بدھ‬‮ ، 18 فروری‬‮ 2026 

صنعتکاروں نے بجٹ2021-22کو درست سمت میں پہلا قدم قرار دے دیا

datetime 13  جون‬‮  2021 |

کراچی (این این آئی)سائٹ ایسوسی ایشن آف انڈسٹری کے صدر عبدالہادی نے وفاقی بجٹ 2021-22 کو درست سمت میں پہلا قدم قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ موجودہ حکومت نے صنعتکار برادری کے ایف بی آر حکام کے بے جا اختیارات کو کم کرنے کے دیرینہ مطالبے کو تسلیم کرتے ہوئے تاجر برادری کو ہراساں کرنے کا راستہ تقریباً بند

کردیا ہے جسے ہم قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں تاہم بجٹ میں اب بھی بہت سے امور پر نظر ثانی کی ضرورت ہے۔ایک بیان میں عبدالہادی نے کہاکہ حکومت کے اعلان کردہ وفاقی بجٹ 2021-22 کے مطابق ٹیکس دہندگان اب سیلف اسسمنٹ اسکیم کے تحت از خود اسسمنٹ کرسکیں گے اور ایف بی آر کی مداخلت نہیں ہوگی جبکہ تھرڈ پارٹی کے ذریعے آڈٹ کیا جائے گا جو کہ خوش آئند ہے کیونکہ اس اقدام سے یقینی طور پر ایف بی آر میں رشوت کا دروازہ بند ہوجائے گا اور جو لوگ ٹیکس نیٹ میں آنے سے کتراتے ہیں انہیں ٹیکس نیٹ میں شامل ہونے کی ترغیب ملے گی جس سے ملک کو خطیر ریونیو حاصل ہوگا۔ انہوں نے ریگولیٹری ڈیوٹی کے خاتمے اور خام مال پر ڈیوٹیز میںکمی کو سراہتے ہوئے کہاکہ اس اقدام سے نہ صرف برآمدی صنعتوں کو فائدہ ہوگا بلکہ مقامی صنعتیں بھی اپنے پاؤں پر کھڑی ہوسکیں گی اور ملکی برآمدات کو بھی زبردست فروغ حاصل ہوگا تاہم عبدالہادی نے تمام تر یقین دہانیوں کے باجود زیرو ریٹیڈ ریجم بحال نہ کرنے اور 17فیصد سیلز ٹیکس واپس نہ لینے یا 5 فیصد نہ کرنے پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ بجٹ سے قبل یہ وعدہ کیا تھا کہ زیروریٹیڈ ریجم کی بحالی پر غور کیا جائے گا یا پھر 17فیصدسیلز ٹیکس کی شرح کو 5 فیصد کی سطح پر لایا جائے گا مگر بدقسمتی سے ایسا نہیں کیا

گیا جس سے برآمدکنندگان کو سرمائے کی قلت کا سامنا کرنا پڑے گا۔عبدالہادی نے مطالبہ کیا کہ حکومت نظرثانی کرتے ہوئے زیروریٹیڈ ریجم بحال کرے اور اگر ایسا کرنے میں کوئی مشکل حائل ہے تو کم ازکم 17فیصد سیلز ٹیکس کو 5فیصد کیا جائے تاکہ تجارت وصنعت کا پہیہ بلارکاوٹ گھوم سکے اور برآمدکنندگان بین الاقوامی مارکیٹوں میں مسابقت کے قابل ہوسکیں نیز ان اقدامات کے نتیجے میں برآمدات میں بھی اگلے سال تک4سے5ارب ڈالر کا اضافہ ممکن بنایا جاسکتا ہے۔



کالم



وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں


1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…