منگل‬‮ ، 15 ستمبر‬‮ 2026 

ٹیکس وصولی میں تنخواہ دار طبقہ سرفہرست،266 ارب روپے جمع کروائے

datetime 6  جنوری‬‮  2026 |

کراچی (این این آئی)فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر)کی جانب سے جاری کردہ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق تنخواہ دار طبقہ بدستور ٹیکس بوجھ کا سب سے بڑا حصہ برداشت کر رہا ہے اور رواں مالی سال کے پہلے چھ ماہ کے دوران تنخواہ دار طبقے نے قومی خزانے میں نمایاں طور پر زیادہ رقم جمع کرائی ۔جاری مالی سال کے ابتدائی چھ ماہ میں تنخواہ دارطبقے نے مجموعی طور پر 266 ارب روپے انکم ٹیکس کی مد میں ادا کیے، جو گزشتہ سال اسی مدت کیمقابلے میں 23 ارب روپے زیادہ ہیں،اس اضافے سے ایک بار پھر ثابت ہوتا ہے کہ براہِ راست ٹیکسوں میں سب سے بڑا حصہ تنخواہ دار افراد ادا کرتے ہیں۔ایف بی آرکے اعداد و شمار کے مطابق تنخواہ دار افرادکو اپنی مجموعی آمدن کا 38 فیصد تک ٹیکس ادا کرنا پڑتا ہے،حکام کے مطابق مہنگائی اور بڑھتے ہوئے اخراجات کے دبا کے باوجود تنخواہوں سے ٹیکس کی کٹوتی بلا تعطل جاری ہے۔نان کارپوریٹ تنخواہ دار ملازمین نے چھ ماہ کی مدت کے دوران 117 ارب روپے ٹیکس ادا کیا۔

اس شعبے سے ٹیکس وصولی میں 14 فیصد اضافہ ہوا،نان کارپوریٹ ملازمین نے گزشتہ سال کے مقابلے میں 23 ارب روپے زیادہ ٹیکس ادا کیا۔کارپوریٹ شعبے میں کام کرنیوالے ملازمین نے مالی سال کے پہلے نصف حصے کے دوران 82 ارب روپے انکم ٹیکس ادا کیا،ایف بی آر کے مطابق کارپوریٹ ملازمین کی جانب سے ٹیکس ادائیگی میں گزشتہ سال کی اسی مدت کے مقابلے میں 13 فیصد اضافہ ہوا۔ریئل اسٹیٹ کے شعبے سے ٹیکس وصولی میں بھی نمایاں بہتری ریکارڈ کی گئی۔ چھ ماہ کے دوران 126 ارب روپے ودہولڈنگ ٹیکس جمع کیا گیا۔ایف بی آر کے اعدادوشمار کے مطابق پلاٹس کی فروخت پر ٹیکس کی وصولی میں 66 فیصد اضافہ ہوا اور یہ 87 ارب روپے تک پہنچ گئی،اس کے علاوہ، پلاٹس کی خریداری پر ودہولڈنگ ٹیکس میں 29 فیصد اضافہ ہوا اور یہ ریکارڈ سطح 39 ارب روپے تک پہنچ گیا۔

صوبائی حکومت کے ملازمین کی جانب سے ادا کیے گئے انکم ٹیکس میں گزشتہ مدت کے مقابلے میں 39 ارب روپے کی کمی ریکارڈ کی گئی،اس کے برعکس،وفاقی حکومت کے ملازمین سے انکم ٹیکس کی وصولی میں 8 فیصد اضافہ ہوا اور چھ ماہ میں یہ 27 ارب روپے تک پہنچ گئی۔ایف بی آر کے مطابق جولائی سے دسمبر 2025 تک مجموعی انکم ٹیکس کی وصولی 3,000 ارب روپے سے تجاوز کر گئی،تاہم تاجروں کو ٹیکس نیٹ میں نہیں لایا جا سکا،اوراس مالدارطبقیسے وصولیوں میں کوئی بہتری نہیں آئی۔صرف تنخواہ دار طبقے نیہی ملک بھرمیں جمع ہونے والے کل انکم ٹیکس کا تقریبا 10فیصد حصہ فراہم کیا، گزشتہ مالی سال میں تنخواہ دار طبقے نے کل 555 ارب روپے ٹیکس ادا کیے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



صرف ایک شخص کے لیے


کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…