منگل‬‮ ، 15 ستمبر‬‮ 2026 

ایف بی آر کا چھوٹے کاروبار کو پوائنٹ آف سیل کے نفاذ سے ریلیف دینے کا اعلان

datetime 30  دسمبر‬‮  2025 |

اسلام آباد (این این آئی)چیئرمین ایف بی آر راشد لنگڑیال نے تاجروں کو یقین دہانی کرائی ہے کہ جو تاجر پوائنٹ آف سیل کا سسٹم لگانے کے متحمل نہیں ہوسکتے انہیں ریلیف دیا جائے گا اور کسی تاجر کو ہراساں نہیں کیا جائے گا۔پیر کو صدر مرکزی تنظیم تاجران پاکستان کاشف چوہدری کی قیادت میں وفد نے چیئرمین ایف بی آر راشد محمولنگڑیال سے ملاقات کی۔ ملاقات میں ممبر آئی آر زبیر بلال اور دیگر بھی موجود تھے۔کاشف چوہدری نے چیئرمین ایف بی آر کو تاجروں کو درپیش مسائل، ایف بی آر کیحکام کی جانب سے تاجروں کو ہراساں کرنے اور پوائنٹ آف سیل پر چھوٹے تاجروں کے مسائل سے انہیں آگاہ کیا۔کاشف چوہدری نے کہا کہ ہمارے تحفظات کے باوجود ملکی و غیر ملکی برانڈز، چین سٹورز پر پوائنٹ آف سیل کے نفاذ کا عمل شروع کیا گیا، ان اداروں کے پاس کمپیوٹرائزڈ نظام، متبادل بجلی، تربیت یافتہ عملہ اور انتظامی ڈھانچہ موجودہے اس لیے ان کے لیے کسی حد تک اس نظام کو اپنانا ممکن ہے تاہم ان میں شامل نسبتا چھوٹے کاروبار آج بھی عملی مشکلات سے دوچار ہیں، اس نظام کے نفاذ سے ان کاروباروں کے اخراجات میں نمایاں اضافہ ہوا، ڈاکومینٹیشن کے نام پر مداخلت، جرمانے اور دکانیں سیل کے اقدامات نے تاجروں میں خوف و بے یقینی کی فضا قائم کردی۔

کاشف چوہدری نے کہا کہ ایف بی آر نے اب برانڈز، چین سٹورز سے آگے بڑھتے ہوئے عام مارکیٹوں، دکانوں پر بھی یلغار کا انداز اختیار کرلیا، بڑی گاڑیوں کے قافلے، مارکیٹوں پر چھاپے ایک ایسے منظر کا تاثر ہیں جیسے کسی دشمن قوت کے خلاف کارروائی کی جا رہی ہو، یہ طرز عمل تذلیل اور ذہنی اذیت کا ایک نیا سلسلہ ہے، پسند و ناپسند پر نوٹسز جاری ہورہے ہیں، بعض تاجروں سے معاملات طے کرکے چھوڑ دیا جاتا ہے اور طے نہ کرنے پر ہراساں، دکانیں سیل اور جرمانے کیے جاتے ہیں۔چیئرمین ایف بی آر راشد لنگڑیال نے تاجروں کے مسائل حل کرنے کی یقین دہانی کرادی۔ انہوں نے کہا کہ کسی تاجر کو ہراساں نہیں کیا جائے گا، تاجروں کو بلیک میل کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی، رشوت، کرپشن کی شکایات پر ایف بی آر عملے کو معطل کیا جائے گا، جو دکاندار پوائنٹ آف سیل کے متحمل نہیں ہو سکتے ان پر نہیں لگایا جائے گا، تاجر تنظیموں کی مشاورت اور اعتماد سے آگے بڑھیں گے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



صرف ایک شخص کے لیے


کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…