ہفتہ‬‮ ، 19 ستمبر‬‮ 2026 

سٹیٹ بینک نے آن لائن کاروبار کرنے والوں پر عائد بڑی شرط ختم کردی

datetime 3  دسمبر‬‮  2020 |

لاہور(این این آئی)اسٹیٹ بینک نے آن لائن کاروبار کرنے والے چھوٹے ایکسپورٹرز کے لیے فارم ای کی شرط ختم کردی جس کے نتیجے میں ای کامرس کے ذریعے مصنوعات باہر بھیجنے میں درپیش رکاوٹ ختم ہوجائے گی۔

اسٹیٹ بینک نے بزنس ٹو کنزیومر ای کامرس برآمدات میں سہولت دینے کے لیے ایک ضوابطی فریم ورک جاری کیا ہے۔ نئے فریم ورک کے تحت ایکسپورٹ (ای)فارم کی لازمی شرط ختم کردی گئی ہے اور اب ایکسپورٹرز ای فارم کی شرط کے بغیر ایک کھیپ میں 5000 ڈالر تک کی اشیا ء برآمد کرسکتا ہے۔یہ اقدام کم حجم کی برآمدات کو براہ راست صارفین تک پہنچانے میں مدد دے گا۔ اس سے چھوٹے تاجروں اور برآمد کنندگان کو بھی مدد ملے گی جو عام طور پر کم مقدار میں مختلف اشیا ء برآمد کرتے ہیں اور ان کے لیے ای فارم کی تفصیلی شرائط کو پورا کرنا مشکل ہوجاتا ہے کیونکہ یہ فارم بھاری مقدار کی برآمدات کے لیے بنایا گیا ہے۔حال ہی میں خصوصاً کنزیومر مارکیٹ میں عالمی سطح پر ابھرتے ہوئے رجحانات میں یہ اہم تبدیلی دیکھی گئی ہے کہ نئی ٹیکنالوجیز کی وجہ سے روایتی بازاروں کی جگہ ای کامرس نے لے لی ہے۔ کووڈ 19 کی عالمی وبا ء کے باعث عالمی لاک ڈان میں خاص طور پر اس رجحان میں تیزی دیکھی گئی۔ان رجحانات

کے پیش نظر اسٹیٹ بینک نے پاکستان سے بی ٹو سی (بزنس ٹو کنزیومر)سرحد پار برآمدات بشمول چھوٹے تاجروں اور برآمدکنندگان کی جانب سے ہونے والی برآمدات پر توجہ مرکوز کی۔ اس کا مقصد مسابقت کو بہتر بنانا اور ای کامرس پالیسی کے ترقیاتی مرحلے کے دوران عالمی مارکیٹ کے ساتھ پاکستانی کاروباری اداروں کی ڈجیٹل کنکٹی وٹی کو بڑھانا تھا۔نیا ریگولیٹری فریم ورک ای کامرس ایکسپورٹرز بشمول چھوٹے کاروباری افراد کے پرزور مطالبے کو پورا کرے گا۔ اس کے ساتھ ساتھ پاکستان کی جانب سے ای کامرس برآمدات کے اعتراف اور اسے نمو دینے کے لیے ضروری محرک بھی فراہم کرے گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…