پیر‬‮ ، 14 ستمبر‬‮ 2026 

انگلینڈ میں چوری شدہ نایاب پہلی کاپی سونے کا بیت الخلا 12 ملین ڈالر میں فروخت

datetime 20  ‬‮نومبر‬‮  2025 |

نیویارک(این این آئی )اطالوی فنکار ماوریٹسیو کاتیلان کے ڈیزائن کردہ سونے کے ٹوائلٹ کو نیویارک شہر میں نیلامی میں 12.1 ملین ڈالر میں فروخت کیا گیا، جیسا کہ سوذبیز نیلامی گھر نے اعلان کیا۔یہ ٹوائلٹ تقریبا 101 کلوگرام وزن کے 18 قیراط سونے سے بنایا گیا ہے اور اسے مکمل طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے۔سوذبیز کے مطابق نیلامی کی شروعات ٹوائلٹ میں موجود سونے کی قیمت کے حساب سے کی گئی تھی۔ منگل کے روز 101 کلوگرام 18 قیراط سونے کی قیمت تقریبا 10 ملین ڈالر تھی۔65 سالہ کاتیلان نے 2016 میں اس ٹوائلٹ کی دو کاپیاں تیار کیں اور دونوں کو امریکا کے عنوان سے پیش کیا۔

ان میں سے ایک کاپی گوجن ہائم میوزیم نیویارک میں نمائش کے لیے رکھی گئی تھی، لیکن 2019 میں انگلینڈ کے بلین ہیم محل سے چوری ہو گئی، جو ونسٹن چرچل کے آبائی گھر کے قریب تھا، جہاں اسے عارضی طور پر نمائش کے لیے رکھا گیا تھا۔دوسری کاپی 2017 میں ایک نجی آرٹ جمع کرنے والے کو فروخت کی گئی تھی، اب اسے نیلامی میں پیش کیا گیا۔امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق خریدار ارب پتی اسٹیو کوہن ہیں، جو نیو یارک میٹس بیس بال ٹیم کے مالک بھی ہیں۔نیلامی سے پہلے اس فن پارے نے کافی ہلچل مچائی اور اسے دیکھنے والوں کی بڑی تعداد نے انتظار کیا۔ سوذبیز کے مطابق ایک مشہور امریکی برانڈ نے نیلامی جیت لی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)


ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…