منگل‬‮ ، 15 ستمبر‬‮ 2026 

سولر پینلز کی قیمتوں میں ایک بار پھر بڑا اضافہ

datetime 23  جنوری‬‮  2026 |

اسلام آباد(نیوز ڈ یسک) ملک میں سولر پینلز کی قیمتوں میں ایک مرتبہ پھر اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جس کے باعث سولر سسٹمز لگوانے کے خواہشمند صارفین کی مشکلات بڑھ گئی ہیں۔بازار سے حاصل ہونے والی معلومات کے مطابق سولر پینلز کے فی واٹ نرخ میں تقریباً 10 روپے کا اضافہ ہوا ہے، جس کے بعد فی واٹ قیمت 30 روپے سے بڑھ کر 40 روپے تک جا پہنچی ہے۔ اس اضافے کا براہِ راست اثر مکمل سولر سسٹمز کی لاگت پر پڑا ہے، جس سے ایک سسٹم کی مجموعی قیمت میں اوسطاً دو لاکھ روپے تک اضافہ ہو گیا ہے۔

نئے جاری کردہ نرخوں کے مطابق 5 کلوواٹ آن گرڈ سولر سسٹم کی قیمت تقریباً 6 لاکھ 50 ہزار روپے، 7 کلوواٹ سسٹم 7 لاکھ 50 ہزار روپے، 10 کلوواٹ سسٹم 11 لاکھ روپے، 12 کلوواٹ سسٹم 12 لاکھ 50 ہزار روپے جبکہ 15 کلوواٹ آن گرڈ سسٹم کی قیمت 15 لاکھ روپے تک پہنچ چکی ہے۔مارکیٹ ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ قیمتیں آن گرڈ سولر سسٹمز کے لیے ہیں، جبکہ ہائبرڈ سولر سسٹم لگوانے کی صورت میں صارفین کو بیٹریوں کی مد میں اضافی اخراجات برداشت کرنا ہوں گے۔ذرائع کے مطابق اگرچہ قیمتوں میں اضافے سے صارفین کو مشکلات کا سامنا ہے، تاہم بجلی کے نرخوں میں مسلسل اضافے کے باعث سولر توانائی کی مانگ اب بھی برقرار ہے اور لوگ متبادل توانائی کے اس ذریعے کی جانب رجوع کر رہے ہیں۔
و

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



صرف ایک شخص کے لیے


کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…