جمعرات‬‮ ، 20 اگست‬‮ 2026 

آئی پی پیز کے گھنائونے کردار سے متعلق ایک اور ہوش ربا انکشاف

datetime 25  ستمبر‬‮  2024 |

کراچی(این این آئی)انڈیپنڈنٹ پاور پروڈیوسرز (آئی پی پیز)کی جانب سے ملکی معیشت کو نقصان پہنچانے اور دھوکا دہی کے مزید حقائق منظر عام پر آگئے۔ذرائع کے مطابق مئی اور جون میں طویل لوڈ شیڈنگ کے پیچھے آئی پی پیز کا ہاتھ نکل آیا، گزشتہ مالی سال4 ہزار751 میگا واٹ کے 9 آئی پی پیز تقریبا بند رہے مگر انہیں اربوں روپے کی رقم کیپسٹی پیمنٹس کی مد میں ادا کردی گئی۔ آئی پی پیز نے کم پیداوار کے باوجود 313 ارب روپے کیپسٹی پیمنٹس کی مد میں لیے۔

زیرجائزہ عرصے کے دوران 1200 میگاواٹ کی صلاحیت کی حامل حب پاورکمپنی کی پیداوار بھی صفر رہی، صفر پیداوار کے باجود حب پاور 22 ارب روپے سے زائد کپیسٹی پیمنٹ لے لی۔ حب پاور کو صفر پیداوار پر 2 سالوں میں 43 ارب سے زائد کپیسٹی پیمنٹ دی گئی۔

دوسری جانب 1249 میگاواٹ صلاحیت کی چائنہ پاور حب کمپنی کی پیداوار بھی 4.5 فیصد رہی، صرف 4.5 فیصد پیداوار پر چائنہ پاور حب کمپنی نے 139 ارب روپے لے لیے، صرف 7.2 فیصد پیداوار پر پورٹ قاسم الیکٹرک نے 103 ارب کی کپیسٹی لے لی۔دستاویز کے مطابق 395 میگاواٹ کی روش پاک آئی پی پی کی پیداوار صرف 0.28 فیصد رہی، صرف 0.28 فیصد پیداوار پر روش پاک نے تقریبا 4 ارب روپے کپیسٹی پیمنٹ لے لی۔ 125 میگاواٹ کی صلاحیت والی صبا پاور کمپنی کی پیداوار 4.93 فیصد ریکارڈ کی گئی، 5 فیصد سے بھی کم پیداوار پر فیصد پیداوار پر صبا پاور نے 2 ارب 54 کروڑ روپے کپیسٹی پیمنٹ وصول کی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)


مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…