے میں سے سب سے زیادہ 546 ارب روپے پنجاب کی طرف سے فراہم کیے جائیں گے۔ مضبوط پاکستان ، قومی سلامتی اور خوشحالی کو مد نظر رکھتے ہوئے حکومت پنجاب نے یہ قدم اٹھایا ہے ، اس طرح پنجاب مجموعی قومی دفاع اور معاشی ترقی میں اپنا تاریخی کردار ادا کرے گا۔ پنجاب کو فخر ہے کہ وہ پاکستان کی معاشی ریڑھ کی ہڈی ہونے کے ساتھ ساتھ اس کی ڈھال بھی ہے۔جب موجودہ حکومت نے زمام اقتدار سنبھالی تو صوبہ متعدد معاشی اور انتظامی مشکلات سے دو چار تھا۔ گزشتہ دو سالوں میں حکومت پنجاب نے نہ صرف محدود وسائل کا دانشمندانہ استعمال کیا بلکہ مالیاتی نظم و ضبط کو اولین ترجیح بنایا۔
اسی ضمن میں مختلف محکمہ جات کی رائٹ سائزنگ کرتے ہوئے جہاں 1 لاکھ سے زائد خالی اور غیر ضروری آسامیوں کو ختم کیا جس سے صوبائی خزانہ پر بوجھ کم ہوا و ہیں 2 لاکھ سے زائد ملازمتیں بھی فراہم کی گئیں۔نئے اداروں کے قیام کے ساتھ ساتھ عوام کو بہتر، شفاف اور جدید خدمات مہیا کرنے کیلئے موجودہ محکموں کی ری سٹرکچرنگ اور انہیں مضبوط کیا گیا ۔ گزشتہ دو سالوں کے دوران جہاں موجودہ ڈھانچے کو مضبوط بنایا گیا وہیں نئے اداروں کا قیام بھی عمل میں لایا گیا تا کہ خدمت خلق کے ان شعبوں کو بھی جدید خطوط پر استوار کیا جا سکے جہاں پہلے کوئی موثر نظام موجود نہ تھا۔ اس سلسلے میں جو اقدامات کیے گئے ان میںہر شہر و دیہات میں صفائی کے نظام کو موثر بنانے کیلئے ستھرا پنجاب اتھارٹی اورایجنسیز ، ضلعی سطح پر پانی اور نکاسی آب کو بہتر بنانے کیلئے واٹر اینڈ سینی ٹیشن ایجنسیز بنائی گئیں،ہارٹیکلچرکے فروغ کے لئے ہارٹیکلچر ایجنسیز ققائم کی گئیںحکومتی شعبے میں مصنوعی ذہانت کے استعمال کو فروغ دینے کیلئے آفس آف آرٹی فیشل انٹیلی جنس قائم کیا گیا۔ پبلک سیکٹر کمپنیز ، خود مختا ر اداروں اور ذیلی اداروں کی کارکردگی کو بہتر بنانے کے لئے انہینسنگ ڈیلوری اینڈ گورنمنٹ ایفی شنسی کا قیام عمل میں لایا گیا۔حکومتی اداروں کو ایڈوائزری خدمات فراہم کرنے کیلئے پنجاب فنانشل ایڈوائزری سروسز کی بنیا د رکھی گئی ۔سرکاری ملازمین اور حکومت کے صحت سہولت پروگرام کی انشورنس کیلئے پنجاب لائف انشورنس کمپنی کا قیام اور صوبائی اثاثہ جات، انفراسٹرکچر اور توانائی کے منصوبوں کی انشورنس کیلئے پنجاب جنرل انشورنس کمپنی کے قیام کی منظوری دی گئی ۔نجی شعبے کی سرمایہ کاری سے فائدہ اٹھانے کیلئے پنجاب پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ اتھارٹی اور انتظامی کارکردگی کی نگرانی کیلئے سی ایم انسپکشن ٹیم کو مزید مضبوط بنایا گیا۔اس کے ساتھ ساتھ ماہی گیری اور آبی معیشت کو فروغ دینے کیلئے ایکواکلچر اینڈ فشریز ڈیپارٹمنٹ،ڈیجیٹل اکانومی سے فائدہ اٹھانے کے لئے آئی ٹی اینڈ انوویشن ڈیپارٹمنٹ اور ہنر مند افرادی قوت پیدا کرنے کیلئے سکلز ڈویلپمنٹ اینڈ انٹرپرینیور شپ ڈیپارٹمنٹ جیسے محکموں کا قیام عمل میں لایا گیا۔وزیر اعلی مریم نواز شریف کے محفوظ پنجاب کے خواب کو عملی جامہ پہنانے کیلئے کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ قائم کیا گیا علاوہ ازیں پنجاب میں زمین کے استعمال اور شہری منصوبہ بندی کیلئے پنجاب سپیشل پلاننگ اتھارٹی کی بنیاد رکھی گئی ،قدرتی آفات سے بہتر انداز میں نمٹنے کیلئے پی ڈی ایم اے کی استعداد کار بڑھانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ صوبائی محصولات میں اضافے اور ٹیکس نیٹ کو بڑھانے کیلئے پنجاب ریو نیو اتھارٹی کا دائرہ کار پورے پنجاب تک بڑھایا گیا ہے،اس کے علاوہ ٹیکس قوانین میں اصلاحات اور افرادی قوت میں اضافہ کیا گیا ہے۔
یہ سب اقدامات عوام کو بہتر سہولتیں، بر وقت خدمات اور شفاف نظام کی فراہمی کو یقینی بنانے کیلئے کیے گئے تاکہ پنجاب ترقی، خوشحالی اور اچھی حکمرانی کے سفر کی نئی منازل طے کر سکے۔ وزیر خزانہ مجتبیٰ شجاع الرحمن نے اپنی بجٹ تقریر میں کہا کہ مالی سال 27-2026 کا بجٹ معمولی حالات میں نہیں بنایا گیا،تاریخ کے سب سے بڑے سیلاب بحالی پیکج ،فیول سبسڈی کے خطیر اخراجات اور وفاقی حکومت کو اسٹریٹجک مقاصد کیلئے مالی مدد فراہم کرنے کے ساتھ ساتھسب سے بڑا چیلنج عوام کو ریلیف فراہم کرنا ہے۔ ان تمام مشکلات کے باوجود وزیر اعلی مریم نواز شریف نے سماجی شعبے اور عوام کی معاونت پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا۔ حکومت نے فیصلہ کیا کہ غیر ضروری اخراجات کو ختم کیا جائے ، وسائل کا دانشمندانہ استعمال کیا جائے ، مالیاتی نظم و ضبط کو مضبوط بنایا جائے اور عوام پر بوجھ ڈالے بغیر ترقی کے راستے تلاش کیے جائیں۔موجودہ مالیاتی چیلنجز کے تناظر میں اہم پیداواری اور سماجی شعبوں کے اخراجات کیلئے گنجائش پیدا کرنے کیلئے حکومت پنجاب نے مالی استحکام اور سمارٹ گورننس کے ذریعے جامع اصلاحات متعارف کروائیں۔ اسی سلسلے میں کیش مینجمنٹ فنڈکو مزید فعال بنایا گیا جس کے ذریعے صوبائی خزانے کی اضافی رقم کو حکومتی نگرانی میں سرمایہ کاری کی جاتی ہے۔ اس فنڈ کو 800 ارب روپے سے بڑھا کر مالی سال 27-2026 میں 1000 ارب روپے کر دیا گیا ہے جس سے صوبے کو غیر فعال رقم پر منافع حاصل کرنے میں مدد ملے گی۔اسی طرح مالی سال 26-2025 میں پنجاب نے گندم کے قرضے کو مکمل طور پر ختم کر دیا ہے،گزشتہ تین سالوں کے دوران 760 ارب روپے کا قرضہ واپس کیا گیا ہے،اگر بر وقت اصلاحی اقدامات نہ بروئے کار لائے جاتے تو یہ قرضہ آج ایک کھرب روپے سے بھی تجاوز کر چکا ہوتا۔مزید برآں ٹیکس کے نظام میں شفافیت کو یقینی بنانے کیلئے انتظامی اصلاحات بھی متعارف کروائی ہیں۔ مالی سال 2026-27 کے دوران پراپرٹی ٹیکس کیلئے ای پیمنٹ لازمی قرار دی گئی ہے، پنجاب کے لائسنس یافتہ موٹر وہیکل ڈیلرز کو ود ہولڈنگ ایجنٹس قرار دیا گیا ہے تاکہ ان سے خریدی گئی کسی بھی گاڑی کو صرف پنجاب میں ہی رجسٹر کیا جا سکے اور وہ اس کے بابت تمام محصولات براہ راست حکومت کو جمع کروائیں۔ اسی طرح ڈیبٹ اور کریڈٹ کارڈ کے ذریعے کی گئی ادائیگیوں سے وصول شدہ صوبائی سیلز ٹیکس کی کٹوتی کو ممکن بنانے کیلئے بینکوں کو کولیکٹنگ ایجنٹس مقرر کیا گیا ہے تا کہ ٹیکس کی وصولی فوری اور شفاف ہو سکے ۔ ان اقدامات کے ذریعے نہ صرف فسکل ڈسپلن کو یقینی بنایا جائے گا
بلکہ صوبائی محصولات میں اضافے سے سوشل ڈویلپمنٹ اور عوامی فلاح کے اہم منصوبوں کیلئے مالیاتی جگہ پیدا ہوگی۔وزیرخزانہ مجتبیٰ شجاع الرحمن نے بجٹ تقریر میں کہا کہ تمام معاشی مشکلات کے باوجود وزیر اعلی مریم نواز شریف نے عوام پر بوجھ بڑھانے سے گریز کیا ہے اور اس بجٹ میں صوبے کی عوام کو ریلیف فراہم کرنے کیلئے متعدد اقدامات کیے ہیں جیسا کہ پراپرٹی ٹیکس کیلئے لیٹ پیمنٹ سرچارج میں ریلیف فراہم کرتے ہوئے اسے ماہانہ کی بجائے سہ ماہی بنیادوں پر کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ پراپرٹی ٹیکس کی سیلف اسیسمنٹ سکیم کے تحت ٹیکس نیٹ کو بڑھانے کیلئے 5 فیصد رعایت فراہم کی جا رہی ہے۔ اس کے علاوہ ماحول دوست ٹرانسپورٹ کو فروغ دینے کیلئے الیکٹرک گاڑیوں پر ٹوکن ٹیکس کی چھوٹ 95 فیصد سے بڑھا کر 99 فیصد کی جارہی ہے۔ زرعی ٹیکس کے نظام میں شفافیت اور سہولت کو مزید بہتر بنانے کیلئے فکسڈ ٹیکس سٹرکچر کے تحت ضروری اصلاحات متعارف کروائی جا رہی ہیں۔ علاوہ ازیں کاٹن فیس کو مکمل طور پر ختم کر دیا گیا ہے جس سے کسانوں اور ٹیکسٹائل سیکٹر کو براہ راست فائدہ پہنچے گا۔ یہ تمام اقدامات اس بات کا ثبوت ہیں کہ ہماری حکومت مشکل حالات میں بھی عوام کے ساتھ کھڑی ہے اور عوامی خدمت ہماری اولین ترجیحات میں شامل ہے۔وزیر خزانہ مجتبیٰ شجاع الرحمن نے مزید کہا کہ آج معیشت کے اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ پنجاب کا قومی جی ڈی پی میں حصہ 55.7 فیصد ہے، تقریباً 13 کروڑ آبادی کے ساتھ پنجاب ملک کا سب سے بڑا صوبہ ہے۔ ہماری ملازمت یافتہ افرادی قوت 3 کروڑ 58 لاکھ افراد پر مشتمل ہے اور سب سے اہم پنجاب کی فی کس آمدنی 1904 ڈالر ہے جو کہ گزشتہ 3 سال کے مقابلے میں 47 فیصد زیادہ ہے۔ پچھلی حکومت نے وعدے ۔ کیے اور ہم نے کار کردگی دکھائی۔ یہ فرق ہماری حکومت کی مضبوط عزم اور عملی اقدامات کو ظاہر کرتا ہے۔ اسی تناظر میں حکومت نے اکنامک ٹرانسفارمیشن آف پنجاب انوویشن فار ویلیو کیلئے ایک کثر الجہت اور جامع معاشی منصوبہ ترتیب دیا ہے جس کا نام پنجاب انوویٹو فار ویلیو ہے۔
اوپرچیونٹی اینڈ ٹرانسفارمیشن محض منصوبوں کا مجموعہ نہیں بلکہ پنجاب کی معیشت کو کم ویلیو سے ہائی ویلیو، مقامی منڈیوں سے عالمی منڈیوں اور سرکاری سرمایہ کاری سے نجی شعبے کی قیادت میں ترقی کی جانب منتقل کرنے کا ایک جامع روڈ میپ ہے۔ مزید برآں نوجوانوں کی ترقی تعلیم ، ہنرمندی، روزگار، کاروباری مواقع اور مثبت سرگرمیوں کے فروغ کیلئے حکومت 39 ارب روپے کا ایک جامع یوتھ ڈویلپمنٹ انیشیٹوزمتعارف کروانے جا رہی ہے۔ اس کے علاوہ آئندہ مالی سال میں کچے کے علاقوں کی پائیدار ترقی اور وہاں کے عوام کو بہتر بنیادی سہولیات کی فراہمی کے لیے کچہ ایریا ڈویلپمنٹ پروگرام کے تحت 38 ارب 86 کروڑ روپے کی لاگت سے 53 سکیمیں متعارف کروائی جا رہی ہیں جبکہ آئندہ مالی سال میں اس مقصد کیلئے 5 ارب 78 کروڑ روپے مختص کئے گئے ہیں ۔ اس پروگرام کے ذریعے انفراسٹرکچر کی بہتری، روزگار کے مواقع میں اضافہ، امن وامان کی صورتحال میں بہتری اور تعلیم، صحت و دیگر سماجی خدمات تک رسائی کو فروغ ملے گا۔اکنامکس ٹرانسفارمیشن کا تین سالہ منصوبہ تقریباً 1995 ارب روپے کی مجموعی سرمایہ کاری پر مشتمل ہے جس میں 1090 ارب سرکاری سرمایہ کاری جبکہ 905ارب روپے سے زائد زائد پرائیویٹ سیکٹر کی شراکت ہے۔ اس منصوبے کے تحت اگلے تین مالی سالوں میں صنعت کے شعبے میں تقریباً 1188 ارب روپے، زراعت میں تقریباً586 ارب روپے، لائیو اسٹاک میں 230 ارب روپے، سیاحت میں 642 ارب روپے، ایکوا فارمنگ میں 190 ارب روپے، شعبہ مہارت میں 186 ارب روپے اور ٹیکنالوجی میں 64 ارب کی سرمایہ کاری کی جائے گی۔ اس پروگرام کے نتیجے میں 6 ارب 80 کروڑ ڈالر اضافی برآمدات، ایک لاکھ 62ہزارنئی ملازمتیں اور 8 لاکھ 50ہزار سے زائد ہنر مند افرادی قوت پیدا ہونے کی توقع ہے۔ وزیر خزانہ مجتبیٰ شجاع الرحمن نے کہاکہ حکومت پنجاب اس امر پر یقین رکھتی ہے کہ پائیدار معاشی ترقی صرف سرکاری وسائل سے ممکن نہیں بلکہ نجی شعبے کی سرمایہ کاری، مہارت اور اختراعی صلاحیت کو ساتھ لے کر چلنے سے ہی حاصل کی جاسکتی ہے۔ حکومت بنیادی انفراسٹرکچر، سہولت کاری، پالیسی معاونت اور رسک شیئر نگ فراہم کرے گی جبکہ نجی شعبہ سرمایہ کاری، آپریشنز اور جدت کے ذریعے ترقی کے اس سفر میں شریک ہوگا ۔
پی فاراے کی ری سٹرکچرنگ اور پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کے شعبے میں اصلاحات کے بعد جو منصوبے پیش کیے گئے ان میں پرائیویٹ سیکٹر کی طرف سے انتہائی مثبت رد عمل آیا ہے جو کہ حکومت کی جامع حکمت عملی کا نتیجہ ہے۔میں یہ بتانا بھی بہت ضروری سمجھتا ہوں کہ پنجاب کو غیر ملکی سرمایہ کاری ، کاروبار دوست اور سرمایہ کار موافق صوبہ قائم کیا گیا ہے۔ علاوہ ازیں گلوبل انویسٹمنٹ اینڈ گیٹ وے آف پنجاب قائم کیا گیا ہے ۔علاوہ ازیںپنجاب کے سرکاری انڈسٹریل اسٹیٹس میں صنع کو فروغ دینے کے لئے لینڈ لیز پالیسی متعارف کرائی گئی ہیںتا کہ صنعت کار کے تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے۔ میں اس معزز ایوان کو یقین دلاتا ہوں کہ پائیوٹ اور جی آئی جی پی جیسے اقدامات پنجاب کی معیشت کو ایک نئی سمت دیں گے ۔ یہ اقدامات صرف ترق دامات صرف ترقیاتی منصوبوں کا پیکج نہیں بلکہ روزگار، سرمایہ کاری، برآمدات ، ہنر مندی اور کاروباری مواقع پر بنی ایک جامع معاشی تبدیلی کا ایجنڈا ہیں۔وزیر خزانہ مجتبیٰ شجاع الرحمن نے اپنی بجٹ تقریر میں کہا کہ وزیر اعظم محمد شہباز شریف کی رہنمائی میں وفاقی سطح پر اور وزیر اعلی پنجاب مریم نواز شریف کی قیادت میں صوبائی سطح پر باہمی تعاون سے کی گئی کوششوں کے نتیجے میں گزشتہ ایک سال کے دوران معاشی پالیسیوں کے مثبت نتائج نمایاں طور پر سامنے آئے ہیں۔ معاشی شرح نمو بڑھ کر 3.7 فیصد تک پہنچ چکی ہے جو کہ گزشتہ چار سالوں کی بلند ترین سطح ہے ،بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی جانب سے بھیجی جانے والی ترسیلات زر 38 ارب 10 کروڑ ڈالر تک پہنچ چکی ہیں جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 9.2 فیصد زیادہ ہیں۔ جبکہ زرمبادلہ کے مجموعی ذخائر بڑھ کر 22 ارب 67 کروڑ ڈالر تک پہنچ گئے ہیں جو قومی معیشت کے استحکام اور مضبوطی کا واضح اظہار ہیں۔وزیر خزانہ مجتبیٰ شجاع الرحمن نے کہا کہ میں ایوان کی اجازت سے میں اب مالی سال 27-2026 کے بجٹ کی اہم خصوصیات اور حکومتی ترجیحات معزز اراکین کے سامنے پیش کرنا چاہتا ہوں۔ اس بجٹ کی تجاویز کیلئے پنجاب کی تاریخ
میں پہلی بار پری بجٹ رائونڈ ٹیبل کانفرنس کا انعقاد کیا گیا جس میںاکیڈیمیا ، صنعت و تجارت کے نمائندگان اور دیگر تمام اسٹیک ہولڈرز شامل تھے۔وزیر خزانہ نے بتایا کہ مالی سال 27-2026 کیلئے مجموعی بجٹ کا حجم 5903 ارب 46 کروڑ روپے تجویز کیا جا رہا ہے جو کہ رواں مالی سال کے مقابلے میں 10.7 فیصد زیادہ ہے۔ جاری اخراجات کا تخمینہ 1962 ارب 93 کروڑ روپے جو کہ رواں مالی سال کے مقابلے میں 3.1 فیصد کم ہے جس کی اہم وجہ حکومت کی کفایت شعاری مہم ہے۔آئندہ مالی سال میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 7 فیصد اضافہ کیا جا رہا ہے جس سے تنخواہوں کا خرچہ 1.4 فیصد بڑھ کر 638 ارب 93 کروڑ روپے ہوگا جو کہ حکومت کی رائٹ سائزنگ پالیسی کا نتیجہ ہے۔ اگلے مالی سال میں ریٹائرڈ سرکاری ملازمین کی پنشن میں 3.5 فیصد اضافہ تجویز کیا جا رہا ہے جس سے صوبے کے پنشن اخراجات 500 ارب 12 کروڑ روپے ہوں گے۔عوام کو گراس روٹ لیول پر خدمات فراہم کرنے کی غرض سے پی ایف سی ایوارڈ کے تحت بلدیاتی اداروں کیلئے 5.2 فیصد اضافے کے ساتھ 803 ارب 88 کروڑ روپے کی خطیر رقم مختص کی جارہی ہے۔سروس ڈلیوری اخراجات 783ارب 2 کروڑ روپے ہو گا جس میں 578 ارب62 کروڑ روپے اداروں کے روز مرہ کے اخراجات کا ہے جو کہ حکومت کے موثر اقدامات کے سبب پچھلے مالی سال کی نسبت فیصد 5.1 کم ہے۔اسی طرح کرنٹ کیپیٹل اخراجات کی مد میں 679 ارب 1 کروڑ روپے بھی آئندہ مالی سال کے بجٹ کا حصہ بنانے کی تجویز پیش کی جارہی ہے۔وزیر خزانہ مجتبیٰ شجاع الرحمن نے کہا کہ وزیر اعلی پنجاب مریم نواز شریف کی قیادت میں معاشی مشکلات کے باوجود حکومت نے مضبوط مالی نظم و ضبط، موثر منصوبہ بندی اور عوام دوست پالیسیوں کے ذریعے ترقی کے ایک نئے دور کا آغاز کیا۔ مالی سال 26-2025 بجٹ میں متعارف کروائے گئے نمایاں عوامی فلاحی منصوبے اس وژن کی عملی تعبیر ہیں۔ یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ 1150 ارب روپے کی لاگت سے 26-2025 کے ترقیاتی بجٹ کے تحت 2638 منصوبے پایہ تکمیل تک پہنچے جو کہ مالی سال 2024-25 کے ترقیاتی اخراجات سے 16 فیصد زیادہ ہے۔ مجھے یہ بات ایوان کے سامنے رکھتے ہوئے خوشی محسوس ہو رہی ہے کہ صوبائی محصولات میں خاطر خواہ اضافہ، وسائل کے موثر استعمال اور ایکسپنڈیچر ریشنلائزٹیوکی پالیسی کے باعث ترقیاتی بجٹ کیلئے 752 ارب روپے مختص کیے جارہے ہیں۔
اگر صوبائی محصولات کی بات کی جائے تو وفاقی حکومت کی جانب سے این ایف سی ایوارڈ کے تحت پنجاب کیلئے 4390 ارب 94 کروڑ روپے کی منتقلی کا تخمینہ لگایا گیا ہے جو کہ گزشتہ مالی سال کی نسبت 8.1 فیصد زیادہ ہے،اس کے ساتھ ساتھ پنجاب کے اپنے محصولات میں اضافے کی حکمت عملی اختیار کی گئی ہے۔اسی تناظر میں اگلے مالی سال کیلئے 1209 ارب 86 کروڑ روپے کی صوبائی آمدن کے حصول کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ اس ضمن میں پنجاب ریونیو اتھارٹی 528 ارب 50 کروڑ روپے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے جو کہ مالی سال 2025-26 کے مقابلے میں 55.4 فیصد زائد ہے،بورڈ آف ریونیو کا ٹیکس وصولی کا ہدف 86 ارب 19 کروڑ روپے مقرر کیا جارہا ہے،اگلے مالی سال کیلئے ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن ڈیپارٹمنٹ کو 124 ارب روپے کا ہدف دیا گیا ہے جو کہ رواں مالی سال کی نسبت 77 فیصد کا نمایاں اضافہ ہے۔اسی طرح صوبائی نان ٹیکس محصولات کا تخمینہ 461 ارب 17 کروڑ روپے لگایا گیا ہے جو کہ 26-2025 کی نسبت 52 فیصد زیادہ ہے، ان اہداف کے ذریعے صوبے کی مالی خود کفالت کو مزید مضبوط بنانے اور ترقیاتی ترجیحات کیلئے وسائل کی دستیابی یقینی بنانے میں مدد ملے گی۔وزیر خزانہ مجتبیٰ شجاع الرحمن نے اپنی بجٹ تقریر میں کہا کہ ہمیں اس حقیقت کا ادراک ہے کہ صوبائی محصولات میں خاطر خواہ اضافہ کیے بغیر ترجیحی شعبہ جات اور عوام کی فلاح کے منصوبوں پر سرمایہ کاری ممکن نہیں ۔ وزیر اعلی پنجاب مریم نواز شریف کی قیادت میں محکمہ خزانہ اور دیگر تمام صوبائی محکمہ جات کی انتھک کوششوں کے بعد مالی سال 26-2025 کے آخر تک صوبائی محصولات کا ہدف 99 فیصد حاصل کر لیا جائے گا، مجموعی طور پر ٹیکس اور نان ٹیکس وسائل سے 828 ارب کے ہدف میں سے 820 ارب 16 کروڑ روپے حاصل کر لیے جائیں گے، اس میں پنجاب ریونیو اتھارٹی کے ذریعے 340 ارب روپے کے ہدف کے مقابلے میں 370 ارب روپے اور ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن ڈیپارٹمنٹ کے ذریعے 70 ارب روپے کے ہدف کے مقابلے میں 77 ارب 22 کروڑ روپے کی وصولی متوقع ہے۔ میں اس شاندار کارکردگی پر محکمہ خزانہ اور دیگر متعلقہ اداروں کو دل سے خراج تحسین پیش کرتا ہوں ۔اسی طرح مالی سال 27-2026 میں فارن فنڈ ڈ پروگرام لونز کی مد میں 49 ارب 84 کروڑ روپے اور فارن پراجیکٹ لونز کی مد میں 140 ارب 6 کروڑ روپے کی وصولیاں ہوں گی ۔ وفاقی حکومت اور آئی ایم ایف کے ساتھ طے شدہ مالیاتی فریم ورک کی پاسداری کیلئے ایسٹیمیٹڈ پرونشل سرپلس کی مد میں 910 ارب روپے بھی اس بجٹ میں شامل کئے گئے ہیں جو کہ حکومت پنجاب کی قومی سوچ کی عملی نظیر ہے۔ وزیر خزانہ مجتبیٰ شجاع الرحمن نے بجٹ تقریر میں کہا کہ تعلیم کے شعبے کی ترقی حکومت پنجاب کی اولین ترجیحات میں شامل ہے،تعلیم کے شعبے میں مالی سال 2026-27 کے لیے 750 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز ہے جس میں ترقیاتی مد میں 63 ارب 30 کروڑ اور غیرترقیاتی مد میں 686 ارب 80 کروڑ روپے شامل ہیں۔ مالی سال 27-2026 میں شعبہ تعلیم کیلئے مختص رقم مجموعی بجٹ کا 15 فیصد سے زائد ہے۔اس بجٹ کے ذریعے تعلیمی انفراسٹرکچر کی بہتری ، جدید مہارتوں کے فروغ ، ڈیجیٹل سہولیات کی فراہمی اور معیاری تعلیم تک رسائی کو مزید وسعت دی جائے گی۔
مالی سال 27-2026 میں جاری منصوبوں کو موثر انداز میں آگے بڑھانے کے ساتھ ساتھ متعدد نئے اقدامات بھی متعارف کروائے جا رہے ہیں
تا کہ پنجاب کے ہر بچے کو بہتر اور یکساں تعلیمی مواقع میسر آسکیں۔رواں سال لیپ ٹاپ پروگرام، ہونہار اسکالرشپ، سکول میں پروگرام، پنجاب ایجوکیشن فائونڈیشن کے ذریعے لاکھوں بچوں کو تعلیمی مواقع کی فراہمی ، اضافی کلاس رومز کی تعمیر، آئی ٹی سہولیات کی فراہمی اور تعلیمی انفراسٹرکچر کی بہتری پر خصوصی توجہ دی گئی۔ سی ایم پنجاب لیپ ٹاپ پروگرام کے تحت 1 لاکھ 10 ہزار جدید لیپ ٹاپس کی فراہمی کے لیے 27 ارب روپے کی لاگت سے منصوبہ شروع کیا گیا جس کے تحت مالی سال 26-2025 میں 42000 لیپ ٹاپس تقسیم کیے جاچکے ہیں جبکہ ہونہار سکالر شپ پروگرام کیلئے 15 ارب روپے رکھے گئے جس سے 1 لاکھ 8 ہزار طلبا مستفید ہوئے ۔ سکول میل پروگرام کے تحت پنجاب کے 13 اضلاع میں 7 ارب روپے کی لاگت سے 11 لاکھ 20 ہزار طلبہ کو غذائیت سے بھر پور دودھ فراہم کیا جا رہا ہے۔ یہ منصوبہ اس حقیقت کو مد نظر رکھتے ہوئے شروع کیا گیا کہ صوبے کے 44 فیصد بچے غذائیت کی کمی کا شکار تھے۔ آئندہ مالی سال میں اس پروگرام کے لئے 4 ارب روپے تجویز کیے گئے ہیں۔اسی طرح پیمیا کے تحت سکولوں میں مسنگ اور اضافی کلاس رومز کے تحت سکولوں میں سہولتوں کی فراہمی اور خطرناک عمارتوں کی بحالی کے لیے 40 ارب روپے سے پروگرام کا مالی سال 26-2025 میں آغاز کیا گیا۔ہیں اسی تسلسل میں آئندہ مالی سال میں کالجز میں 244آئی لیبز کے قیام کیلئے 6 ارب 90 کروڑ روپے کی لاگت سے منصوبہ شروع کیا جا رہا ہے جس سے 4 لاکھ 47 ہزار سے زائد طلبا مستفید ہوں گے۔ مزید برآںمریم نواز شریف سینٹر آف اکیڈمک لیڈر شپ،اسٹیم لیبارٹریز اور نواز شریف سینٹرز آف ایکسی لینسکے لئے مجموعی طو پر 40 ارب روپے تجویز کئے گئے ہیں جس کی فراہمی سے لاکھوں بچوں کو معیاری تعلیم میسر ہو گی۔پنجاب ایجوکیشن فائونڈیشن کے تحت پرائیویٹ سیکٹر اشتراک سے معیاری تعلیم کی فراہمی کے پروگرام پر کامیابی کے ساتھ عملی جاری ہے۔ مالی سال 26-2025 میں اس پروگرام پر 36 ارب 50 کروڑ روپے صرف کئے گئے جس کے نتیجے میں 38 لاکھ بچوں کو معیاری تعلیمی مواقع میسر آئے۔وزیر خزانہ مجتبیٰ شجاع الرحمن نے بجٹ تقریر میں کہا کہ صحت کے شعبے میں مالی سال 27-2026 میں 500 ارب 62 کروڑ روپے مختص کرنے کی تجویز ہے جو کہ غیر ترقیاتی اخراجات کی مد میں 424 ارب 32 کروڑ اور ترقیاتی اخراجات کی مد میں 76 ارب 30 کروڑ روپے پر مشتمل ہے۔ مالی سال 27-2026 میں شعبہ صحت کیلئے مختص رقم مجموعی بجٹ کا 10 فیصد سے زائد ہے۔
رواں سال کے دوران جدید ہسپتالوں ، کارڈیالوجی و کینسر علاج کے مراکز ، بنیادی مراکزِ صحت کی اپ گریڈیشن، ایمر جنسی و ڈائلیس سہولیات، اعضا ء کی پیوندکاری ، ذہنی صحت کی خدمات اور عوام کو مفت و معیاری علاج کی فراہمی کے متعدد اقدامات کامیابی سے مکمل کیے گئے ۔مالی سال 26-2025 میں حکومت نے صحت کے شعبے میں متعدد اقدامات کئے ۔نواز شریف انسٹی ٹیوٹ آف کینسر ٹریٹمنٹ اینڈ ریسرچ کی 75 ارب روپے کی لاگت سے تعمیرجاری ہے جس کیلئے آئندہ مالی سال میں 20 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔مزید برآں رواں مالی سال میں مجموعی طور پر 28 ارب 94 کروڑ روپے کی لاگت سے جناح انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی لاہور اور نواز شریف انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی سرگودھا کی تعمیر اور جدید طبی آلات کی فراہمی کے اقدامات کئے گئے ۔ اسی طرح 2 ارب 45 کروڑ روپے کی لاگت سے پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف مینٹل ہیلتھ لاہور کے پرانے بلاکس کی بحالی اور اپ گریڈیشن کا آغاز کیا گیا ۔ 5 ارب روپے کی لاگت سے نشتر ہسپتال ملتان کے ایمر جنسی اور آٹ ڈور ہلاکس کی اپ گریڈیشن پر عملدرآمد کیا گیا۔ایک اور اہم اقدام مریم نواز ہیلتھ کلینک کا ہے جس پر عملدرآمد 21 ارب روپے کی لاگت سے مالی سال 26-2025 میں کیا گیا ۔ اس پروگرام کے 2508بنیادی مراکز صحت اور 115 دیہی مراکز صحت کو آئوٹ سورس کیا گیا تا کہ عوام کو معیاری اور بروقت طبی سہولیات کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔ اس کے علاوہ کلینک آن ویلز منصوبے پر رواں مالی سال میں 3 ارب 50 کروڑ روپے خرچ کیے گئے جس سے 3 کروڑ 7 لاکھ سے زائد مریضوں کو فائدہ پہنچا جبکہ آئندہ مالی سال میں 3 ارب 85 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔مزید برآں 3 ارب 21 کروڑ روپے کی لاگت سے سی ایم ہارٹ سرجری پروگرام ،8 ارب66 کروڑ روپے خرچ کر کے سی ایم انیشیٹو فار ڈائیلاسز پروگرام اور 3 ارب 64 کروڑ روپے کی لاگت سے سی ایم انیشیٹو فار ٹرانسپلانٹ پروگرام جاری رہے۔ ان منصوبوں سے مجموعی طور پر 14 لاکھ سے زائد مریض مستفید ہوئے ہیں۔ اس کے علاوہ، مالی سال 26-2025 میں 1 ارب 5 کروڑ روپے صرف کر کے ذیابطیس کے مریضوں کو انسولین اور دیگر ضروری ادویات کی بلاتعطل فراہمی کو بھی یقینی بنایا گیا۔اسی تسلسل میں9 ارب 60 کروڑ روپے کی لاگت سے شمالی و وسطی پنجاب میں 434 بنیادی مراکز صحت کی بحالی واپ گریڈیشن کے اقدامات کئے گئے تا کہ عوام کو ان کی دہلیز پر معیاری اور جدید طبی سہولیات فراہم اسی کی جاسکیں۔آئندہ مالی سال میں 169ارب روپے کی لاگت سے نواز شریف میڈیکل ڈسٹرکٹ کے قیام کا آغاز کیا جائے گا جس میں چلڈرن ہسپتال ، آرتھو پیڈ ایک اور سرجیکل یونٹ سنٹر آف ایکسیلنس ، پلاسٹک اور برن کثیر یونٹ اور دیگر خصوصی ادارے شامل ہیں۔مزید برآں 15کارڈیک سرجری یونٹس کے قیام کے لیے 9 ارب 30 کروڑ روپے، 29 ٹیچنگ ہسپتالوں میں ایم آر آئی مشینوں کی تنصیب کے لیے 8 ارب 31 کروڑ روپے اور جدید طبی آلات و و تشخیصی سہولیات کی فراہمی جن میں سی ٹی سکین،کیتھ لیب اور نیورو کیتھ لیبز Labs کے قیام کے دیگر منصوبے بھی اس بجٹ کا حصہ ہیں۔مجھے یہ بتاتے ہوئے خوشی ہو رہی ہے کہ نیورو کیتھ کیبز کا منصوبہ پنجاب کی تاریخ میں پہلی دفعہ متعارف کروایا جارہا ہے۔
اس منصوبے کیلئے اگلے مالی سال میں 1 ارب 75 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔اس کے علاوہ پنجاب بھر میں ایمر جنسی سروسز کی توسیع اور استعداد میں اضافے کیلئے تقریباً5 ارب کی تجویز بھی رکھی گئی ہے۔ صحت کی معیاری اور بر وقت سہولیات کی فراہمی کیلئے اس بجٹ میں 15 ارب 21 کروڑ روپے کی لاگت سیڈیجی خان میں کلثوم نواز کینسر ہسپتال بھی تجویز کیا گیا ہے،اسی تسلسل میں 23رب 37 کروڑ روپے کی لاگت سے بہاولپور میں چلڈر ن ہسپتال تعمیر کرنے کی تجویز بھی اس بجٹ کا حصہ ہے تا کہ جنوبی پنجاب کے بچوں کو فوری طبی امداد مہیا ہو سکے۔ فالج کے مریضوں کو معیاری طبی سہولیات فراہم کرنے کیلئے 1 ارب 20 کروڑ روپے کی لاگت سے سٹوک انیشیٹو بھی متعارف کروایا جارہا ہے۔وزیر خزانہ مجتبیٰ شجاع الرحمن نے اپنی بجٹ تقریر میں کہا کہ اقتصادی تبدیلی اور غربت کے خاتمے کا عمل ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ پائیدار روزگار، بڑھتی ہوئی سرمایہ کاری، برآمدات میں اضافہ اور معاشی مواقع کی فراہمی ہی عوام کے معیار زندگی کو بہتر بنانے اور غربت میں کمی لانے کا موثر ذریعہ ہے۔ اسی وژن کے تحت رواں مالی سال میں صنعتی شعبے میں درج ذیل اقدامات متعارف کروائے گئے۔ رواں مالی سال میں کاروباری سرگرمیوں ، سرمایہ کاری اور روزگار کے فروغ کیلئے 47 ارب 70 کروڑ روپے کیسی ایم پنجاب آسان کاروبار کارڈ،سی ایم پنجاب آسان کاروبار فنانس اور سی ایم پنجاب آسان کاروبار ایکسپورٹ فنانس کے منصوبوں پر عملدرآمد کیا گیا جس کے تحت ایک لاکھ 10 ہزار سے زائد کاروباری افراد کو 125 ارب روپے کے بلاسود قرضے فراہم کیے گئے۔قائد اعظم بزنس پارکٹ شیخوپورہ میں 4 ارب روپے کی لاگت سے گارمنٹ سٹی کا قیام عمل میں لایا گیا جس سے ٹیکسٹائل و صنعت کو جدید سہولیات میسر آئیں۔6 ارب روپے کی لاگت سے فیصل آباد میں علامہ اقبال انڈسٹریل سٹی کی تعمیر کا منصوبہ 6ار اگلے مالی سال میں شامل ہے۔اس سلسلے کو آگے بڑھاتے ہوئے اکنامک ٹرانسفارمیشن آف پنجاب کے تحت آئندہ مالی سال میں صنعت پر مبنی معیشت کے فروغ کیلئے مجموعی طور پر 783 ارب 80 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری متوقع ہے جس میں 403 ارب 80 کروڑ روپے کی سرکاری سرمایہ کاری شامل ہے جبکہ 380 ارب روپے کی نجی سرمایہ کاری متحرک ہونے کی توقع ہے۔ یہ سرمایہ کاری روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے ، آمدنی میں اضافے ، برآمدات کے فروغ اور غربت میں کمی کے ذریعے پنجاب کی معیشت کو مزید مضبوط اور پائیدار بنیادوں پر استوار کرے گی۔آئندہ مالی سال میں برآمدات میں اضافے اور ویلیوایڈیشن کے فروغ کیلئے گارمنٹس سیکٹر میں 13 ارب 30 کروڑروپے کی لاگت سے پلگ اینڈ پلے فیکٹری پارکس قائم کیے جائیں گے جن سے سالانہ 300 ملین ڈالر اضافی برآمدات ، 20 ہزارٹی ملازمتیں اور 40 سے زائد نئے گارمنٹس یونٹس کے قیام کی راہ ہموار ہوگی۔ علاوہ ازیںلیدر اور فٹ ویئر سیکٹر میں 4 ارب 60 کروڑ روپے کی لاگت سے ویسٹ واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ قصور ،کامن فیسلیٹی سنٹر اور ٹیسٹنگ لیبارٹریز قائم کی جائیں گی جس سے 100 سے زائد ٹینریزبین الاقوامی معیار کے مطابق کام کر سکیں گی اور 300 ملین ڈالر تک اضافی برآمدی صلاحیت پیدا ہوگی ۔ اسی طرح فارما سیوٹیکل شعبے میں 2 ارب روپے کی لاگت سے بائیو ایکوپمنٹ لیب اپ گریڈ کی جائے گی۔ڈیل جس سے 20 سے زائد بائیوا یکو یو بیلنس اسٹڈیز اور مقامی ادویہ سازی کے فروغ کی راہ ہموار ہوگی ۔ معیشت کے فروغ اور کاروباری سرگرمیوں کو مزید سہل ، شفاف اور مسابقتی
بنانے کے لیے حکومت متعدد اصلاحات متعارف کروارہی ہے،اس سلسلے میں یونی فیلڈ انسپکشن رجیم نافذ کیا جا رہا ہے جس کے تحت 15 سے زائد مختلف اداروں کے معائنہ جاتی نظام کو ون ونڈوسسٹم پر لایا جائے گا۔ اس اقدام سے کاروباری اداروں کے لیے قواعد وضوابط کی تعمیل کی لاگت میں 40 سے 60 فیصد تک کمی آئے گی ، کاروبار کرنے میں آسانی پیدا ہوگی اور برآمدی صنعت کو غیر ضروری رکاوٹوں سے نجات ملے گی۔اسی طرح خصوصی اقتصادی زونز میں سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے لینڈ لیز پالیسی فار سپیشل اکنامک زونز متعارف کروائی جا رہی ہے، جس کے تحت زمین کی لیز کی شرح 50 ہزار سے 2 لاکھ روپے فی ایکڑ ماہانہ مقرر کی جائے گی۔ ماحول دوست پیداوار، برآمدات میں اضافے اور کم ترقی یافتہ علاقوں میں سرمایہ کاری کے لیے 40 فیصد تک رعایتیں دی جائیں گی۔ اس پالیسی کے نتیجے میں تقریبا 1995 ارب روپے کی سرمایہ کاری متوقع ہے جو صنعتی ترقی، روزگار کے مواقع اور معاشی سرگرمیوں میں نمایاں اضافہ کرے گی۔کھیلوں کی مصنوعات سیکٹر کی ترقی کیلئے 5 ارب 50 کروڑ روپے کی لاگت سے فیفا ، آئی سی سی ،آئی ٹی ایف معیا رکی ٹیسٹنگ فیسلیٹیز اور سرٹیفکیشن پروگرام متعارف کرائے جائیں گے جن سے ایک ہزار سے زائد برآمدی ادارے مستفید ہوں گے اور 100 ملین ڈالر اضافی برآمدات متوقع ہیں۔ کٹلری اینڈ ہینڈ ٹولز سیکٹر میں4 ارب روپے کی لاگت سے آرٹس اینڈ کرافٹس ویلج اور ٹیکنالوجی کی اپ گریڈیشن کیلئے مالی معاونت فراہم کی جائے گی جس سے 2500 نئی ملازمتیں پیدا ہوں گی اور ویلیوایڈڈ مصنوعات کی برآمدات میں اضافہ ہوگا۔سرامکس سیکٹر میں 25 کروڑ روپے کی لاگت سے گجرات انسٹی ٹیوٹ کوجدید بھٹیوں اور ٹیسٹنگ سہولیات سے آراستہ کیا جائے گا، جبکہ پنکھوں کے سیکٹر میں 70 کروڑ روپے کی لاگت سے ریگولیٹڈقائم کی جائے گی جس سے یورپی اور دیگر سیمبریل میٹریل ٹیسٹنگ لیب منڈیوں تک رسائی آسان ہوگی ۔مجھے یہ بتاتے ہوئے خوشی ہو رہی ہے کہ صنعتی بنیادوں کو مزید مضبوط بنانے کیلئے 35 ارب روپے کی لاگت سے انڈستریل اسٹیٹس ڈویلپمنٹ پروگرام کے تحت فیصل آباد، وہاڑی، رحیم یارخان ،بہاولپور اور اے آئی آئی سی میں صنعتی اسٹیٹس کی ترقی کی جائے گی، جس سے ایک ہزار سے زائد نئی صنعتی اکائیاں، 80 ارب روپے کی نجی سرمایہ کاری اور 40 ہزار سے زائد روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے۔ مزید برآں 20 ارب روپے کی لاگت سے کلسٹر انفراسٹر اکچر ڈویلپمنٹ پروگرام کے ذریعے برآمدی کلسٹر ز میں مشینری اور بنیادی انفراسٹرکچر کی سو فیصد مالی معاونت فراہم کی جائے گی۔
صنعتی شعبے کی پائیدار ترقی ، ماحولیاتی معیار کی پاسداری اور بین الاقوامی منڈیوں تک رسائی کو یقینی بنانے کیلئے آئندہ مالی سال میں 25 ارب روپے کی لاگت سے کمبائنڈ ایفلوئنٹ ٹریٹمنٹ پلانٹ پیکج بھی متعارف کرایا جا رہا ہے۔ اس اقدام کے تحت چار صنعتی اسٹیٹس میں 70ایم جی ڈی ویسٹ واٹر ٹریٹمنٹ کی استعداد پیدا کی جائے گی۔صنعتی ترقی ایکسپورٹ پروگرام فنانسنگکے تحت 463 صنعتی منصوبوں کو رعایتی مالی معاونت فراہم کی جائے گی ، جس سے 300ارب روپے کی نجی سرمایہ کاری متحرک ، 29400 براہ راست ملازمتیں پیدا اور 5 ارب 60 کروڑ ڈالر کی اضافی برآمدیصلاحیت حاصل ہوگی ۔ مزید برآں، 100 ارب روپے کی لاگت سے انڈستریل گروتھ ایکسلیٹرز کے تحت 2 صنعتی اسٹیٹس اور 4 ایگرو پروسیسنگ پارکس کیلئے مشینری ، آلات اور سولر توانائی پر معاونت فراہم کی جائے گی، جبکہ 70 کروڑ روپے کی لاگت ای بز اینڈ ای کامرنس ریڈلائنززکے ذریعے ڈیجیٹل تجارت کے فروغ ، ای کامرس ہب کے قیام اور کاروباری اداروں کو عالمی منڈیوں سے منسلک کیا جائے گا۔ اس منصوبے کے نتیجے میں اب تک 6 ارب 90 کروڑ کی وصولیاں ڈیجیٹل ذرائع سے ممکن ہوئی ہیں۔ اس کے تحت ای کامرس چار مراکز 2000 کاروباری اداروں کو آن لائن تجارت اور برآمدات کے مواقع فراہم کریں گے۔ اس اقدام سے سالانہ 2 کروڑ 45 لاکھ امریکی ڈالر مالیت کی ڈیجیٹل فروغ اور برآمدی سرگرمیوں میں اضافہ متوقع ہے۔ باغبانی اور فلوریکلچر کے شعبے کی ترقی کیلئے 30 کروڑ روپے کی مالی معاونت سٹیپ پروگرام کے ذریعے فراہم کی جائے گی جس سے کولڈچین اور رسید اور ترسیل کے نظام کو فروغ دیا جائے گا، اور 100 سے زائد فلوریکلچر اداروں کو فائدہ پہنچے گا۔صوبے کے معدنی وسائل سے زیادہ سے زیادہ معاشی فوائد حاصل کرنے کے لیے سی ایم پنجاب ویلیو ایڈیشن فنانس فار پنک سالٹ پروگرام کے لئے ایک ارب پچاس کروڑ روپے مختص کرنے کی تجویز ہے اس اقدام کے تحت پنک سالٹ سے وابستہ 200 معدنی و صنعتی اداروں کو رعایتی مالی معاونت فراہم کی جائے گی۔ وزیر خزانہ مجتبیٰ شجاع الرحمن نے اپنی بجٹ تقریر میں کہاکہ عوام کو بہتر پینے کے صاف پانی اور سینی ٹیشن کی سہولیات کی فراہمی کیلئے مالی سال 27-2026 میں ترقیاتی و غیر ترقیاتی اخراجات کی مد میں مجموعی طور پر 507 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں جس میں 187 ارب 10 کروڑ روپے ترقیاتی اخراجات کی مد میں ہیں۔ جن کے مثبت استعمال سے مضبوط بلدیاتی نظام ، متوازن علاقائی ترقی اور پنجاب کے شہری اور دیہی علاقوں میں بنیادی سہولیات کی فراہمی کیلئے متعدد اقدامات کئے گئے جن کے تحت 137 ارب روپے کی مجموعی لاگت سے لاہور ڈیلپمنٹ پروگرام پرعملدرآمد جاری ہے تا کہ شہری انفراسٹرکچر، بنیادی سہولیات اور بلدیاتی خدمات کی فراہمی کو مزید بہتر بنایا جا سکے۔ جبکہ آئندہ مالی سال میں اس پروگرام کیلئے 10 ارب 60 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔ صوبے بھر میں سیوریج، اسٹارم واٹر ڈرینیج سسٹم، گلیوں کی پختگی اور متعلقہ بنیادی ڈھانچے کی بہتری کیلئے 505 ارب روپے کی مجموعی لاگت سے پنجاب ڈویلپمنٹ پروگرام کا مالی سال 26-2025 میں آغاز کیا گیا۔ اس پروگرام کے پائیہ تکمیل تک پہنچنے پر صوبے کے 66 بڑے شہروں کے عوام اس کے ثمرات سے مستفید ہوں گے۔ جبکہ آئندہ مالی سال میں اس منصوبے کیلئے 31 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز ہے۔ 59 ارب روپے کی لاگت سے مثال گائوں پروگرام کے ذریعے پنجاب کے 10 ڈویژنز میں 485 دیہات کو جدید بنیادی سہولیات سے آراستہ ماڈل دیہات میں تبدیل کیا جا رہا ہے۔ آئندہ مالی سال میں اس پروگرام کیلئے 10 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز ہے۔وزیر خزانہ نے اپنی بجٹ تقریر میں
مزید کہا کہ بے گھر اور کم آمدنی والے خاندانوں کو اپنی چھت اپنا گھر پروگرام کے تحت 1 لاکھ73 ہزار ہائوسنگ قرضے جاری کئے گئے جبکہ اس مقصد کے حصول کیلئے 255 ارب روپے صرف ہوئے ہیں۔ اس پروگرام کے تحت اب تک 1 لاکھ 1 ہزار سے زائد گھر تعمیر ہو چکے ہیں جبکہ 32 ہزار سے زائد گھر زیر تعمیر ہیں۔ اگلے مالی سال کے دوران اس پروگرام کے تحت 2 لاکھ افراد کو 300 ارب روپے کے بلاسود قرضے دینے کا منصوبہ ہے۔ یہاں میں اس امر کا ذکر کرنا چاہوں گا کہ ہماری حکومت کے اس دور اندیشی پر مبنی پروگرام کو نہ صرف پاکستان بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی پذیرائی ملی۔ حال ہی میں باکو میں منعقدہ ورلڈ اربن فورم کے اجلاس میں اس پروگرام کو سراہا گیا جو کہ ہماری حکومت کے لیے باعث فخر ہے۔اسی طرح اپنی زمین اپنا گھر پروگرام کے تحت زمین کی فراہمی کیلئے مالی سال 26-2025 میں 1 ارب 47 کروڑ روپے فراہم کئے گئے جس کے تحت اب تک 2 ہزار خاندانوں کو بلا معاوضہ پلاٹس فراہم کئے گئے ہیں۔45 ارب روپے کی لاگت سے پنجاب بھر کے 18 اضلاع میں چیف منسٹر صاف پانی پروگرام کے تحت صاف اور محفوظ پینے کے پانی کی فراہمی کے منصوبوں پر عملدرآمد جاری ہے ۔ یہ منصوبہ آئندہ مالی سال میں 8 ارب کی لاگت سے اگلے بجٹ کا حصہ ہے۔ ان منصوبوں کے علاوہ ، آئندہ مالی سال میں چیف منسٹر رورل سینی ٹیشن پروگرام کا 300 ارب روپے کی لاگت سے آغاز کیا جا رہا ہے۔علاوہ ازیں 5 ارب روپے کی لاگت سے سی ایم سیٹین ایبل گولز پروگرام شروع کیا جا رہا ہے تا کہ پائیدار ترقی کے اہداف اور عوامی فلاح کے منصوبوں کو مزید تقویت دی جا سکے۔ایک اور اہم اقدام چیف منسٹر وتسن پروگرام کا ہے جو 4 ارب روپے کی لاگت سے متعارف کرایا جا رہا ہے، جس کا مقصد عوام کو پانی کی فراہمی اور صفائی ستھرائی کی بہتر سہولیات مہیا کرنا ہے۔شہری سہولیات کی بہتری کیلئے 10 ارب 70 کروڑ روپے کی لاگت سے مری ڈویلپمنٹ پروگرام شروع کیا گیا۔ 62 ارب روپے کی مجموعی لاگت سے پنجاب انٹر میڈیٹ سٹیز کے تحت پنجاب کے 10 درمیانے اضلاع میں امپورٹنٹ انویسٹمنٹ پروگرام کے تحت پانی کی فراہمی ، سیوریج ، سالڈ ویسٹ مینجمنٹ اور دیگر شہری خدمات کے منصوبوں پر عملدرآمد جاری ہے ڈریمز منصوبہ تقریباً 64 ارب 48 کروڑ روپے کی لاگت سے راولپنڈی اور بہاولپور میں چل رہاہے ۔پنجاب رورل سسٹین ایبل واٹر سپلائی اینڈ سینی ٹیشن پراجیکٹتقریباً96 ارب 20 کروڑ روپے کی لاگت سے پنجاب کے 16 اضلاع کے تقریباً 2,000 دیہات میں جاری ہے۔علاوہ ازیں 270 ارب روپے کی فراہمی سے صوبہ بھر میں ستھرا پنجاب پروگرام پر عملدرآمد کیا گیا، جس کے تحت صوبہ بھر کی 12 کروڑ عوام کو بہتر صفائی ستھرائی کی سہولیات فراہم ہوئیں اور ماحول کو مزید صاف اور صحت بخش بنایا گیا۔ اس منصوبے کیلئے آئندہ مالی سال میں بھی 170 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں۔
ستھرا پنجاب بھی ہماری حکومت کے ان عوام دوست منصوبوں میں سے ایک ہے جس کو متعدد بین الاقوامی فورمز پر پذیرائی ملی ۔ اس منصوبے کو کاپ 30جیسے بین الاقوامی اجلاس میں پیش کیا گیا۔ علاوہ ازیں اہم ترین بین الاقوامیاخباروں اور نیوز چینل جیسا کہ بی بی سی ،بلومبرگ،فاربزنے اس پروگرام کی افادیت کو تسلیم کیا۔ پنجاب بھر میں پارکس کے قیام، بحالی اور اپ گریڈیشن کے لیے 2 ارب روپے کی لاگت سے خصوصی پروگرام متعارف کرایا جارہا ہے۔وزیر خزانہ پنجاب مجتبیٰ شجاع الرحمن نے اپنی بجٹ تقریر میں مزید کہا کہ زراعت، لائیو اسٹاک اور آبی زراعت پنجاب کی معیشت ، غذائی تحفظ ، دیہی روزگار اور برآمدات کے فروغ کے بنیادی ستون ہیں۔ ان شعبوں کی استعداد کار کو بروئے کار لانے اور انہیں معاشی ترقی کے محرک میں تبدیل کرنے کے لیے حکومت پنجاب نے آئندہ مالی سال میں ترقیاتی و غیر ترقیاتی اخراجات کی مد میں 132 ارب 54 کروڑ روپے مختص کیے ہیں جبکہ آئندہ آنے والے 3 سالوں میں حکومت کے اکنامکس ٹرانسفارمیشن اقدامات کے تحت زرعی ویلیوایڈیشن، لائیواسٹاک ویلیو اسٹریم اور آبی زراعت کے شعبوں میں حکومتی سرمایہ کاری تقریباً 481 ارب روپے ہوگی ، جس کے نتیجے میں نجی شعبے کی جانب سے 134 ارب روپے کی اضافی سرمایہ کاری متوقع ہے، جبکہ ان شعبوں میں مجموعی سرمایہ کاری کا حجم 615 ارب روپے سے تجاوز کر جائے گا۔ اس سرمایہ کاری کے ذریعے پیداوار ، ویلیو ایڈیشن، برآمدات ، روزگار اور دیہی خوشحالی کے نئے مواقع پیدا کیے جائیں گے۔ کسانوں کی مالی معاونت کے لیے کسان کارڈ پروگرام ایک اہم سنگ میل ثابت ہوا ہے۔ رواں مالی سال میں 9ارب 86 کروڑ روپے کی لاگت سے 8 لاکھ 25 ہزار کسانوں کو 251 ارب روپے کے بلا سود قرضے فراہم کیے گئے جن کی ریکوری کا تناسب 99 فیصد ہے۔ اس پروگرام کے تسلسل میں آئندہ مالی سال کے لیے 10 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز ہے جس کے ذریعے 10 لاکھ کسانوں کو کھاد، پیچ ، زرعی ادویات اور دیگر زرعی مداخل کی خریداری کے لیے معاونت فراہم کی جائے گی۔ زرعی میکانا ئزیشن کے فروغ کے لیے گرین ٹریکٹر پروگرام کے تحت رواں مالی سال میں 5 ارب روپے کی لاگت سے 9900 کسانوں اور 9 ارب 60 کروڑ روپے کی لاگت سے مزید 9300 کسانوں کو ہائی پاور ٹریکٹر ز فراہم کیے گئے ۔ اس پروگرام کے اگلے مرحلے میں 7 ارب روپے کی لاگت سے 10 ہزار گرین لو پاور ٹریکٹر جبکہ مزید 9 ارب 90 کروڑ روپے کی لاگت سے مزید 6500 ہائی پاور ٹریکٹر ز کسانوں کو سبسڈی پر فراہم کیے جائیں گے۔7 ارب 81 کروڑ روپے کے واٹر ایفی شینٹ ایگریکلچر پروگرام کے ذریعے ایک لاکھ 50 ہزار کسان مستفید ہوئے ۔ جبکہ 8 ارب 82 کروڑ روپے کی لاگت سے سولرائزیشن آف ایگریکلچر ٹیوب ویلزپروگرام کے تحت 7086زرعی ٹیوب ویلز کو شمسی توانائی پرمنتقل کیا جا رہا ہے۔
اسی تسلسل میں
آئندہ مالی سال کے دوران 36 ارب 12 کروڑ روپے کے پنجاب کلائمیٹ ریسلنٹاینڈ لو کاربن ایگریکلچر میکانائزیشن پروگرام کے تحت چھوٹے کا شتکاروں کو جدید زرعی مشینری تک رسائی فراہم کی جائے گی۔ زرعی شعبے میں انسانی وسائل کی ترقی کے لیے رواں مالی سال میں 2 ارب 16 کروڑ روپے کی لاگت سے تحت انٹرن شپ سکیم فار ایگریکلچر گریجوایٹس کے تحت1,661 نوجوانوں کو عملی تربیت فراہم کی گئی جبکہ آئندہ مالی سال میں 2 ارب 70 کروڑ روپے کی لاگت سے 3,000 زرعی گریجوئیٹس کو اس پروگرام میں شامل کیا جائے گا۔ اسی طرح کسانوں کو ایک ہی چھت تلے جدید زرعی سہولیات کی فراہمی کے لیے آئندہ مالی سال میں 1 ارب 82 کروڑ روپے کی لاگت سے مزید دس ماڈل ایگریکلچر مالز قائم کیے جائیں گے اور یہ پنجاب میں اس نوعیت کا منفرد اور انقلابی قدم پہلی دفعہ اٹھایا گیا ہے۔اکنامک ٹرانسفارمیشن پلان کے تحت سرگودھا، خانیوال، اوکاڑہ اور بھکر میں ایگرو پارکس کے قیام پر 60 ارب روپے خرچ کیے جائیں گے جس کے ذریعے اگلے تین سالوں میں 500 سے زائد نی صنعتیں قائم ہوں گی ، 20 ارب روپے سے زائد نجی سرمایہ کاری آئے گی اور تقریباً 20 ہزار براہ راست و بالواسطہ روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے۔ ایگریکلچر میکانائزیشن کے فروغ کے لیے 135 ارب روپے کے پروگرام سے زرعی پیداوار میں 120 ارب روپے کے اضافی فوائد حاصل ہوں گے، زرعی مشینری کی درآمدات میں 70 فیصد تک کمی آئے گی اور 48 ارب روپے کی نجی سرمایہ کاری متوقع ہے۔ ویٹ ویلیوانہاسٹمنٹ کی بہتری کے لیے 20 ارب روپے کے منصوبوں کے ذریعے سالانہ 289 ملین ڈالر کی اضافی معاشی قدر پیدا ہوگی ، دولاکھ کسان مستفید ہوں گے ، کسانوں کی آمدن میں 30 تا 50 فیصد اضافہ ہوگا اور فصل کے بعد ہونے والے نقصانات میں نمایاں کمی آئے گی۔ علاوہ ازیں آم، کینو اور آلو پراسیسنگ کے منصوبوں پر 15 ارب روپے کی سرکاری سرمایہ کاری کے نتیجے میں 20 ہزار سے زائد روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے، 48 ارب روپے کی نجی سرمایہ کاری متحرک ہوگی اور 200 ملین ڈالر کی اضافی برآمدات حاصل ہوں گی۔
وزیر خزانہ مجتبیٰ شجاع الرحمن نے اپنی بجٹ تقریر میں کہا کہ 5 ارب 20 کروڑ روپے کی لاگت سے سی ایم پنجاب ہارڈ ٹرانسفارمیشن ٹو انہاسٹمنٹ لائیو سٹاک پروڈکیٹویٹی پروگرام کے ذریعے جانوروں کی نسل اور پیداواری صلاحیت میں بہتری لانے کے اقدامات کیے گئے ۔ 2 ارب روپے کی لاگت سے 4,385 دیہی خواتین کو لائیو اسٹاک اثاثے فراہم کیے گئے ۔ ان اقدامات کے تسلسل میں آئندہ مالی سال کے لیے 4 ارب 44 کروڑ روپے کی لاگت سے لائیو اسٹاک کارڈ فیز IIکے تحت 3 لاکھ مویشی پال حضرات کو بلا سود قرضے فراہم کیے جائیں گے جبکہ لائیو سٹاک سپورٹ پروگرام کے تحت 3 ارب 12 کروڑ روپے کی لاگت سے 10 ہزار دیہی خواتین میں دودھ دینے والے جانور تقسیم کیے جائیں گے۔مویشیوں کی صحت کی بہتر سہولیات کی فراہمی کے لیے آئندہ مالی سال میں 4 ارب 85 کروڑ روپے کی لاگت سے146 ویٹرنری ہاسپیٹلز کی بحالی اور 10 ارب 17 کروڑ روپے کی لاگت سے 482موبائل ویٹرنری ڈسپنسریز کی تجویز بھی شامل ہے۔ جبکہ 1 ارب روپے سے 2 لاکھ 40ہزار مویشی پال حضرات کو جدید طریقہ ہائے پرورش اور کاروباری مہارتوں کی تربیت دینے کیلئے مختص کئے گئے ہیں۔اکنامک ٹرانسفارمیشن پلان کے تحت لائیو میٹ پروگرام سے گوشت کی ویلیوایڈیشن کے لیے 19 ارب 10 کروڑ روپے کی حکومتی معاونت سے 65 ارب روپے کی نجی سرمایہ کاری متحرک ہوگی ، گوشت کی برآمدات میں 200 فیصد اضافہ ، 15 ہزار سے زائد روزگار کے مواقع اور بعد از ذبح نقصانات میں 8 تا 12 فیصد کمی متوقع ہے۔ علاوہ ازیں لائیو ملک پروگرام کے تحت دودھ کی پیداوار اور پراسیسنگ کے فروغ کے لیے 25 ارب 90 کروڑ روپے کے پروگراموں کے ذریعے برآمدات میں تین گنا اضافہ، درآمدی بل میں 40 ملین ڈالر کی کمی اور کسانوں کی آمدن میں دو گنا اضافہ متوقع ہے۔ آبی زراعت اور ماہی پروری کے فروغ کے لیے 111 ارب 97 کروڑ روپے کی مجموعی لاگت سے شرمپ اسٹیٹس ،ایکو بزنس ہب،اور شرمپ فارمنگ کے چھ منصوبوں پر عملدرآمد جاری ہے۔ مزید برآں آئندہ مالی سال میں 9 ارب 66 کروڑ روپے کی لاگت سے ماڈل فش مارکیٹ،47ارب 40کروڑ کی لاگت سے چھ ایکوا بزنس ہبز،5ارب29کروڑ کی لاگت سے نیچر انکلیو اور3ارب کی لاگت سے مری کے علاقے مسروٹ میںٹرائوٹ ہیچری کی اپ گریڈیشن کے منصوبے شروع کیے جائیں گے۔اکنامک ٹرانسفارمیشن وژن کے تحت آبی زراعت کے فروغ کے لیے 80 ارب روپے کی سرکاری سرمایہ کاری سے تین شرمپ اسٹیٹس، ایکوا بزنس بہز اور فش مارکیٹس قائم کی جائیں گی ، جس کے نتیجے میں 30 ارب روپے کی نجی سرمایہ کاری متحرک ہو گی جبکہ سالانہ 235 ملین ڈالر سے زائد مالیت کی پیداوار اور برآمدی آمدن حاصل ہوگی ۔ یہ تمام اقدامات اس امر کا مظہر ہیں کہ حکومت محدود وسائل کو ترقی ، برآمدات ، روز گار اور نجی سرمایہ کاری کے نئے مواقع میں تبدیل کر رہی ہے۔
وزیر خزانہ مجتبیٰ شجاع الرحمن نے اپنی بجٹ تقریر میں کہا کہ وزیر اعلی مریم نواز شریف نے اپنی قیادت کے آغاز ہی سے اس عزم کا بارہا اظہار کیا ہے کہ پنجاب کے ہر شہری کو ستھر اپنجاب، محفوظ پنجاب اور کھیلتا پنجاب فراہم کیا جائے گا ، انہی وعدوں کی تکمیل کیلئے سماجی تحفظ کے شعبے میں مالی سال 26-2025 کے دوران سوشل سپینڈنگ کی مد میں 361 ارب روپے خرچ کیے گئے ۔یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ مالی سال 26-2025 میں 20 ارب 80 کروڑ روپے کی لاگت سے پنجا ب سوشیو اکنامکس رجسٹریا اتھارٹی مکمل کی گئی جس کے تحت 11 کروڑ سے زائد افراد کا سماجی و معاشی ڈیٹا جمع کیا گیا تا کہ حکومتی فلاحی پروگراموں کی موثر ہدف بندی اور شفاف فراہمی کو یقینی بنایا جا سکے۔اسی تناظر میں حکومت پی ایس ای آر کو اتھارٹی میں تبدیل کرنے جا رہی ہے اس کے ساتھ ساتھ پی ایس ای آر کی توسیع کیلئے مالی سال 27-2026 میں 2 ارب روپے بھی مختص کیے گئے ہیں۔اسی سلسلے کو آگے بڑھاتے ہوئے پنجاب سوشیو پروٹیکشن اتھارٹی کی تنظیم نو اور استعداد کار میں اضافے کیلئے 2 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں تا کہ سماجی تحفظ کے پروگراموں کی موثر نگرانی ہو سکے۔ رواں سال کے اہم منصوبوں میں ایک منصوبہ ہمت کارڈپروگرام بھی شامل ہے جس کے تحت خصوصی افراد کی معاونت کے لیے 4 ارب 83 کروڑ روپے مختص کیے گئے جس سے 1 لاکھ خصوصی افراد مستفید ہوئے۔ جبکہ آئندہ مالی سال میں اس منصوبے کیلئے 5 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔لائیو اسٹاک کے شعبے میں 3 ارب روپے کی لاگت سے لائیو سٹاک کارڈ پروگرام کے ذریعے 29,265 مویشی پال حضرات کو مالی معاونت فراہم کی گئی۔ جبکہ آئندہ مالی سال میں اس منصوبے کیلئے 4 ارب 40 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔اسی طرح مریم نواز سوشل سکیورٹی راشن کارڈ کے تحت24 ارب 87 کروڑ روپے خرچ کیے گئے تا کہ صنعتی کارکنوں اور کم آمدن
والے خاندانوں کو بنیادی ضروریات کے حصول میں معاونت فراہم کی جا سکے جبکہ مالی سال 27-2026 کیلئے 40 ارب روپے کی خطیر رقم مختص کی گئی ہے۔
مزید برآں دھی رانی پروگرام کے تحت 5000 مستحق جوڑوں کی اجتماعی شادیوں کے لیے 1 ارب 77 کروڑ روپے خرچ کیے گئے جبکہ آئندہ مالی سال میں اس منصوبے کیلئے 1 ارب 70 کروڑ روپے تجویز کیے گئے ہیں۔ خصوصی افراد کے لیے مصنوعی اعضاء ، سماعتی آلات اور دیگر معاون سہولیات کی فراہمی کے لیے 1 ارب روپے کی لاگت سے 18803 مستحق افراد مستفید ہوئے ۔ آئندہ مالی سال میں اس پروگرام کیلئے 3 ارب 70 کروڑ روپے مختص کئے گئے ہیں جس سے 40 ہزار فراد مستفید ہوں گے۔ جبکہ پنجاب کے متعدد اضلاع میں اول ایج ہومز (عافیت)کے قیام کیلئے بھی 2 ارب 6 کروڑ روپے مختص کئے گئے ہیں۔1 ارب روپے کی لاگت سے مریم کو بتائیںپروگرام کے تحت مالی سال 26-2025 میں 13757 شہریوں کو مالی معاونت فراہم کی گئی۔مزید بر اں رمضان نگہبان پیکج کے تحت رمضان 2026 میں 39 ارب روپے کی لاگت سے تقریباً 34 لاکھ مستحق خاندانوں کو 10 ہزار روپے کی مالی امداد فراہم کی گئی۔امام مساجد کی مالی معاونت کیلئے 9 ارب 22 کروڑ روپے بھی صرف کئے گئے جس کے تحت 60 ہزار آئمہ مساجد کوماہانہ 25 ہزار روپے فراہم کیے گئے ۔ اس اہم اقدام کیلئے اگلے مالی سال میں 18 ارب 50 کروڑ روپے کی خطیر رقم مختص کی گئی ہے۔سماجی ترقی کے شعبے میں مالی سال 26-2025 کے دوران اقلیتی برادریوں ، خواتین اور سماجی شمولیت کے فروغ کے لیے متعدد اقدامات کیے گئے جبکہ مالی سال 27-2026 میں خطیر رقم مختص کرنے کی تجویز ہے۔ رواں سال میں 2 ارب 11 کروڑ روپے کی لاگت سے گوردواروں ، گرجا گھروں، مندروں ، قبرستانوں اور دیگر مذہبی و تاریخی مقامات کی تعمیر ، بحالی اور ترقی کے منصوبوں پر کام کیا گیا جبکہ آئندہ مالی سال میں بھی اسی مقصد کے لیے 5 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔اسی تناظر میں سی ایم مینارٹی کارڈ کے تحت 3 ارب روپے کی لاگت سے مستحق اقلیتی خاندانوں کو مالی معاونت فراہم کی گی۔ سی ایم مینارٹی ڈویلپمنٹ پروگرام کے تحت آئندہ مالی سال میں اقلیتی برادری کو سہولیات فراہم کرنے کیلئے 4 ارب روپے کی لاگت سے متعدد منصوبے تجویز کئے گئے ہیں۔
جنوبی پنجاب اور کچہ کے علاقوں کی پسماندگی کے خاتمہ، عوامی سہولیات کی فراہمی اور پائیدار ترقی کو یقینی بنانے کیلئے سدرن پنجاب پاورٹی ایلیویشن پراجیکٹ کے لیے 25 ارب روپے کی لاگت سے جنوبی پنجاب میں جاری ہے جس کے ذریعے 6,985 مستحق خاندان مستفید ہوئے ہیں۔ مالی سال 27-2026 میں اس پروگرام کیلئے 2 ارب 50 کروڑ روپے مختص کئے گئے ہیں۔نوجوانوں کی معاشی خود مختاری کے لیے سکلز ٹریننگ پروگرام کے تحت 7500 نوجوانوں کو ہنرمندی کی تربیت فراہم کرنے کے لیے 10 کروڑ روپے رواں مالی سال میں مختص کیے گئے جبکہ اقلیتی طلبا کے لیے 50 کروڑ روپے کی لاگت سے تعلیمی وظائف اور میرٹ اس کالرشپس کا اجرا بھی کیا گیا۔ لینٹ کے مہینے میں 43 کروڑ 50 لاکھ روپے کی لاگت سے مسیحی برادری کے 32,600 مستحق افراد کو نقد امداد بھی فراہم کی گئی۔ عوام کو مہنگائی سے ریلیف فراہم کرنے ، قوت خرید میں بہتری لانے ، معیاری اشیا ئے ضروریہ کی سرکاری نرخوں پر دستیابی کو یقینی بنانے اور منصفانہ مارکیٹ نظام کے فروغ کیلئے پنجاب سہولت بازار اتھارٹی ہر وقت کوشاں رہتی ہے۔ اس – کے دائرہ کار کو بڑھانے کیلئے مالی سال 26-2025 میں 10 ارب روپے مختص کیے گئے تھے۔ یہ اتھارٹی سہولت آن دی گو کے تحت ضروری اشیا خوردونوش اور دیگر بنیادی اشیا شہریوں کی دہلیز تک بلا معاوضہ پہنچانے میں مدد کرتی ہے جبکہ آئندہ مالی سال میں اس اتھارٹی کیلئے 19 ارب 34 کروڑ روپے تجویز کیے گئے ہیں۔ علاوہ ازیں، پنجاب بھر صنعت زارزکی اپ گریڈیشن کیلئے 1 ارب 43 کروڑ روپے بھی رکھے گئے ہیں۔اس کے علاوہ پنجاب ہیومن کیپٹل انویسٹمنٹ پراجیکٹ کے ذریعے 41 ارب روپے کی لاگت سے 15 لاکھ سے زائد افراد کو بہتر صحت تعلیم اور سماجی تحفظ کی سہولیات فراہم کی گئیں۔وزیر خزانہ پنجاب مجتبیٰ شجاع الرحمن نے اپنی بجٹ تقریر میں کہا کہ وزیر اعلی پنجاب مریم نواز شریف کا وژن ہے کہ خواتین کی ترقی کا مطلب صرف معاشی خود مختاری نہیں بلکہ ایک پورے قبیلے کی ترقی ہے۔ جب خواتین کو تعلیم، صحت، روزگار اور فیصلہ سازی میں یکساں مواقع ملتے ہیں تو پورا گھر ، پورا معاشرہ اور پورا صوبہ ترقی کی راہ پر گامزن ہوتا ہے۔1 ارب روپے کی لاگت سے پنجاب بھر میں خواتین کو با اختیار اور با روزگار بنانے کیلئے آئی ٹی ٹریننگ دی گئی جس سے 2400 خوا 2 خواتین مستفید ہوئیں ۔ اس مقصد کیلئے اگلے مالی سال میں 15 کروڑ روپے تجویز کیے گئے ہیں۔ قانونی شعبے میں خواتین کی موثر شمولیت کو فروغ دینے اور انہیں بہتر پیشہ ورانہ سہولیات کی فراہمی کیلئے
پنجاب بھرمیں 1.4 ارب روپے کی لاگت سے لاگت سے لیڈی بار رومز کی تعمیر کا آغاز کیا گیا۔ یہ اقدام خوا تا م خواتین وکلا ء کیلئے محفوظ ، باوقار اور سازگار پیشہ ورانہ ماحول کی فراہمی کی جانب اہم پیشرفت ہے۔ منصوبے کی تکمیل کیلئے مالی سال 2026-27 میں 332 ملین روپے مختص کئے جارہے ہیں اور اس سے تقریباً 2 لاکھ افراد کے مستفید ہونے کی توقع ہے۔
سکلز انہاسٹمنٹ تھرو ہوم ریسرچ پروگرام کے تحت 97 کروڑ 50 لاکھ روپے کی لاگت سے خواتین اور نو جوانوں کو موجودہ روزگار کے تقاضوں کے مطابق فنی و پیشہ ورانہ تربیت فراہم کی گئی ، جس سے اب تک 5365 افراد مستفید ہو چکے ہیں۔ویمن ڈویلپمنٹ ڈیپارٹمنٹ کے زیر نگرانی 1 ارب روپے کی لاگت سے ڈے کیئر سنٹر کا قیام عمل میں لایا گیا جس سے اب تک 27,252 خواتین مستفید ہوئیں۔اسی تسلسل میں ، خواتین کی معاشی خود مختاری اور با اختیار بنانے کے لیے ویمن امپاورمنٹ تھرو کمیونیکیشن اینڈ انٹر پرائززاور پنجاب ویمن امپاورٹمنٹ پروگرام کے تحت 2 ارب 35 کروڑ روپے آئندہ مالی سال کیلئے مختص کیے گئے ہیں۔لائیو سٹاک اسیسٹ ٹرانسفافر ٹو رورل ویمن ان سدرن پنجاب پروگرام کے 2 ارب روپے کی لاگت سے 4385 دیہی خواتین کو لائیو سٹاک اثاثے فراہم کیے گئے تا کہ انہیں معاشی خود مختاری اور پائیدار ذریعہ معاش میسر ہو سکے ۔ اس منصوبے کیلئے اگلے مالی سال 27-2026 میں 1 ارب روپے کی رقم مختص کی گئی ہے۔ ڈی جی خان میں ویمن یونیورسٹی بھی قائم کی جارہی ہے جس کی لاگت کا تخمینہ تقریباً 55 کروڑ روپے لگایا گیا ہے۔وزیر خزانہ پنجاب مجتبیٰ شجاع الرحمن نے اپنی تقریر میں کہاکہ ہمیں وزیر اعلی مریم نواز شریف کا دل کی گہرائیوں سے شکر گزار ہونا چاہیے جنہوں نے امن وامان کے قیام اور جرائم کے خاتمے کیلئے موثر اور فیصلہ کن اقدامات کرنے کا عزم کیا اور جدید ٹیکنالوجی اور قانوں نافذ کرنے والے ادارں کی مربوط کاروائیوں کے ذریعے ریاستی رٹ کو مضبوط بنایا۔ یہ کاوش محفوط پنجاب کے وژن پر عملدرآمد کا عملی ثبوت ہے۔ امن وامان کے قیام کیلئے پولیس اور متعلقہ اداروں کیلئے مالی سال 27-2026 میں 252 ارب روپے کی خطیر رقم مختص کی گئی ہے۔اسی مقصد کے تحت سمارٹ سیف سٹیز،سمارٹ سیف سٹیزتحصیل پراجیکٹ اور ریجنل ڈیٹا سنٹر کے قیام کے ذریعے پنجاب میں جدید ڈیجیٹلسکیورٹی اور نگرانی کے نظام کو مزید وسعت دی جا رہی ہے۔ 47.1 ارب روپے کی مجموعی لاگت سے جاری ان منصوبوں کے تحت جدید کیمروں،کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹمز،ڈیٹا اینالسٹ اور ہنگامی رد عمل کے مربوط نظام کو فروغ دیا جا رہا ہے تا کہ جرائم کی روک تھام ، عوام کے جان و مال کے تحفظ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی استعداد کار میں اضافہ کیا جا سکے۔ ان اقدامات سے پنجاب کے 19 اضلاع ، بڑی تحصیلوں اور بالاخر صوبے کی تقریباً پوری آبادی مستفید ہو رہی ہے۔
اسی طرح2 ارب 20 کروڑ روپے کی لاگت سے کچہ کے علاقوں میں پولیس پوسٹس،پولیس سٹیشنز اور پولیس پکٹس کی تعمیر کی تجویز بھی اس بجٹ میں شامل ہے۔14 ارب 21 لاکھ روپے کی لاگت سے کرائم سین یونٹس کا 28 اضلاع میں قیام عمل میں لایا جا رہا ہے۔ یہ یوٹس جرائم کے شواہد کے سائنسی حصول، پیکنگ ، تحفظ ، ذخیرہ اور منتقلی کو بین الاقوامی معیار کے مطابق یقینی بنائیں گے۔وزیر خزانہ مجتبیٰ شجاع الرحمن نے اپنی بجٹ تقریر میں مزید بتایا کہ چیف منسٹر سکلز ڈویلپمنٹ پروگرام کے تحت نوجوانوں کو جدید اور مارکیٹ کی ضروریات سے ہم آہنگ فنی و پیشہ ورانہ تربیت فراہم کرنے کیلئے 2 ارب 30 کروڑ روپے کی لاگت سے یہ پروگرام شروع کیا گیا جس کے تحت اب تک 5000 نو جوانوں نے فائدہ اٹھایا ہے۔ جبکہ اگلے مالی سال کیلئے مختص شدہ رقم 26 کروڑ روپے ہے۔1 ارب 44 کروڑ روپے کی لاگت سے سی ایم سکلڈ پنجاب پروگرام نو جوانوں کو بیرون روزگار کے مواقع فراہم کرنے میں مدد کی ہے۔ اس منصوبے سے اب تک 2200 افراد فائدہ اٹھا چکے ہیں۔ جبکہ آئندہمالی سال میں اس پروگرام کیلئے 11 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔اکنامک ٹرانسفارمیشن کی وژن کے تحت حکومت سکلنگ پنجاب پروگرام بھی متعارف کروارہی ہے جس کے تحت سکلز فار ڈومیسٹک نیڈز کے لیے 42 ارب روپے مختص جس کے ذریعے سنٹرز آف ایکسلینس اور یورپین کوالیفکیشن فریم ورک سے ہم آہنگ تربیتی نظام اور جدید و وکیشنل اداروں کے ذریعے آئندہ تین سال میں 1 لاکھ 62 ہزار سے زائد اضافی افراد کو تربیت فراہم کی جائے گی ۔ اسی طرح سکلز فار گلوبل نیڈز کے لیے 51 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں، جس کے تحت پرواز کارڈ، تعمیرات ، صحت اور آٹوموٹیوسمیت 12 بین الاقوامی معیار کے پروگراموں کے ذریعے 2 لاکھ 40 ہزار افراد کو عالمی منڈیوں کے تقاضوں کے مطابق تربیت دی جائے گی، جس سے سالانہ ترسیلات زر میں 468 ملین ڈالر اضافے کی توقع ہے۔ٹیکنالوجی میں مہارت او رجدت کے فروغ کے لئے فرنٹیئر ٹیک سکلز اینڈ انویٹو پنجاب کے تحت 12 ارب 30 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں جس کے ذریعے جدید ایل ایم ایس پلیٹ فارم ، انکو بیٹرز اور ٹیکنالوجی پروگراموں کے تحت 60 لاکھ تربیت یافتہ افراد، 15 لاکھ فرنٹیئر ٹیک گریجویٹس اور 1200 سٹارٹ اپس کی معاونت کی جائے گی جبکہ خواتین کی شرکت کم از کم 40 فیصد رکھی جائے گی۔ مزید برآں ایکسلیٹریٹ پنجاب اینڈ ٹیک سکلز پروگرام کے لیے 19 ارب 70 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں، جس کے تحت بوٹ کیمپس ، وزیر اعلی آئی ٹی انٹرن شپ پروگرام میکر اسپیسز اور بین الاقوامی آئی ٹی سرٹیفیکیشنز کے ذریعے 70500 سے زائد نوجوانوں کو براہِ راست فائدہ پہنچے گا اور ان کی متوقع ماہانہ آمدن ایک لاکھ سے ایک لاکھ بیس ہزار روپے تک پہنچانے میں مدد ملے گی۔مزید برآں شاہدرہ لاہور میں سنٹر آف ایکسلینس فار ایڈوانسڈ آٹو موٹیو ٹیکنالوجیز 99کروڑ روپے کی لاگت سے قائم کیا جائے گا ۔ اس مرکز میں ہر سال 400 تربیت یافتہ افراد کو بین الاقوامی معیار کی تربیت دی جائے گی۔ آئندہ مالی سال میں 7 ارب 40 کروڑ روپے کی لاگت سے تعمیراتی شعبے کیلئے ہنر مند افرادی قوت کی تیاری کی غرض سے منصوبہ تجویز کیا گیا ہے جس کے تحت پنجاب بھر میں 67 نئی لیبارٹریاں قائم کی جائیں گی اور آئندہ تین برسوں میں 22 ہزار 200 افراد کو بین الاقوامی معیار کی تربیت اور سرٹیفکیشن فراہم کی جائے گی ۔ مزید برآں، ہاسپیٹیلٹی اور صحت کے شعبے میں تربیت فراہم کرنے کیلئے 3 ارب 96 کروڑ روپے کی لاگت سے 60 نئی لیبارٹریاں قائم کی جائیں گی ۔ اسیطرح چیف منسٹر یوتھ ایمپبلایٹی ان بی پی او ایس پروگرام 3ارب روپے کی لاگت سے شروع کیا جا رہا ہے۔ اس پروگرام کے تحت پانچ سال کے دوران 25 ہزار نو جوانوں کو تربیت فراہم کی جائے گی جبکہ
مالی سال 27-2026 میں 5 ہزار تربیت یافتگان کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔وزیر خزانہ پنجاب مجتبیٰ شجاع الرحمن نے بجٹ تقریر میں کہا کہ پاکستان کی ترقی کا سفر اس وقت تک مکمل نہیں ہو سکتا جب تک نو جوانوں کو تعلیم ، ہنر اور روزگار کے بہتر مواقع فراہم نہ کئے جائے۔ مالی سال 26-2025 میں 9 ارب 53 کروڑ روپے کی مجموعی لاگت سے 42 پرانی کھیلوں کی تنصیبات قائم کی گئیں، جبکہ چکوال اور بہاولپور میں دو ایتھلیٹک ٹریکس بھی تعمیر کئے گئے ۔ اسی وژن کے تحت حکومت پنجاب نے مالی کیلئے 39 ارب روپے مختص کئے ہیں۔ کھیلوں اور امور نوجوانان کے شعبے میں سب سے نمایاں اقدام کے طور پر، علاوہ ازیں، پنجاب بھر میں کھیلوں کے فروغ، کھیلوں کے بنیادی ڈھانچے کی بہتری اور اپ گریڈیشن کے لیے 6 ارب 60 کروڑ روپے کی لاگت سے مختلف کھیلوں کی سہولیات اور انفراسٹرکچر کو بہتر بنانے کی تجویز ہے۔ اسیسال 27-2026 کے سالانہ ترقیاتی پروگرام میں یوتھ ڈویلپمنٹ انیشیٹوکے اقدامات کے لئے 39ارب روپے مختص کئے ہیں ۔ کھیلوں اور امور نوجوانان کے شعبے میں سب سے نمایاں اقدام کے طو رپر مریم نواز سپورٹس سٹی لاہور 50 ارب روپے کی لاگت سے تجویز کیا جا رہا ہے۔ علاوہ ازیں پنجاب بھر میں کھیلوں کے فروغ ، کھیلوں کے بنیادی ڈھانچے کی بہتری اور اپ گریڈیشن کے لئے 6ارب60کروڑ کی لاگت سے مختلف کھیلوں کی سہولیات اور انفراسٹر اکر کو بہتر بنانے کی تجویز ہے اسی تناظر میں چیف منسٹر یوتھ انگیجمنٹ پروگرام 65کروڑ کی لاگت سے متعارف کرایا جا رہا ہے۔ ثقافتی اور تخلیقی صنعتوں کے فروغ کے لیے 55 ارب روپے کی مجموعی لاگت سے فلم سٹی پروگرام متعارف کروایا جا رہا ہے۔ اس پروگرام کے تحت 14 ارب 20 کروڑ روپے کی لاگت سے پرسٹ پروڈکشن اینڈ یوٹیلٹی بلاک کے قیام کی تجویز دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ ثقافتی اور تخلیقی سرگرمیوں کے لیے درکار بنیادی ڈھانچے کو مزید مضبوط بنانے کیلئے اسی پروگرام میں 10 ارب روپے بھی مختص کئے گئے ہیں۔
کنونشن سنٹر فلم اینڈ میوزک سکول ، ایڈ منسٹریٹو اینڈ سٹوڈیو کمپلیکس اور ٹریڈ ہب اینڈ بیک لاٹس کے قیام کے لئے مجموعی طور پر 31 ارب روپے کی تجویز بھی فلم سٹی سٹی کے تحت اس بجٹ کا حصہ ہے۔وزیر خزانہ مجتبیٰ شجاع الرحمن نے اپنی بجٹ تقریر میں کہاکہ موسمیاتی تبدیلی کے بڑھتے ہوئے اثرات کے پیش نظر حکومت پنجاب ماحولیاتی تحفظ ، قدرتی وسائل کے موثر استعمال ، آبی تحفظ اور آفات سے نمٹنے کی استعداد کار کو بڑھانے کیلئے جامع اقدامات کر رہی ہے۔ آئندہ مالی سال کے دوران محکمہ ماحولیات کیلئے مجموعی طور پر ترقیاتی و غیر ترقیاتی اخراجات کی مد میں 17 ارب 20 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔سموگ کے موثر تدارک کیلئے حکومت نے مختلف شعبوں میں مربوط اقدامات کیے، جس کے نتیجے میں مالی سال2025-26 میں 123 ارب روپے خرچ ہوئے جو پچھلے سال کی نسبت سے 30 فیصد زائد ہیں۔ ان فنڈز کے استعمال سموگ میں خاطر خواہ کمی آئی ۔ اس مقصد کے لئے 8500اے سی سی ٹی وی کیمرے ،67کوئک رسپانس سنٹرزاور پنجاب کلائمیٹ واچ کا قیام عمل میں لایا گیا جس کے نتیجے میں شکایات کے ازالے کی شرح 96 فیصد تک رہی۔ سپارکو کی نگرانی اور جدید زرعی مشینری کی فراہمی سے فصلوںکی باقیات جلانے کے واقعات میں 65فیصد کمی آئی جبکہ 5لاکھ ایکڑ سے زائد رقبہ جدید طریقوں سے کو ر کیا گیا۔35560صنعتوں ای میپنگ اور سخت نگرانی کے نتیجے میں 3809یونٹس سیل کیے گئے جبکہ 96فیصد صنعتوں میں اخراج کنٹرول سسٹم نصب کیے گئے ۔اس کے علاوہ 2000سے زائد الیکٹرک بسوں اور 120,000الیکٹرک ٹواور تھری وہیلرز گاڑیوں کے منصوبے کے ساتھ 298,114گاڑیوں کی اخراجی جانچ کی گئی۔سڑکوں کو پرانی اور ماحول کو آلودہ کرنے والی گاڑیوں سے پاک کرنے کیلئے ایسی گاڑیوں کی حکومت کی جانب سے واپسی خرید کی اسکیم بھی اگلے سال میں متعارف کروائی جارہی ہے۔4257تعلیمی مقامات کی جانچ ، 2076نوٹس اور 2کروڑ 50لاکھ درختوں کو لگانے سے گردو غبار اور فضائی آلودگی میں نمایاں کمی آئی۔ مزید برآں 508پلاسٹک ضبط کیا گیا اور 5112اسکولوں میں ویسٹ سیگریگیشن سسٹم متعارف کروایا گیا جس سے صاف ستھرے ماحول اور ری سائیکلنگ کلچر کو فروغ ملا۔ گرین کریڈٹ پروگرام کے تحت 116000سے زائد شہریوں کو شامل کیا گیا ، 4کروڑ روپے کے ماحول دوست اقدامات کی توثیق ہوئی اور 600سے زائد الیکٹرک گاڑیاں سڑکوں پر لائی گئیں ۔ ان سارے ماحول اقدامات سے فضائی آلودگی پر بہت مثبت اثر پڑا۔فضائی و آبی آلودگی کے تدارک اور ماحولیاتی نگرانی کیلئے تقریباً 32ارب روپے کی لاگت سے پنجاب میں درج ذیل پروگرام متعارف کروائے گئے۔جن میں ایئر کوالٹی مانیٹرنگ سسٹم ( 5.2بلین )، واٹر کوالٹی مانیٹرنگ سسٹم (2.9بلین )، پنجاب سموگ میٹیگیشن اینڈ ریسپانس اینیشیٹو -ایئر سیف (5.3بلین)، گرین بلڈنگ (3.7بلین)اور کلائمیٹ آبزرویٹری کے لئے (14.6بلین) شامل ہیں ۔ 3ارب 70کروڑ روپے کی لاگت سے پنجاب کے 10زونز میں انفورسمنٹ پروٹیکشن فورس کے قیام کا آغاز کیا گیا ہے۔
جبکہ آئندہ مالی سال میں 4ارب 80 کروڑ روپے سے انفورسمنٹ پروٹیکشن اتھارٹی کی 11لیبارٹریوں کی تعمیر و توسیع
کا منصوبہ متعارف کرایا جا رہا ہے۔ مزید برآں، 4ارب 54کروڑ روپے سے ائیر امپروومنٹ فریم ورک اور 4ارب 74کروڑ روپے کی لاگت سے اینٹی سموگ گنز 30کی تعیناتی کے ذریعے سموگ اور آلودگی کے تدارک کو مزید موثر بنایا جائے گا۔وزیر خزانہ مجتبیٰ شجاع الرحمن نے کہا کہ جدید اور موثر ٹرانسپورٹ نظام، معاشی ترقی ، شہری روابط اور عوامی سہولت کے فروغ میں بنیادی کردار ادا کرتا ہے۔ اس مقصد کے پیش نظر ، حکومت پنجاب نے 143 ارب روپے کی مجموعی لاگت سے فیصل آباد اور گوجرانوالہ میں ماس ٹرانزٹ سسٹمز کی تعمیر کا آغاز کیا ۔ ان منصوبوں کو جاری رکھتے ہوئے اگلے مالی سال میں 26ارب 60کروڑ روپے کی رقم مختص کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ 94ارب روپے کی لاگت سے 1100ماحول دوست الیکٹرک بسوں کی خرید عمل میں لانے کا منصوبہ بھی جاری ہے جس کے تحت پنجاب کے 9ڈویژنز میں جدید، کم لاگت اور ماحول دوست پبلک ٹرانسپورٹ نظام کو فروغ دیا گیا ۔ اس منصوبے کے تحت 400سے زائد ماحول دوست گاڑیاں سڑکوں پر رواں دواں ہیں جبکہ مزید 700بسیں مستقبل قریب میں سڑکوں پر دوڑتی نظر آئیں گی ۔ 18ارب 90کروڑ روپے کی لاگت سے الیکٹرک بسوں کیلئے اربن بس ڈپوز کے قیام کا منصوبہ بھی شروع کیا گیا۔آئندہ مالی سال میں 168ارب روپے کی لاگت سے 2000ماحول دوست الیکٹرک بسوں کی فراہمی کا پروگرام متعارف کرایا جا رہا ہے۔ اس منصوبے کے تحت پنجاب کے تمام تحصیل ہیڈ کوارٹرز تک ماحول دوست الیکٹرک بس سروس کو وسعت دی جائے گی۔ اس کے ساتھ ساتھ 164ارب روپے کی لاگت سے پنجاب بھر میں ڈویژنل ہیڈ کوارٹرز اور تحصیل سطح پر بس ڈپوز کی تعمیر کے لیے 21منصوبے متعارف کرائے جارہے ہیں۔
صوبے بھر میں عوام کو محفوظ ، معیاری اور سستی سفری سہولیات کی فراہمی اور پبلک ٹرانسپورٹ نظام کو مزید موثر بنانے کیلئے مالی سال 2025-26کے دوران پنجاب ماس ٹرانزٹ اور پنجاب ٹرانسپورٹ کمپنی کو میٹروبس ، فیڈر بسز ، اورنج لائن میٹروٹرین، الیکٹرک بسر ، سپیڈو بس سروس اور دیگر منصوبوں کیلئے مجموعی طور پر 37ارب 55 کروڑ روپے کی سبسڈی فراہم کی گئی۔ تیز رفتار اور جدید ریل رابطوں کے فروغ کے لیے جامع لائحہ عمل مرتب کیا جا رہا ہے۔ ریجنل ریلوے ٹریکس کی بحالی کے لیے 1,515کلومیٹر طویل 8علاقائی ریلوے ٹریکس کی بحالی کے منصوبے کے لیے 10ارب روپے تجویز کئے گئے ہیں۔وزیر خزانہ مجتبیٰ شجاع الرحمن نے بتایا کہ زراعت پنجاب کی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے۔ بڑھتے ہوئے آبی چیلنجز کے پیش نظر نہری نظام کی بہتری، پانی کے ضیاع میں کمی اور آبپاشی کے ڈھانچے کی مضبوطی حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے۔ اسی مقصد کے تحت آئندہ مالی سال 2026-27میں ترقیاتی اخراجات کی مد میں 30ارب اور غیر ترقیاتی اخراجات کی مد میں 31ارب 14کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔ چند اہم منصوبوں کی تفصیل کچھ یوں ہے۔رواں مالی سال میں آبی وسائل، آبپاشی اور سیلا بی تحفظ کیلئے 95ارب روپے کی مجموعی لاگت سے جلال پور نوراجا بھٹہ فلڈ پروٹیکشن بند ، جلال پور پروجیکٹ ایریگیشن پیر والا فلڈ پروٹیکشن بند، تمن ڈیم، سورہ ڈیم،ڈاڈھوچہ ڈیم اور رحیم یار خان میں واٹر لاگنگ کے خاتمے کے منصوبوں پر عملدرآمد کا آغاز کیا گیا ، جس سے 3لاکھ ایکڑ سے زائد زرعی اراضی محفوظ اور قابلِ کاشت بنائی جا رہی ہے۔ جبکہ آئندہ مالی سال میں 47ارب روپے کی لاگت سے لنک کینالز کی بحالی و بہتری ، 8ارب روپے کے امبریلا کینال لائننگ پراجیکٹ (فیز ll)کے تحت 500کلومیٹر ڈسٹری بیوٹریز اور مائنرز کی لائننگ ، 110ارب روپے کے پوٹھوہار سمال ڈیمز پروگرام کے ذریعے ایک لاکھ ایکڑ فٹ پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش اور 75 ہزار ایکڑ اراضی کو قابل کاشت بنانے کے اقدامات اس بجٹ کا حصہ ہیں ۔ مزید برآں 12ارب روپے کی لاگت سے بی آر بی ڈی لنک کی بحالی اور نئے راوی سائفن کی تعمیر کے ذریعے پانی کی دستیابی اور ماحولیاتی بہتری کو یقینی بنایا جائے گا۔ فلڈ ریسیلینس پروگرام کے تحت 51اسکیموں کو 56ارب روپے کی لاگت سے مالی سال 2026-27کے سالانہ ترقیاتی پروگرام میں شامل کیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ 2025کے سیلاب کے بعد حکومت پنجاب نے مستقبل میں آنے والے خطرات سے نمٹنے کیلئے جدید ٹیکنالوجی اور سائنسی طریقوں سے تمام شہروں ، آبپاشی کے نظاموں اور دیگر آبی ذرائع کی مکمل میپنگ کی تاکہ آئندہ ہر سیلاب سے پہلے موثر تیاری کی جاسکے۔ قدرتی آفات سے نمٹنے اور ہنگامی رد عمل کی استعداد میں اضافے کیلئے 1ارب 35کروڑ روپے کی لاگت سے ریسکیو 1122کو جدید فلڈ ریسکیو مشینری فراہم کی گئی ہے جبکہ مالی سال 2025-26کے دوران ضلعی انتظامیہ کو 4ارب روپے اور پی ڈی ایم اے کو 63کروڑ روپے کے ریلیف فنڈ ز جاری کیے گئے ہیں تا کہ سیلاب اور دیگر ہنگامی حالات میں بروقت اور موثر امدادی کارروائیاں یقینی بنائی جاسکیں۔ اس کے علاوہ 7ارب روپے کی لاگت سے مالی سال 2026-27میں پنجاب میں ویر ہاسنگ سہولیات سے آراستہ ریجنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ سنٹرز قائم کیے جائیں گے۔ جبکہ 49ارب 10کروڑ روپے کی لاگت سے ڈاڈھوچہ ڈیم راولپنڈی پر سطحی پانی کی صفائی اور فراہمی آب کا منصوبہ بھی متعارف کرایا جا رہا ہے۔ اسی طرح ڈرین ری ہیبلیٹیشن اینڈ امپروومنٹ پروگرام پنجاب 10ارب روپے کی لاگت سے تجویز کیا گیا ہے۔وزیر خزانہ مجتبیٰ شجاع الرحمن نے کہا کہ جنگلات صرف
درختوں کا مجموعہ نہیں بلکہ یہ ہماری بقاء کی بنیاد ہیں۔ یہ آلودگی کو کم کرتے ہیں اور موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے بچاتے ہیں۔ پنجاب حکومت نے جنگلات اور وائلڈ لائف کے تحفظ کے ذریعے ایک سرسبز اور پائیدار مستقبل کی بنیاد رکھی ہے۔ پنجاب کی تاریخ میں پہلی بار فاریسٹ کور کو بڑھانے کی غرض سے شجر کاری کی جارہی ہے جس کے تحت اب تک 50869ایکڑ رقبے پر 5کروڑ سے زائد درخت لگائے جاچکے ہیں جن میں سے تقریباً 3کروڑ 75لاکھ درخت رواں مالی سال کے دوران لگائے گئے ہیں۔ حکومت نے شجر کارتی مہم کے تحت لگائے گئے درختوں کی موثر نگرانی کیلئے 100فیصد جیو ٹیگنگ کو یقینی بنایا ہے۔ اگلے مالی سال میں جنوبی پنجاب میں 12000ایکڑ سے زائد بنجر رقبے پر درخت لگانے کا منصوبہ بنایا جا رہا ہے۔
ڈرونز ، جی پی ایس ،جی آئی ایس اور سیٹلائٹ کی مدد سے پنجاب کی پہلی بار ڈیجیٹل فاریسٹ انوینٹری قائم کی جا رہی ہے جو اپنی نوعیت کا ایک منفرد منصوبہ ہے۔ لگائے گئے درختوں اور جنگلات کی حفاظت کیلئے فوریسٹ پروٹیکشن فورس بھی بنائی گئی ہے۔ فاریسٹ ہیلپ لائن 1084کو فعال کیا گیا ہے۔ علاوہ ازیں پنجاب بھر میں 5ارب روپے سے زائد مالیت کے 1850ایکٹر فوریسٹ لینڈ کونا جائز قبضوں سے واگزار کروایا گیا ہے۔پنجاب حکومت نے حال ہی میں دریائے سندھ میں جامپور اور نواحی علاقوں کے طویل حصے کو ڈولفن اقدام کا مقصد ڈولفن وائلڈ لائف سنچری قرار دیا ہے ، یہ خطہ پنجاب میں ڈولفن مچھلی کی سب سے بڑی آبادی کا مسکن ہے اور اس اقدام کا مقصد ڈولفن مچھلی کی کم ہوتی ہوئی تعداد کے تحفظ کو یقینی بنانا ہے۔اس کے علاوہ، لاہور میں 1ارب 47کروڑ روپے کی لاگت سے سٹیٹ آف دی آرٹ وائلڈ لائف ہسپتال کی تعمیر کی جارہی ہے۔ شجر کاری، جنگلات اور قدرتی ماحولیاتی نظام کی بحالی کیلئے 8ارب روپے کی لاگت سے سی ایم پلانٹ فار پاکستان پروگرام کے تحت صوبہ بھر میں ایک کروڑ سے زائد درخت لگائے جارہے ہیں۔ اسی مقصد کے تحت 2ارب 50کروڑ روپے کی لاگت سے ڈی جی خان میں 7,249ایکٹر بیلا ایکو سسٹم کی بحالی اور 2ارب 50 کروڑ روپے سے پیرووال ایرگیٹڈ پلانٹیشن کی بحالی عمل میں لائی جائے گی ، جس کے تحت 33لاکھ درخت لگائے جائیں گے۔ جنگلی حیات کے تحفظ، ماحولیاتی آگاہی اور ایکو ٹورازم کے فروغ کیلئے 12ارب روپے کی لاگت سے راولپنڈی میں بھیر لوئی زولوجیکل گارڈن کا قیام جبکہ 2ارب 50 کروڑ روپے سے جلو اور برڈ پارک ، ایکسپیئرنس زون اینڈ کمانڈ اینڈ کنٹرول سنٹر اور متعلقہ سہولیات میں اضافہ کیا جائے گا۔
یہ اقدامات جنگلی حیات کے تحفظ ، عوامی آگاہی اور ماحول دوست سیاحت کے فروغ میں اہم کردار ادا کریں گے۔وزیر خزانہ مجتبیٰ شجاع الرحمن نے کہا کہ بکھرا ہوا محکمہ، اربوں کا پوٹینشل ، سب سے پہلے دفعہ ٹورازم اتھارٹی بنا کراس نظام کوسیاحت اور مقامی معیشت کے فروغ کیلئے چیف منسٹر میگنیفشنٹ پنجاب ٹورازم انٹرن شپ پروگرام کے تحت ایک ہزار نو جوانوں کو تربیت فراہم کی گئی جبکہ ایک ارب روپے کی لاگت سے چکوال ، راجن پور، قصور اور مری کے سیاحتی مقامات کو اپ گریڈ کیا گیا۔ علاوہ ازیں 8ارب 71کروڑ روپے کی لاگت سے چھانگا مانگا اور چشمہ میں سیاحتی ترقیاتی منصوبے جاری ہیں جن پر رواں مالی سال 5ارب 55 کروڑ روپے خرچ کیے گئے ۔سیاحت کے فروغ کیلئے چھانگا مانگا، اچھالی اور چشمہ کے مقامات پر ایکو ٹورازم کیلئے 8ارب 71کروڑ روپے کی لاگت سے منصوبہ جاری ہے جس کیلئے رواں مالی سال میں 1ارب 20کروڑ روپے رکھے جارہے ہیں ۔ جبکہ مری میں 3ارب 92کروڑ روپے کی لاگت سے بنسرا گلی زوولوجیکل گارڈن کے منصوبے پر عمل جاری ہے۔ آئندہ مالی سال میں اس منصوبے کیلئے 60 کروڑ روپے تجویز کیے گئے ہیں۔ سفاری زو لاہور کے ماسٹر پلان پر 7ارب روپے کی لاگت سے عمل درآمد جاری ہے۔ 4ارب روپے کی لاگت سے ٹیکسلا کے مقام پر ہیرٹیج سائٹ کی تزئین نو اور اپ گریڈیشن کا منصوبہ بھی جاری ہے۔وزیر اعلی مریم نواز کی اکانومک ٹرانسفارمیشن وژن کے تحت اگلے تین سالوں میں مجموعی طور پر 471ارب روپے کی سرمایہ کاری متوقع ہے جس میں سرکاری شعبے کی سرمایہ کاری 171ارب اور پرائیویٹ سیکٹر کی جانب سے 300ارب روپے متوقع ہے۔ اسی تسلسل میں آئندہ مالی سال میں سیاحت کو ایک مضبوط معاشی شعبے کے طور پر فروغ دینے کیلئے 31ارب روپے کی لاگت سے لاہور ہیرٹیج پروجیکٹ شروع کیا جا رہا ہے جبکہ 42ارب روپے کی لاگت سے نارتھ پوٹھوہار ایکو ٹورازم اور 20 ارب روپے کی لاگت سے مذہبی ٹریل پنجاب منصوبہ بھی اس بجٹ کا حصہ ہیں۔ ان منصوبوں سے روزگار کے نئے مواقع ، مقامی معیشت کی مضبوطی اور سرمایہ کاری میں اضافہ ہوگا۔ اسی طرح 8ارب روپے کی لاگت سے والڈ سٹی آف راولپنڈی پراجیکٹ ،5ارب 60کروڑ روپے کی لاگت سے لاہور میوزیم کے نئے بلاک کی تعمیر اور 12ارب روپے کی لاگت سے سی ایم لاہور اتھارٹی فار ہیرٹیج ریوائیول پروگرام فیز llشروع کیا جائے گا، جس سے سیاحت ، ثقافتی ورثے کے تحفظ اور مقامی معاشی سرگرمیوں کو فروغ حاصل ہوگا۔سیاحت کے شعبے کو پنجاب کی معیشت میں ایک نئی ترقیاتی قوت کے طور پر فروغ دینے کیلئے حکومت ایک جامع ڈیسٹینیشن اکانومی انشیٹیو متعارف کروا رہی ہے
اس مقصد کیلئے 171ارب روپے کی لاگت سے پنجاب بھر میں 8سیاحتی سرکٹس قائم کئے جائیں گے جن میں لاہور ہیر پیچ ، مذہبی سیاحت ، شمالی و پوٹھوہار، سالٹ رینج ، چولستان، جنوبی پنجاب، ہڑپہ اور دیہی سیاحت کے سرکٹس شامل ہیں ۔ ان منصوبوں سے سالانہ 450ارب روپے تک معاشی سرگرمی پیدا ہوگی ۔ 18سے 30ملین سیاحوں کی آمد متوقع ہے اور تقریباً 300ارب روپے کی نجی سرمایہ کاری متحرک ہوگی ۔ یہ اقدامات نہ صرف پنجاب کے تاریخی، ثقافتی اور مذہبی ورثے کو عالمی سطح پر اجاگر کریں گے بلکہ روزگار، کاروبار اور مقامی معیشت کے فروغ میں بھی کلیدی کردار ادا کریں گے۔وزیر خزانہ مجتبیٰ شجاع الرحمن نے بجٹ پیش کرتے ہوئے کہا کہ حکومت پنجاب پائیدار شہری ترقی اور جدید شہری افراسٹرکچر کے فروغ کو خصوصی اہمیت دے رہی ہے اسی مقصد کے تحت مالی سال 2025-26میں پنجاب بھر میں سڑکوں کی بحالی و مرمت 290ارب روپے کی مجموعی لاگت سے متعدد منصوبوں پر عملدرآمد جاری ہے جن میں سڑکیں بحال پنجاب خوشحال پروگرام، راولپنڈی رنگ روڈ ری ہیبلیٹیشن پروگرام فیزll، روڈز روڈز ریسٹوریشن پروگرام ( آر آر پی ) ، ، قائداعظم انٹر میچ تا واہگہ بارڈر روڈ ، ملتان ۔ وہاڑی روڈ ، فیصل آباد۔ چنیوٹ روڈ اور راولپنڈی کے کچہری چوک اور فیصل آباد۔ چنیوٹ روڈ کی اپ گریڈیشن شامل ہیں ۔ مزید یہ کہ سڑکیں جو پچھلے مالی سالوں میں شروع کی گئیں ان کی تکمیل کیلئے 36 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز بھی اس بجٹ میں شامل ہے۔آئندہ مالی سال کے لئے انٹیگریٹڈ اربن ڈویلپمنٹ اینڈ انفراسٹرکچر امپروومنٹ پروگرام 5ارب روپے کی لاگت سے اس بجٹ کا حصہ بنایا گیا ہے جس کے تحت مربوط انفراسٹرکچر اور بلدیاتی خدمات کی فراہمی کے ذریعے متوازن شہری ترقی کو فروغ دیا جائے گا۔ اسی اہمیت کے پیش نظر پنجاب بھر میں سڑکوں کے بنیادی ڈھانچے کی بہتری کے لیے 100ارب روپے کی لاگت سے سی ایم انیشیٹو فار روڈ انفراسٹرکچر متعارف کرایا جا رہا ہے، جس کے ذریعے مختلف اضلاع میں سڑکوں کی تعمیر ، بحالی اور اپ گریڈیشن کے کام انجام دیئے جائیں گے ۔
اسی تسلسل میں سٹریٹجک روڈ انفراسٹرکچر کی بہتری کے لیے 20ارب روپے بھی تجویز کیے گئے ہیں۔مزید برآں کچہ کے علاقوں میں سڑکوں کے بنیادی ڈھانچے کی تعمیر و اپ گریڈیشن کے لیے 9ارب 70کروڑ روپے مختص کئے جارہے ہیں۔وزیر خزانہ مجتبیٰ شجاع الرحمن نے بجٹ پیش کرتے ہوئے کہا کہ توانائی کا شعبہ معاشی ترقی اور صنعتی استحکام اور پائیدار ترقی کے اہداف کے حصول میں کلیدی اہمیت کا حامل ہے۔ محکمہ توانائی کیلئے آئندہ مالی سال میں ترقیاتی اخراجات کی مد میں 4ارب 30کروڑ روپے اور غیر ترقیاتی اخراجات کی مد میں 1ارب 43کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔ توانائی کے موثر استعمال، ماحولیاتی تحفظ اور جدید ٹیکنالوجی کے فروغ کے پیش نظر اس شعبے میں متعدد اہم اقدامات تجویز کیے جارہے ہیں۔قابل تجدید توانائی کے موثر استعمال کیلئے 12ارب 86کروڑ روپے کی لاگت سے رینیویبل انرجی ڈویلپمنٹ سیکٹر انویسٹمنٹ پروگرام ( آر ای ڈی ایس آئی پی )پر عملدرآمد جاری ہے۔9 ارب 97کروڑ روپے کی سی ایم فری سولر پینل سکیم کے تحت 94,483گھرانوں کو سولر سسٹمز فراہم کیے گئے ہیں۔ اس مقصد کیلئے آئندہ مالی سال میں 90 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔8 ارب 50کروڑ روپے کے انرجی افیشنسی اینڈ کنزرویشن پروگرام کے ذریعے 38واسا سائٹس اور 51تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتالوں میں 30میگاواٹ کے سولر سسٹمز نصب کیے گئے۔آئندہ مالی سال میں انرجی کنزرویشن بلڈنگ کوڈ ( ای سی بی سی ) کی آگاہی ، پنجاب اپلائنس پرفارمنس اینڈ انرجی لیب کے قیام کی تجویز اور انڈسٹریل فیسیلیٹیشن تھرو انوویٹو انرجی سلیوشن جیسے جدید صنعتی حل بھی تقریباً 12ارب روپے کی مجموعی لاگت سے اس بجٹ کا حصہ ہیں۔وزیر خزانہ مجتبیٰ شجاع الرحمن نے بجٹ پیش کرتے ہوئے کہا کہ گورننس اور انفارمیشن ٹیکنالوجی، منصوبہ بندی شفافیت اور سماجی تحفظ کے نظام کو مزید موثر بنانے کیلئے 1ارب 46کروڑ روپے کی مجموعی لاگت سے OneMap@Punjabکی تعمیر و ترقی بھی اس بجٹ کا حصہ ہے۔ اس منصوبے کے تحت ایک جامع جی آئی ایس پر بنی ڈیجیٹل پلیٹ فارم تشکیل دیا جائے گا جس پر جاری اور مجوزہ ترقیاتی منصوبوںیوٹیلٹی نیٹ ورک ، این او سی پرمٹس سسٹم اور دیگر اہم معلومات کو یکجا کیا جائے گا۔مزید برآں 26ارب 44کروڑ روپے کی لاگت سے پنجاب اربن لینڈ سسٹم ان ہینسمنٹ(پی یو ایل ایس ای ) پروگرام کے ذریعے زمینوں کے ریکارڈ ، اراضی کے انتظام اور عوامی خدمات کی ڈیجیٹائزیشن کو فروغ دیا جا رہا ہے۔ 2ارب روپے کی لاگت سے پنجاب میں آرٹیفیشل انٹیلی جنس (اے آئی) کے انفراسٹرکچر کی ترقی کی تجویز بھی اس بجٹ میں شامل ہے۔ان منصوبوں کے تسلسل کیلئے مالی سال 2026-27میں 11ارب روپے ڈیجیٹل رابطوں کے فروغ اور شہریوں کو جدید سہولیات کی فراہمی کیلئے 32کروڑ 51لاکھ روپے کی لاگت سے مریم نواز فری وائے فائی انشیٹیو متعارف کروایا گیا۔ اس اقدام کے تحت عوامی مقامات پر مفت انٹرنیٹ سہولت فراہم کی جا رہی ہے تا کہ طلبہ، نوجوان، کاروباری افراد اور عام شہریوں کو معلومات، تعلیم ، روزگار اور سرکاری خدمات تک آسان رسائی میسر آسکے۔ اس منصوبے نے ڈیجیٹل شمولیت کے فروغ اور شہری سہولت میں نمایاں کردار ادا کیا۔
آئی ٹی کے شعبے میں حکومت ورک فار پنجاب چیف منسٹر آئی ٹی انٹرن شپ پروگرام فیزll۔8ارب 82کروڑ روپے کی لاگت سے متعارف کروائے گی ۔ جس کے تحت آئندہ چار برسوں میں 30ہزار آئی ٹی گریجویٹس کو انٹرن شپ کے مواقع فراہم کیے جائیں گے۔اس کے علاوہ آئندہ مالی سال میں 9ارب روپے کی لاگت سے میاں نواز شریف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی یونیورسٹی قصور ،7ارب 48کروڑ روپے کی لاگت سے جی پی یو بیسڈ کلائوڈ انفراسٹرکچر ، 7ارب 25کروڑ روپے کی لاگت سے فکسڈ براڈ بینڈ کوریج ، 5ارب 95کروڑ روپے کی لاگت سے ایڈوانس بوٹ کیمس اینڈ فری لانسنگ ٹریننگ ، پروگرام اور 4ارب 48کروڑ روپے کی لاگت سے سیٹیزن فیسلٹیشن اینڈ سروس سینٹرز (فیز11) کے قیام کی تجویز آئندہ مالی سال کے بجٹ کا بھی حصہ ہیں۔
ان اقدامات سے 5لاکھ نئے فکسڈ براڈ بینڈصارفین، 10ہزار افراد، 2500 ایگزیکٹوز اور صنعتی شعبے سے وابستہ پیشہ افراد فائدہ اٹھائیں گے۔یہ بجٹ صرف آمدن و اخراجات کا تخمینہ نہیں بلکہ ایک ایسا جامع روڈ میپ ہے جس میں معاشرے کے ہر طبقے ، ہر شعبے اور ہر خطے کی ضروریات کو پیش نظر رکھا گیا ہے۔ کسان سے مزدور تک، طالب علم سے استاد تک ، صنعت کار سے تاجر تک، نو جوانوں سے خواتین تک ، سرکاری ملازمین سے پنشنرز تک اور شہری علاقوں سے دور دراز دیہی بستیوں تک ، اس بجٹ میں سب کی آواز کو سنا گیا ہے اور سب کے لئے مواقع پیدا کئے گئے ہیں۔وزیر خزانہ مجتبیٰ شجاع الرحمن نے بجٹ پیش کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے تعلیم کو علم کی روشنی ، صحت کو انسانی وقار، زراعت کو خوشحالی ، صنعت کو ترقی ، انفراسٹرکچر کو استحکام اور سماجی تحفظ کو ریاستی ذمہ داری کے طور پر آگے بڑھانے کا عزم کیا ہے۔ یہ بجٹ صرف آج کی ضروریات آج کی ضروریات کا جواب نہیں بلکہ آنے والی نسلوں کے روشن مستقبل کی بنیاد بھی ہے۔ہم نے یہ بجٹ اعداد و شمار کی سرد دنیا میں بیٹھ کر نہیں بنایا بلکہ عوام کی امیدوں، محنت کشوں کی امنگوں ، نو جوانوں کے خوابوں ، کسانوں کی توقعات اور بزرگوں کی دعائوں کو سامنے رکھ کر مرتب کیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس بجٹ کا ہر صفحہ خدمت ، ترقی ، شفافیت اور عوامی فلاح کے عزم کی عکاسی کرتا ہے۔ آج ہم اس ایوان کے ذریعے پنجاب کے ہر شہری کو یہ پیغام دینا چاہتے ہیں کہ حکومت اس کے ساتھ کھڑی ہے، اس کی مشکلات سے آگاہ ہے، اس کی ضروریات کو سمجھتی ہے اور اس کے بہتر مستقبل کیلئے پر عزم ہے۔ اللہ تعالی کے فضل وکرم ، عوام کے اعتماد اور اس معزز ایوان کی رہنمائی سے ہم ترقی ، خوشحالی اور سماجی انصاف سے اس سفر کو مزید تیز کریں گے۔ آئیے مل کر ایک ایسا پنجاب تعمیر کریں، جو خوشحال بھی ہو، با اختیار بھی ہو اور آنے والی نسلوں کیلئے امید ، ترقی اور مواقع کی روشن مثال بھی بنے۔



















































