منگل‬‮ ، 15 ستمبر‬‮ 2026 

غیر قانونی قبضہ قابل سزا جرم، پنجاب اونرشپ پراپرٹی ترمیمی آرڈیننس کا گزٹ نوٹیفکیشن جاری

datetime 14  فروری‬‮  2026 |

لاہور( این این آئی)صوبائی حکومت نے پنجاب اونرشپ پراپرٹی ترمیمی آرڈیننس کا گزٹ نوٹیفکیشن جاری کر دیا۔

آرڈیننس میں غیر قانونی قبضہ قابل سزا جرم قرار دیدیا گیا، غیر قانونی قبضے پر 5 سے 10 سال سزا ہوگی، غیر قانونی قبضے پر ایک کروڑ روپے جرمانہ بھی ہو سکے گا۔قبضے میں مدد کرنے والے سہولت کار کو بھی سزا ہوگی، ہر ضلع میں خصوصی پنجاب پراپرٹی ٹربیونل بھی قائم ہوگا، قبضہ کیسز میں براہ راست درخواست دائر کی جا سکے گی۔نجی ٹی وی کے مطابق گورنر پنجاب سردار سلیم خان کی جانب سے ترمیمی آرڈیننس جاری کیا گیا، متعدد وجوہات کی بنا ء پر پنجاب اونرشپ پراپرٹی ایکٹ 2025 میں ترمیم لازمی تھی۔گزٹ نوٹیفکیشن کے مطابق کسی پراپرٹی پر غیر قانونی قبضہ یا جعلسازی کرنے والا 5 سے 10 سال کی سزا کا مستحق ہو سکتا ہے، ہر ضلع میں ڈی سی، ڈی پی او، اے سی، ڈی سی آر سمیت دیگر پر مشتمل ایک کمیٹی تشکیل دی جائے گی۔نوٹیفکیشن کے مطابق مذکورہ کمیٹی لوگوں کی پراپرٹی پر قبضے سے متعلق کی شکایات سے متعلق امور سر انجام دے گی، مذکورہ کمیٹی ٹربیونل کی جانب سے شکایت سے ارسال کے 30 دن کے اندر اندر رپورٹ جمع کروائے گا۔فریقین کے درمیان میں معاملے کے حل یا رضا مندی کی صورت میں کمیٹی ٹربیونل سے فیصلہ حاصل کرنے کے لیے رپورٹ ارسال کرے گی، کیس کی سماعت کے دوران ٹریبونل کسی بھی موقعہ پر پراپرٹی کی ریگولیشن کے حوالے سے کوئی وقتی آرڈر جاری کر سکتا ہے۔

نوٹیفکیشن کے مطابق حکومت پنجاب چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ سے مشورے کے بعد ایڈیشنل سیشن ججز کو بطور ٹریبونل تعینات کرسکتی ہے، ٹریبونل کے ایڈیشنل سیشن ججز کو ان کیسز کے حوالے سے بلا شرکت غیرے اختیار ہوگا۔ٹریبونل ایک ماہ میں کیس کا فیصلہ کرنے کا پابند ہوگا اور روزانہ کی بنیادوں پر کیس چلائے گا، ٹریبونل کسی بھی پراپرٹی کے حوالے سے اس کی مالیت کے عوض رقم مہیا کرنے کا حکم بھی جاری کر سکتا ہے۔

اگر کوئی کیس کسی عدالت یا ٹربیونل میں زیر سماعت ہے تو درخواست گزار کیس کو ٹرانسفر کروانے کے لیے اسی عدالت یا ٹربیونل سے رجوع کرے گا، یہ قانونی نقطہ آئینی عدالت، سپریم کورٹ اور لاہور ہائیکورٹ میں زیر اہتمام کیسز پر لاگو نہیں ہوسکتا۔گزٹ نوٹیفکیشن کے مطابق ٹریبونل کے فیصلے کے خلاف 30 دن میں لاہور ہائیکورٹ میں درخواست دائر کی جا سکے گی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



صرف ایک شخص کے لیے


کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…