منگل‬‮ ، 15 ستمبر‬‮ 2026 

پاکستان سعودی عرب کوبھی جے ایف 17 لڑاکا طیارے فراہم کرے گا

datetime 8  جنوری‬‮  2026 |

اسلام آباد (نیوز ڈ یسک)خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق اسلام آباد اور ریاض کے درمیان سعودی عرب کے تقریباً دو ارب ڈالر کے قرضوں کو جے ایف-17 لڑاکا طیاروں کے سودے میں تبدیل کرنے پر بات چیت جاری ہے۔ یہ معلومات دو پاکستانی ذرائع نے فراہم کی ہیں۔واضح رہے کہ گزشتہ سال دونوں ممالک نے ایک باہمی دفاعی معاہدے پر دستخط کیے تھے، جس کے بعد فوجی تعاون میں نمایاں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ تازہ مذاکرات جے ایف-17 طیاروں کی فراہمی تک محدود ہیں، جو پاکستان اور چین کی مشترکہ تیار کردہ لڑاکا طیارہ ہے۔ ذرائع کے مطابق زیرِ غور مختلف اختیارات میں جے ایف-17 سب سے اہم اور ترجیحی انتخاب رہا۔پہلے سورس کے مطابق مجموعی معاہدے کی مالیت چار ارب ڈالر ہے، جس میں دو ارب ڈالر قرض کی تبدیلی کے علاوہ دو ارب ڈالر کا اضافی فوجی ساز و سامان بھی شامل ہے۔

فوجی ذرائع نے شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ یہ مذاکرات ابھی حتمی نہیں ہوئے اور اس معاہدے پر باضابطہ منظوری درکار ہے۔سعودی میڈیا ادارے ’سعودی نیوز 50‘ کے مطابق پاکستانی فضائیہ کے سربراہ ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو سعودی عرب میں دوطرفہ مذاکرات کے لیے موجود تھے، جس میں دونوں ممالک کے درمیان فوجی تعاون پر بھی بات کی گئی۔ریٹائرڈ ایئر مارشل اور دفاعی تجزیہ کار امیر مسعود نے روئٹرز کو بتایا کہ پاکستان چھ ممالک کے ساتھ دفاعی ساز و سامان کی فراہمی یا مذاکرات کر رہا ہے، جن میں جے ایف-17 طیارے اور ان کے الیکٹرانک و اسلحہ جاتی نظام شامل ہیں۔ ان کے بقول جے ایف-17 کی عالمی منڈی میں کشش اس لیے بڑھ گئی ہے کیونکہ یہ آزمودہ طیارہ ہے اور عملی جنگ میں بھی استعمال ہو چکا ہے، جبکہ یہ لاگت کے اعتبار سے بھی مؤثر ہے۔تازہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب پاکستان شدید مالی دباؤ کا سامنا کر رہا ہے، اور سعودی عرب مشرقِ وسطیٰ میں امریکہ کے وعدوں اور غیر یقینی صورتحال کے پیشِ نظر اپنی سکیورٹی شراکت داریوں کو نئے سرے سے ترتیب دے رہا ہے۔

ستمبر میں طے پانے والے باہمی دفاعی معاہدے کے تحت ریاض اور اسلام آباد نے اس بات پر اتفاق کیا کہ کسی ایک ملک کے خلاف جارحیت دونوں کے خلاف حملہ تصور کیا جائے گا، جس سے دوطرفہ دفاعی شراکت داری کو مزید مضبوطی حاصل ہوئی۔ پاکستان طویل عرصے سے سعودی عرب کو فوجی معاونت فراہم کرتا رہا ہے، جبکہ سعودی عرب نے مختلف ادوار میں پاکستان کی مالی معاونت بھی کی ہے۔گزشتہ مہینے اسلام آباد نے لیبیا کی مشرقی حکومت سے وابستہ لیبیئن نیشنل آرمی کے ساتھ چار ارب ڈالر سے زائد مالیت کا اسلحہ معاہدہ کیا، جس میں جے ایف-17 لڑاکا طیارے اور تربیتی طیارے شامل ہیں۔ پاکستان بنگلہ دیش کے ساتھ بھی جے ایف-17 کی ممکنہ فروخت پر بات چیت کر رہا ہے تاکہ دفاعی برآمدات کو عالمی سطح پر وسعت دی جا سکے۔وزیر دفاع خواجہ آصف نے جیو نیوز سے گفتگو میں کہا کہ ملکی اسلحہ جات کی صنعت کی کامیابی پاکستان کی اقتصادی صورتحال کو یکسر بدل سکتی ہے۔ ان کے مطابق پاکستان کے طیارے آزمودہ ہیں اور اتنے زیادہ آرڈرز موصول ہو رہے ہیں کہ چھ ماہ میں بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی ضرورت کم ہو جائے گی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



صرف ایک شخص کے لیے


کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…