جمعرات‬‮ ، 01 اکتوبر‬‮ 2026 

آئی پی پیز کے گھنائونے کردار سے متعلق ایک اور ہوش ربا انکشاف

datetime 25  ستمبر‬‮  2024 |

کراچی(این این آئی)انڈیپنڈنٹ پاور پروڈیوسرز (آئی پی پیز)کی جانب سے ملکی معیشت کو نقصان پہنچانے اور دھوکا دہی کے مزید حقائق منظر عام پر آگئے۔ذرائع کے مطابق مئی اور جون میں طویل لوڈ شیڈنگ کے پیچھے آئی پی پیز کا ہاتھ نکل آیا، گزشتہ مالی سال4 ہزار751 میگا واٹ کے 9 آئی پی پیز تقریبا بند رہے مگر انہیں اربوں روپے کی رقم کیپسٹی پیمنٹس کی مد میں ادا کردی گئی۔ آئی پی پیز نے کم پیداوار کے باوجود 313 ارب روپے کیپسٹی پیمنٹس کی مد میں لیے۔

زیرجائزہ عرصے کے دوران 1200 میگاواٹ کی صلاحیت کی حامل حب پاورکمپنی کی پیداوار بھی صفر رہی، صفر پیداوار کے باجود حب پاور 22 ارب روپے سے زائد کپیسٹی پیمنٹ لے لی۔ حب پاور کو صفر پیداوار پر 2 سالوں میں 43 ارب سے زائد کپیسٹی پیمنٹ دی گئی۔

دوسری جانب 1249 میگاواٹ صلاحیت کی چائنہ پاور حب کمپنی کی پیداوار بھی 4.5 فیصد رہی، صرف 4.5 فیصد پیداوار پر چائنہ پاور حب کمپنی نے 139 ارب روپے لے لیے، صرف 7.2 فیصد پیداوار پر پورٹ قاسم الیکٹرک نے 103 ارب کی کپیسٹی لے لی۔دستاویز کے مطابق 395 میگاواٹ کی روش پاک آئی پی پی کی پیداوار صرف 0.28 فیصد رہی، صرف 0.28 فیصد پیداوار پر روش پاک نے تقریبا 4 ارب روپے کپیسٹی پیمنٹ لے لی۔ 125 میگاواٹ کی صلاحیت والی صبا پاور کمپنی کی پیداوار 4.93 فیصد ریکارڈ کی گئی، 5 فیصد سے بھی کم پیداوار پر فیصد پیداوار پر صبا پاور نے 2 ارب 54 کروڑ روپے کپیسٹی پیمنٹ وصول کی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…