لاہور( این این آئی)وفاقی وزیر توانائی سردار اویس خان لغاری نے کہا ہے کہ حکومت پروٹیکٹڈ صارفین کیلئے بجلی سبسڈی ختم نہیں کر رہی۔200 یونٹ سے کم بجلی صارفین کو سبسڈی دی جا رہی ہے ،200 یونٹ استعمال کرنے والے صارفین کی تعداد 2 کروڑ سے تجاوز کر چکی ہے۔
اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ سبسڈی کے تحت ایک خاص رقم بجلی بل میں جمع ہو رہی ہے، 20 لاکھ صارفین کیوآرکوڈ سے فائدہ اٹھا چکے ہیں، ڈیٹا آنے کے بعد صحیح حقدار صارفین کو ڈسکائونٹ جاری رکھیں گے۔وزیر توانائی اویس خان لغاری نے کہا کہ حکومت پروٹیکٹڈ صارفین کیلئے بجلی سبسڈی ختم نہیں کر رہی،اس وقت 2 کروڑ 95 لاکھ 70 ہزار یعنی 86 فیصد گھریلو صارفین کو سبسڈی دی جا رہی ہے، بجلی سبسڈی کا حجم 199 ارب سے بڑھ کر 423 ارب روپے تک پہنچ گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ زرعی اور گھریلو شعبے کو 527 ارب روپے کی سبسڈی دی جا رہی ہے، کیوآر کوڈ سسٹم کے ذریعے اہل صارفین کو بلاتعطل سبسڈی دیتے رہیں گے، سبسڈی ختم کرنے کی خبریں حقائق کے منافی ہیں۔اویس لغاری نے کہا کہ 20لاکھ سے زائد سنگل فیز والے صارفین رجسٹریشن مکمل کرا چکے ہیں، بجلی کی قیمتوں میں کمی کے حکومتی دعوے درست ہیں،780 ارب روپے کا گردشی قرضہ کم کیا گیا ہے، آئی پی پیز معاہدوں پر نظرثانی سے 3500 ارب روپے کی بچت ہوئی۔
وفاقی وزیر اویس لغاری نے کہا کہ حکومت صرف پن بجلی اور نیو کلیئر سمیت سستے ذرائع سے بجلی خریدے گی، عوام اور گرڈ سے باہر سولر پر 50 ہزار میگا واٹ تک سرمایہ کاری کر چکے، بجلی کے بلوں پر عائد ٹیکس میں اضافے کی کوئی تجویز نہیں۔بجلی بلوں پر اوسطاً24 فیصد ٹیکس ہیں، ڈسکوز کے نقصانات میں کمی سے 193 ارب روپے کی بچت ہوئی، جنکوز کی غیر ضروری مشینری کی فروخت سے 47 ارب روپے کی بچت ہوئی، اصلاحات کے باعث بجلی کی لاگت میں نمایاں کمی آئی۔اویس لغاری نے کہا کہ توانائی شعبے میں اصلاحات کے مثبت نتائج سامنے آرہے ہیں، پاور سیکٹر میں اصلاحات سے صارفین کو براہ راست ریلیف ملا، بجٹ میں سبسڈی کا حجم کم کرنے سے قومی خزانے پر بوجھ کم ہوا، صنعتی صارفین پر کراس سبسڈی کا بوجھ کم کیا گیا ہے۔وزیر توانائی نے کہا کہ مارچ 2024 سے مئی 2026 تک تمام کیٹیگریز کے صارفین کیلئے بجلی سستی ہوئی، پروٹیکٹڈ کیٹیگری والے صارفین کے بجلی نرخوں میں 31 فیصد ، گھریلوصارفین کے بجلی نرخوں میں 16 فیصد کمی آئی۔انہوں نے مزید کہا کہ صنعتی صارفین کے بجلی نرخوں میں 33 فیصد، کمرشل کیلئے بجلی 8 فیصدسستی ہوئی جبکہ زرعی صارفین کو بجلی نرخوں میں 14 فیصد ریلیف ملا ہے۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ تین ہفتوں کے دوران پاور سیکٹر کے بارے میں سوشل میڈیا پر ایشوز آئے ، وزیر دفاع خواجہ آصف کا ٹویٹ خود احتسابی کا عمل ہے، ہم سوالوں کو عوام میں لے کر آتے ہیں اور ان کو حل کرتے ہیں، وزیر دفاع نے لیسکو کا جو ذکر کیا تو متعلقہ افراد کے خلاف ایکشن لے لیا گیا ہے ۔



















































