منگل‬‮ ، 15 ستمبر‬‮ 2026 

بجلی صارفین ٹیکسز کی مد میں 27روپے فی یونٹ ادا کرنے پر مجبور

datetime 20  جنوری‬‮  2026 |

اسلام آباد (این این آئی)بجلی صارفین ٹیکسز کی مد میں 27روپے فی یونٹ ادا کرنے پر مجبور ہیں۔ ذرائع کے مطابق پیٹرولیم مصنوعات کی طرح بجلی بل میں عوام پر بجلی لاگت سے زائد حکومتی ٹیکسز کا بوجھ ہے، صارفین 6قسم کے ٹیکسز کی مد میں 27روپے فی یونٹ تک ادا کرنے پر مجبور ہیں، فیول چارجز اس کے علاوہ ہیں۔

دستاویزکے مطابق صارفین بجلی پر تقریبا 8روپے ٹیکس، 3روپے 23پیسے فی یونٹ گردشی قرض سرچارج،15روپے 69پیسے کیپسٹی پیمنٹس کی مد میں ادا کرتے ہیں۔دستاویز کے مطابق صارفین سے 708ارب روپے صرف جی ایس ٹی کی مد میں جمع ہوتے ہیں۔ نیپرا کے مطابق رواں سال صارفین 233ارب روپے گردشی قرض سرچارج ادا کرچکے جو آئندہ بھی جاری رہے گا۔صارفین کو کیپسٹی پیمنٹس کی مد میں 1946ارب روپے ادا کرنا ہوں گے۔ ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ اور فیول چارجز پر مزید ٹیکس اس کے علاوہ ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



صرف ایک شخص کے لیے


کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…