اسلام آباد (نیوز ڈیسک) جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ کراچی پر ایف آئی اے امیگریشن حکام نے کارروائی کرتے ہوئے
جرمنی جانے کی کوشش کرنے والی تین خواتین کو مشتبہ تعلیمی دستاویزات کی بنیاد پر سفر سے روک کر حراست میں لے لیا۔ایف آئی اے کے مطابق ابتدائی جانچ کے دوران معلوم ہوا کہ ندا اور گلناز نامی دو خواتین اسٹوڈنٹ ویزے پر جرمنی روانہ ہونے والی تھیں، جبکہ اقصیٰ جرمن رہائشی اجازت نامے کے تحت سفر کر رہی تھی۔ امیگریشن کلیئرنس کے دوران جب دونوں خواتین سے جرمنی میں اپنی تعلیم اور تعلیمی اداروں کے بارے میں سوالات کیے گئے تو وہ تسلی بخش جواب نہ دے سکیں، جس کے بعد ان کی مزید تفتیش کی گئی۔تحقیقات کے دوران ندا اور گلناز نے مبینہ طور پر اعتراف کیا کہ انہوں نے پیش کردہ تعلیمی اسناد جعلی بنیادوں پر حاصل کی تھیں اور پاکستان میں بھی کسی کالج یا یونیورسٹی میں باقاعدہ تعلیم حاصل نہیں کی تھی۔ اس انکشاف کے بعد حکام نے معاملے کی گہرائی سے چھان بین شروع کر دی۔تفتیش میں یہ بات بھی سامنے آئی کہ اقصیٰ گزشتہ ایک دہائی سے جرمنی میں مقیم ہے اور مبینہ طور پر ویزا پراسیسنگ، بلاکڈ اکاؤنٹس کے انتظام اور تعلیمی دستاویزات کی تیاری میں معاونت فراہم کرتی رہی ہے۔
ایف آئی اے کے مطابق اس کے موبائل فون سے متعدد مشکوک تعلیمی ریکارڈز، مارک شیٹس اور دیگر اہم مواد بھی برآمد ہوا ہے۔مزید تحقیقات کے نتیجے میں کراچی سے تعلق رکھنے والے ایک مبینہ ایجنٹ “ہمایوں” کا نام بھی سامنے آیا، جس پر الزام ہے کہ وہ فی امیدوار مخصوص رقم وصول کرکے جعلی تعلیمی دستاویزات تیار کرواتا تھا۔ایف آئی اے حکام نے تینوں خواتین کو آف لوڈ کرنے کے بعد باضابطہ طور پر گرفتار کر لیا ہے اور انہیں مزید قانونی کارروائی اور تحقیقات کے لیے اینٹی ہیومن ٹریفکنگ سرکل کراچی منتقل کر دیا گیا ہے۔ ادارے کا کہنا ہے کہ اس مبینہ نیٹ ورک سے وابستہ دیگر افراد کی تلاش اور گرفتاری کے لیے بھی کارروائیاں جاری ہیں۔



















































