لاہور( این این آئی)پنجاب حکومت نے کم لاگت رہائشی منصوبوں کے فروغ کیلئے افورڈیبل پرائیویٹ ہائوسنگ سکیمز رولزمیں اہم ترامیم کی تجویز تیار کر لی ہے جس کا مقصد نجی شعبے کو سستے گھروں کی تعمیر کی جانب راغب کرنا اور ہائوسنگ سیکٹر میں سرمایہ کاری بڑھانا ہے۔
مجوزہ ترامیم کے تحت نجی اور کوآپریٹو ہائوسنگ سکیموں کیلئے کم از کم 20 فیصد رہائشی رقبہ کم لاگت ہائوسنگ کیلئے مختص کرنا لازمی قرار دیا جائے گا۔ یہ حصہ افورڈیبل ہائوسنگ سکیم تصور کیا جائے گا جبکہ زیادہ رقبہ مختص کرنے والی سکیموں کو خصوصی مراعات دی جائیں گی۔پالیسی کے مطابق کم لاگت ہائوسنگ کیلئے زیادہ حصہ مختص کرنے والی سکیموں کو 20 سے 80 فیصد تک فیس میں رعایت دینے کی تجویز دی گئی ہے۔ ان رعایتوں میں نقشہ جات، واٹر سپلائی، سیوریج، سڑکوں اور پلوں کی منظوری فیس شامل ہوگی۔ذرائع کے مطابق ترقیاتی کام مکمل کرنے کیلئے رہن رکھی جانے والی اراضی کی شرح میں بھی کمی لانے کی سفارش کی گئی ہے تاکہ ڈویلپرز پر مالی دبا ئوکم ہو اور منصوبے تیزی سے مکمل ہو سکیں۔
مجوزہ ترامیم میں منصوبوں کی منظوری کے عمل کو بھی آسان اور تیز بنانے کی سفارش کی گئی ہے۔ مختلف مراحل کی منظوری کا دورانیہ 90 دن سے کم کر کے 60 دن تک لانے کی تجویز زیر غور ہے۔حکام کے مطابق نئی ہائوسنگ پالیسی کو آئندہ بجٹ کا حصہ بنایا جائے گا تاکہ نجی شعبے کو کم لاگت رہائشی منصوبوں میں سرمایہ کاری کیلئے موثر ترغیبات دی جا سکیں۔



















































