بدھ‬‮ ، 10 جون‬‮ 2026 

1500 روپے مالیت کے قومی انعامی بانڈز کے نتائج کا اعلان کردیا گیا

datetime 20  مئی‬‮  2026 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک)1500 روپے کے قومی انعامی بانڈ رکھنے والوں کے لیے خوشخبری سامنے آگئی ہے، کیونکہ حالیہ قرعہ اندازی کے نتائج جاری کر دیے گئے ہیں اور مکمل فہرست عوام کی سہولت کے لیے آن لائن بھی دستیاب کر دی گئی ہے۔

تفصیلات کے مطابق 15 مئی کو سیالکوٹ میں نیشنل سیونگز سینٹر کے زیرِ اہتمام 1500 روپے والے انعامی بانڈ کی 106ویں قرعہ اندازی منعقد ہوئی، جس میں مختلف انعامات جیتنے والے خوش نصیب افراد کے نمبرز کا اعلان کیا گیا۔اس قرعہ اندازی میں پہلا انعام 30 لاکھ روپے رکھا گیا تھا، جبکہ دوسرے انعام کی مالیت 10 لاکھ روپے فی کس مقرر کی گئی۔ اس کے علاوہ 1696 افراد کو تیسرے انعام کے طور پر 18 ہزار 500 روپے دیے جائیں گے۔نتائج کے مطابق بانڈ نمبر 024132 پہلے انعام کا حقدار قرار پایا۔ اسی طرح 026284، 355420 اور 407321 وہ تین نمبرز ہیں جنہوں نے 10،10 لاکھ روپے کا دوسرا انعام حاصل کیا۔کامیاب امیدوار اپنے اصل پرائز بانڈ اور قومی شناختی کارڈ کے ہمراہ اسٹیٹ بینک کے متعلقہ دفاتر، نیشنل سیونگز سینٹرز یا مقررہ کمرشل بینکوں سے انعامی رقم وصول کر سکتے ہیں۔

واضح رہے کہ پاکستان میں پرائز بانڈز کو محفوظ سرمایہ کاری تصور کیا جاتا ہے کیونکہ سرمایہ کار کی اصل رقم برقرار رہتی ہے، جبکہ مختلف قرعہ اندازیوں میں انعام حاصل کرنے کا موقع بھی ملتا رہتا ہے۔ شہری شناختی کارڈ کی نقل کے ساتھ مجاز بینک یا نیشنل سیونگز کے دفاتر سے یہ بانڈ خرید سکتے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ریو سیکریٹو


دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…