اسلام آباد (نیوز ڈیسک)آئندہ وفاقی بجٹ کی تیاریوں کے دوران حکومت اور پاکستان پیپلز پارٹی کے درمیان اہم اقتصادی امور پر مذاکرات جاری ہیں،
تاہم سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور کم از کم اجرت کے تعین پر تاحال اتفاق رائے نہیں ہو سکا۔میڈیا رپورٹس کے مطابق دونوں فریق بنیادی پے اسکیل میں اضافے کے معاملے پر مختلف مؤقف رکھتے ہیں۔ پیپلز پارٹی نے مہنگائی کے موجودہ دباؤ کو مدنظر رکھتے ہوئے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 50 فیصد اضافے کا مطالبہ کیا ہے، جبکہ حکومت کا کہنا ہے کہ اس حد تک اضافہ مالی مشکلات میں مزید اضافہ کر سکتا ہے۔ذرائع کے مطابق بجٹ کی منظوری سے قبل اتحادی جماعتوں کو مطمئن کرنا حکومت کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔ اس سلسلے میں تنخواہوں، ایڈہاک ریلیف اور کم از کم اجرت سے متعلق مذاکرات انتہائی اہم مرحلے میں داخل ہو گئے ہیں۔پیپلز پارٹی کا مؤقف ہے کہ سرکاری ملازمین اور محنت کش طبقے کو حقیقی ریلیف فراہم کرنے کے لیے بڑے پیمانے پر مالی سہولتیں دی جائیں۔ پارٹی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ بڑھتی ہوئی مہنگائی کے پیش نظر تنخواہوں میں نمایاں اضافہ ناگزیر ہے۔دوسری جانب وفاقی حکومت مالی نظم و ضبط اور بین الاقوامی مالیاتی اداروں کی شرائط کو مدنظر رکھتے ہوئے محتاط حکمت عملی اپنانا چاہتی ہے۔
حکومتی حلقوں کے مطابق موجودہ مالی صورتحال میں تمام مطالبات کو تسلیم کرنا ممکن نہیں۔اختلافی نکات میں گزشتہ برسوں کے ایڈہاک ریلیف کو بنیادی تنخواہ میں شامل کرنے کا معاملہ بھی شامل ہے۔ پیپلز پارٹی تمام سابقہ ایڈہاک الاؤنسز کو بنیادی پے اسکیل کا حصہ بنانے کی حامی ہے، جبکہ حکومت کا کہنا ہے کہ محدود مالی وسائل کے باعث ایسا کرنا مشکل ہوگا۔اطلاعات کے مطابق حکومت فی الحال ملازمین کے لیے صرف ایک نئے ایڈہاک ریلیف پیکج پر غور کر رہی ہے۔ اسی طرح کم از کم ماہانہ اجرت کے معاملے پر بھی دونوں جانب سے مختلف تجاویز سامنے آئی ہیں۔ پیپلز پارٹی کم از کم اجرت 60 ہزار روپے مقرر کرنے کی خواہاں ہے، جبکہ حکومت کی تجویز نسبتاً محدود اضافے کی ہے اور وہ زیادہ سے زیادہ 45 ہزار روپے ماہانہ اجرت تک جانے پر آمادہ دکھائی دیتی ہے۔بجٹ پیش ہونے سے قبل ان اہم معاملات پر حتمی فیصلے کے لیے دونوں فریقوں کے درمیان مشاورت کا سلسلہ جاری ہے۔



















































