جمعہ‬‮ ، 21 اگست‬‮ 2026 

پاکستان میں ناشتہ کے وقت ایک پالیسی کا اعلان کرتے ہیں، دوپہر کے کھانے سے پہلے اسے تبدیل کردیتے ہیں چین کی اعلیٰ شخصیت کی جانب سے پاکستان کی معاشی پالیسیوں پرشدیدتنقید

datetime 3  اپریل‬‮  2021 |

کراچی (آن لائن )چین کے قونصل جنرل لی بی جیان نے کہا ہے کہ پاکستان کو ترقی کیلئے مستقل معاشی پالیسیوں کی جانب توجہ دینا ہوگی،یہاں ناشتہ کے وقت ایک پالیسی ہوتی ہے اور دوپہر کے کھانے کے بعد دوسری،وہ گزشتہ روز ایف پی سی سی آئی میں تاجروں و صنعتکاروں سے خطاب میں اظہار خیال کررہے تھے، اس موقع پر ایف پی سی سی آئی کے

صدر ناصر حیات مگوں، نائب صدور حنیف لاکھانی، ناصر خان کے علاوہ پا ک چین بزنس کونسل کے چیئرمین جاوید الیاس اور امجد رفیع، سابق صدر کے سی سی آئی بھی موجود تھے۔چینی قونصل جنرل نے پاکستان اور چین کے مابین تجارتی تعلقات میں درپیش مختلف رکاوٹوں کی نشاندہی کی اور چینی کاروباریوں اور یہاں کام کرنے والے لوگوں کے تحفظ کے حوالے سے شکایت کی اور کہاکہ پاکستان میں حکومت کی طرف سے مستقل معاشی پالیسیاں نہیں تھیں۔انہوں نے کہاکہ یہاں ناشتہ کے وقت ایک پالیسی کا اعلان کرتے ہیں اور دوپہر کے کھانے سے پہلے اسے تبدیل کردیتے ہیں اور یہ صورتحال کافی تشویش ناک ہے۔انہوں نے کہا کہ یہاں بنیادی ڈھانچے کی کمی ہماری تجارتی اور صنعتی تعلقات کو بھی نقصان پہنچا رہی ہے۔ کراچی پاکستان کا سب سے بڑا بندرگاہ شہر ہے جو کاروباری سرگرمیوں کو فروغ دینے میں ہمارے لئے مناسب ہے، نیز غیر ہنر مند مزدوری کاروباری ماحول کو نقصان پہنچا رہی ہے، ہم مزدوری کی تربیت میں

اپنا پیسہ، کوشش اور وقت صرف کرتے ہیں لیکن کچھ عرصے بعد وہ اپنی وفاداریاں بدل دیتے ہیں۔قونصل جنرل نے مزید بتایا کہ گوادر میں حکومت نے کوئی پاور پلانٹ نہیں بنایا تھا، جو اس جگہ کی تیزی سے ترقی کرنا بنیادی مسئلہ ہے۔ تاہم چین وہاں بجلی کے اپنے ذرائع تشکیل

دے رہا ہے جس میں وقت لگے گا۔ صدر ایف پی سی سی آئی ناصر حیات مگوں نے اپنے استقبالیہ خطاب میں کہا کہ پاکستان او ر چین گہرے دوست ہیں لیکن ہمارے تجارتی اعداد و شمار اس رجحان کو بہتر انداز میں ظاہر نہیں کررہے ہیں۔پاکستان کے ساتھ تجارت پر بہت ساری پوشیدہ

رکاوٹیں عائد تھیں۔ چین میں درآمد کنندگان سے ہمارے براہ راست تعلقات نہیں ہیں۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ چین پاکستان کو چینی درآمدات میں اس کا مناسب حصہ دے لہذا پاکستانی تاجروں کو بھی چین کو برآمدات کے ذریعے فائدہ اٹھانا چاہئے، اگر پاکستانی برآمد کنندگان کو چین میں

مفت کاروبار کرنے کی اجازت دی جائے تو تجارتی تناسب میں کئی گنا اضافہ کیا جاسکتا ہے۔قونصل جنرل نے بتایا کہ وہ پاکستان میں بڑی سرمایہ کاری کرنا چاہتے ہیں۔ 21 مئی کو وہ پاک چین دوستی اور سفارتی تعلقات کی 70 ویں سالگرہ منائیں گے۔ 7 اپریل کو چین کے سفیر ایف پی سی سی آئی ہیڈ آفس کا دورہ کرکے اپنے ممبروں کے ساتھ تجارتی اور صنعتی تعلقات پر تبادلہ خیال کرینگے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)


مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…