جمعہ‬‮ ، 11 ستمبر‬‮ 2026 

ڈالر کی حقیقی قدر 211.5 روپے ہے، تولا ایسوسی ایٹس کا دعوی

datetime 5  دسمبر‬‮  2024 |

کراچی(این این آئی)ٹیکس ایڈوائزری فرم تولا ایسوسی ایٹس نے کہاہے کہ آئی ایم ایف کی شرائط کی وجہ سے ڈالر کی قدر اوور ویلیو ہوچکی ہے، اگر آئی ایم ایف کی شرائط نہ ہوتیں تو اکتوبر میں ڈالر کی قدر 211.5 روپے فی ڈالر ہوتی۔اس طرح ڈالر اس وقت اپنی اصل قدر سے ایک چوتھائی یعنی 67 روپے زیادہ پر ٹریڈ کر رہا ہے، جس سے مہنگائی اور سودی ادائیگیوں کا بوجھ بھی بڑھ رہا ہے۔ اگر تولا ایسوسی ایٹس کی رائے کو درست مان لی جائے تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ اس وقت ڈالر کی قدر میں 24 فیصد یعنی 67 روپے کی کمی کرنا ممکن ہے، تاہم، مرکزی بینک جو ایکسچینج ریٹ کو مانیٹر کرنے کا ذمہ دار ہے، کا کہنا ہے کہ روپیہ اور ڈالر کی شرح تبادلہ مارکیٹ کی توقعات کے مطابق ہیں۔

ایڈوائزی فرم کے مطابق گزشتہ تین سال سے ڈالر کی شرح بلند ہے، جس نے قومی معیشت کو بری طرح متاثر کیا ہے، اگر ڈالر کو اس کی اصل قیمت 211.5 روپے پر رکھا جائے تو اس سے بہت سے معاشی فوائد حاصل ہونگے۔ریفارم اینڈ ریونیو موبلائزیشن کمیشن کے سابق چیئرمین اشفاق تولہ نے کہا کہ اگر آئی ایم ایف کی شرائط نہ ہوتی تو آج ڈالر 278 روپے کا نہ ہوتا بلکہ گزشتہ سال بھی ڈالر کی قدر کم رہتی۔ انھوں نے کہا کہ آئی ایم ایف شرائط کی وجہ سے ستمبر 2022 ڈالر 238 روپے پر ٹریڈ کر رہا تھا، لیکن اسحاق ڈار کے وزیرخزانہ بنتے ہی بغیر کسی بنیادی معاشی تبدیلی کے ڈالر 218 روپے تک گرگیا، گزشتہ مہینے اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ ڈالر کی اصل قیمت 240 روپے ہے۔اشفاق تولہ نے فلیکسیبل ایکسچینج ریٹ ریجیم کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ اس سے معیشت اور عام افراد دونوں متاثر ہورہے ہیں۔

ایڈوائزری فرم نے کہا کہ مہنگائی کم ہو کر 4.67 فیصد ہوگئی ہے، جس کے نتیجے میں حکومت شرح سود کو مزید 2 فیصد کم کرنے کے قابل ہوگئی ہے، جس سے حکومت کے لیے مالیاتی گنجائش پیدا ہوئی ہے، اور حکومت کو 6.4 ہزار ارب روپے کی بچت ہوسکتی ہے، جس سے حکومت کو ترقیاتی کاموں اور معاشی ترقی کیلیے ذرائع میسر آسکتے ہیں۔فرم نے کہا کہ شرح سود میں 1 فیصد کمی کے نتیجے میں قرضوں کے بوجھ میں 475 ارب روپے کی کمی ہوگی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)


ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…