بلاک کر دئیے ۔لاہور ہائیکورٹ میں جمع کرائی گئی پی ٹی اے رپورٹ کے مطابق فیس بک اور ٹک ٹاک پر غیر قانونی اور نامناسب مواد شیئر کرنے پر سب سے زیادہ بلاکنگ کی گئی، پی ٹی اے نے فیس بک کے 2لاکھ 29ہزار لنکس چیک کر کے رپورٹ کیے، 1لاکھ 97ہزار بلاک ہوئے۔انسٹاگرام پر 43ہزار یو آر ایل چیک جبکہ 38ہزار بند کیے گئے، ٹک ٹاک کے ایک لاکھ 74ہزار سے زائد غیر قانونی مواد کیلنکس چیک کیے گئے اور ایک لاکھ 63ہزار سے زائد ٹک ٹاک ویڈیوز کے لنکس بند کیے گئے، رپورٹ کے مطابق ٹک ٹاک پر سب سے سخت کریک ڈائون کیا گیا 94فیصد مواد بلاک کیا گیا۔
یوٹیوب پر 72ہزار لنکس کی جانچ پڑتال کی گئی اور 64ہزار سے زائد لنکس بلاک کیے گئے۔ایکس/ ٹویٹر کے ایک لاکھ 12ہزار سے زائد لنکس چیک کیے گئے، 70ہزار آٹھ سو لنکس بلاک کیے گئے، ٹوئٹر پر بلاکنگ ریٹ سب سے کم، صرف 62فیصد مواد بلاک کیا جا سکا، دوسرے مختلف پلیٹ فارمز پر 8لاکھ 98ہزار لنکس میں سے 8لاکھ 91ہزار لنکس بلاک کیے گئے۔رپورٹ کے مطابق توہین عدالت، بیہودگی، مذہب کے خلاف، پراکسی اور نفرت انگیز مواد کے 14لاکھ سے زائد لنکس اور یو آر ایل بند کر دئیے گئے۔بیہودگی اور اخلاقیات کے خلاف مواد سرفہرست رہا اور 10 لاکھ 61ہزار سے زائد لنکس بلاک کر دیے گئے جبکہ ریاست اور دفاع پاکستان کے خلاف 1لاکھ 48ہزار لنکس بلاک کیے گئے، مذہب کے خلاف مواد پر 1لاکھ 9ہزار سے زائد لنکس بند کیے گئے، فرقہ وارانہ اور نفرت انگیز مواد پر 76ہزار لنکس بلاک کیے گئے، ہتک عزت اور جعلی شناخت سے متعلق مواد پر بلاکنگ ریٹ سب سے کم رہی۔















































