پیر‬‮ ، 14 ستمبر‬‮ 2026 

پاکستانی سائنسدانوں نے گلاب کی نئی قسم متعارف کرا دی، کسان ایک ایکڑ سے 15 لاکھ روپے تک کما سکیں گے

datetime 24  ستمبر‬‮  2025 |

مکو آ نہ (این این آئی)پاکستانی سائنسدانوں نے گلاب کی ایک نئی قسم تیار کی ہے جو کسانوں کو فی ایکڑ سالانہ 15 لاکھ روپے تک منافع دلا سکتی ہے۔ یہ پیشرفت نہ صرف مقامی کسانوں کے لئے آمدنی کا نیا ذریعہ فراہم کرے گی بلکہ پاکستان کو 60 ارب ڈالر کی عالمی فلوریکلچر مارکیٹ میں داخلے کا بھی موقع دے گی۔انسٹی ٹیوٹ آف ہارٹیکلچرل سائنسز، یونیورسٹی آف ایگریکلچر فیصل آباد (یو اے ایف) کے ماہرین نے اس نئی قسم کو ”روزا سینٹی فولیئا یو اے ایف” کے نام سے متعارف کرایا ہے۔محققین کے مطابق اس پھول کی گرمی برداشت کرنے کی صلاحیت اور صنعتی استعمال کے وسیع مواقع اسے کسانوں اور برآمد کنندگان کے لئے ایک ”گیم چینجر” بناتے ہیں۔

یو اے ایف کے پروفیسر آف فلوریکلچر ڈاکٹر افتخار احمد نے ویلتھ پاکستان سے گفتگو میں بتایا کہ اس قسم کے ایک ایکڑ میں لگائے گئے تقریباً 5 ہزار پودے ایک کلو اعلیٰ معیار کا گلاب کا تیل پیدا کرتے ہیں جس کی قیمت تقریباً 15 لاکھ روپے بنتی ہے۔اخراجات نکالنے کے بعد کسان کو فی ایکڑ 7 لاکھ 40 ہزار روپے تک خالص منافع ہوتا ہے، جو بڑے پیمانے پر کاشت کرنے والوں کے لیے انتہائی منافع بخش ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ اگر کسان گلاب کا تیل نکالنے میں سرمایہ کاری نہ کرسکیں تو بھی دیگر ذرائع سے اچھی آمدنی ممکن ہے۔ صرف پتیوں کی فروخت سے فی ایکڑ چار لاکھ روپے تک کی آمدنی ہوسکتی ہے، جس میں خالص منافع ڈھائی لاکھ روپے کے قریب رہتا ہے۔انہوں نے بتایا کہ گلاب کو عرق گلاب میں پروسیس کرنے سے فی ایکڑ 50 ہزار لیٹر تک پیداوار حاصل ہوسکتی ہے جس سے تقریباً 15 لاکھ روپے کی فروخت اور چھ لاکھ روپے منافع ممکن ہے۔ اسی طرح گلقند بنانے سے فی ایکڑ ساڑھے سات لاکھ روپے کی فروخت اور اڑھائی لاکھ روپے خالص آمدنی حاصل ہوتی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)


ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…