جمعہ‬‮ ، 05 جون‬‮ 2026 

پاکستان کو 123 ارب ڈالر درکار، قرضوں کی واپسی کیلئے پھر آئی ایم ایف کے پاس جانے کا امکان

datetime 5  جون‬‮  2026 |

کراچی (این این آئی)پاکستان کے آئندہ 5 سال تک آئی ایم ایف کے چنگل سے نکلنے کے امکانات محدود ہیں۔ پاکستان کو 5 سال میں 123 ارب ڈالر کی بیرونی مالی ضروریات ہوں گی۔

قرضوں کی واپسی کے لیے پاکستان کو پھر آئی ایم ایف کے پاس جانا پڑ سکتا ہے۔ذرائع کے مطابق پاکستان کو اگلے 5 سال میں 123 ارب ڈالر کی بیرونی مالی ضروریات کا سامنا ہے، پاکستان کو قرضوں کی ادائیگیوں کیلئے پھر آئی ایم ایف کا سہارا لینا پڑ سکتا ہے۔دستاویز کے مطابق 7 ارب ڈالر کا موجودہ قرض پروگرام اگلے سال ستمبر یا اکتوبر میں ختم ہوگا، نئے سال پاکستان کی بیرونی مالی ضروریات 21.2 ارب ڈالر رہنے کا تخمینہ ہے۔ 2027،28 میں بیرونی مالی ضروریات ریکارڈ 29.88 ارب ڈالر تک پہنچ سکتی ہیں۔مالی سال 29-2028 میں بیرونی مالی ضروریات کا تخمینہ 23 ارب 59 کروڑ ڈالر جبکہ 2029،30 میں پاکستان کو 22 ارب ڈالر کی ایکسٹرنل فنانسنگ درکار ہوگی۔ 2031 میں بیرونی مالی ضروریات 26 ارب ڈالر تک پہنچ جائیں گی۔ حکام کا دعوی ہے کہ فی الحال بیرونی قرضوں اور ادائیگیوں کیلئے فنڈز موجود ہیں۔

دستاویز کے مطابق اگلے مالی سال کرنٹ اکانٹ خسارہ 3.6 ارب ڈالر رہنے کا تخمینہ ہے، آئی ایم ایف نے لچکدار ایکسچینج ریٹ برقرار رکھنے پر زور دیا ہے، حکومت نے نئے سال کے بجٹ کیلئے ڈالر کا ریٹ 290 روپے مقرر کردیا۔آئندہ سال ڈالر کے مقابلے روپے کی قدر میں 3.5 فیصد کمی کا تخمینہ ہے، رواں سال انٹربینک مارکیٹ میں ڈالر تقریبا 278.42 روپے پر برقرار ہے۔ اگلے سال وفاق اور صوبے 3.2 ارب ڈالر کے غیرملکی قرضے لیں گے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



کوبا مایان


کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون (Cancun) میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…