اتوار‬‮ ، 02 اگست‬‮ 2026 

گھریلو ملازمین کیلئے زچگی کی چھٹی اور ہفتہ وار تعطیلات ، اہم ترین بل منظور

datetime 20  مئی‬‮  2026 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک)سندھ اسمبلی نے گھریلو ملازمین کے حقوق کے تحفظ کے لیے ایک اہم اور تاریخی قانون منظور کر لیا ہے،

جس کے تحت اب صوبے بھر میں گھریلو کام کرنے والے افراد کو قانونی شناخت اور مختلف بنیادی سہولیات فراہم کی جائیں گی۔ “سندھ ڈومیسٹک ورکرز ویلفیئر بل” کو متفقہ حمایت کے ساتھ منظور کرنے کے بعد حتمی منظوری کے لیے گورنر سندھ کو بھجوا دیا گیا ہے۔

بل پر گورنر سندھ کے دستخط ہوتے ہی یہ قانون پورے صوبے میں نافذ ہوجائے گا۔ نئے قانون کے مطابق گھریلو ملازمین کو اب “نوکر” یا “ملازم” کہنے کے بجائے باضابطہ طور پر “گھریلو کارکن” کہا جائے گا، تاکہ انہیں باوقار شناخت دی جا سکے۔

قانون میں بچوں سے گھریلو مشقت لینے پر سخت پابندی عائد کی گئی ہے۔ 16 سال سے کم عمر بچوں کو کسی بھی قسم کی گھریلو ملازمت پر رکھنا قابلِ سزا جرم تصور ہوگا۔ اسی طرح 18 برس سے کم عمر افراد سے صرف ہلکے نوعیت کے کام لیے جا سکیں گے، بشرطیکہ ان کی تعلیم، صحت یا جسمانی و ذہنی نشوونما متاثر نہ ہو۔

نئے قانون کے تحت گھریلو کارکنان سے غیر محدود اوقات کار نہیں لیے جا سکیں گے۔ روزانہ زیادہ سے زیادہ 8 گھنٹے کام کروانے کی اجازت ہوگی جبکہ ہر ہفتے ایک دن کی لازمی چھٹی دینا ضروری قرار دیا گیا ہے۔ اگر کسی کارکن سے چھٹی والے دن بھی کام لیا گیا تو مالک کو اضافی معاوضہ یعنی دگنی اجرت ادا کرنا ہوگی۔

بل میں یہ بھی شامل ہے کہ گھریلو کارکنان کو سالانہ 10 اتفاقی اور 8 بیماری کی چھٹیاں دی جائیں گی، جبکہ تمام مذہبی تہواروں پر تنخواہ سمیت رخصت فراہم کرنا بھی لازمی ہوگا۔

خواتین گھریلو کارکنان کے لیے زچگی کی صورت میں 6 ہفتے کی بامعاوضہ چھٹی دینا قانون کا حصہ بنایا گیا ہے۔ اسی طرح بیمار ملازمین کو آرام کی سہولت فراہم کرنا بھی مالکان کی قانونی ذمہ داری ہوگی۔

قانون کے مطابق کسی بھی گھریلو کارکن کی تنخواہ حکومت سندھ کی مقرر کردہ کم از کم اجرت سے کم نہیں رکھی جا سکے گی۔ اس کے علاوہ عید اور دیگر مذہبی مواقع پر بروقت تنخواہ اور چھٹی کی فراہمی کو بھی قانونی تحفظ دیا گیا ہے۔

ماہرین کے مطابق یہ قانون سندھ میں گھریلو کارکنان کے معاشی، سماجی اور انسانی حقوق کے تحفظ کی جانب ایک اہم پیش رفت ثابت ہوگا، جس سے چائلڈ لیبر کے خاتمے اور کم آمدنی والے طبقے کو باعزت روزگار فراہم کرنے میں مدد ملے گی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک


میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…

وراثت

بنوں میں دو بھائی رہتے تھے‘ والد زمین دار اور…