اتوار‬‮ ، 20 ستمبر‬‮ 2026 

کاروباری ہفتے کے آخری روز بھی سونا مزید مہنگا

datetime 10  اکتوبر‬‮  2020 |

لاہور،نیویارک (آن لائن،این این آئی)رواں کاروباری ہفتے کے آخری روز شہر کی صرافہ مارکیٹوں اور بازاروں میں خالص سونے کی قیمت میں 300 روپے فیتولہ اضافہ کردیا گیا ہے جس کے بعد صرافہ مارکیٹوں میں 24 قیراط سونے کی قیمت 1 لاکھ 15 ہزار 200 روپے

جبکہ 22 قیراط سونے کی قیمت 1لاکھ 5 ہزار 600 روپے کی سطح پر دیکھنے میں آئی۔ دوسری جانب ورلڈ گولڈ کونسل نے دنیا کے ایسے ممالک کی فہرست جاری کی ہے جن کے پاس سونے کے سب سے زیادہ ذخائر موجود ہیں اور فہرست میں پاکستان 44 ویں نمبر پر ہے اور اس کے پاس اس وقت 64.6ٹن سونے کے ذخائر ہیں جو کہ اس کے مجموعی ذخائر کا 20.7 فیصد بنتے ہیں۔ آئی ایم ایف اور ورلڈ گولڈ کونسل اعداد و شمار کے مطابق اگست 2020 میں سونے کے سب سے بڑے ذخائر 8133.5 ٹن امریکا کے پاس ہیں جو کہ اس کے مجموعی ذخائر کا 79 فیصد بنتے ہیں۔دوسرے نمبر پر جرمنی ہے جس کے پاس 3363.6 ٹن یعنی ذخائر کا 75.6 فیصد، اٹلی کے پاس 2451.8 ٹن یعنی 71.3 فیصد، فرانس کے پاس 2436 ٹن یعنی ذخائر کا 65.5 فیصد، روس کے پاس 2299.9 ٹن یعنی ذخائر کا 23.0 فیصد، چین کے پاس 1948.3 ٹن یعنی ذخائر کا 3.4 فیصد ہیں۔ سوئٹزرلینڈ کے پاس 1040.0 ٹن یعنی ذخائر کا 6.5 فیصد۔

جاپان کے پاس 765.2 ٹن یعنی ذخائر کا 3.2 فیصد، بھارت کے پاس 657.7 ٹن یعنی ذخائر کا 7.5 فیصد، نیدرلینڈز کے پاس 612.5 ٹن یعنی ذخائر میں سے 71.4 فیصد، ترکی کے پاس 583.0 ٹن یعنی ذخائر میں سے 37.9 فیصد، تائیوان کے پاس 422.7 ٹن یعنی ذخائر میں

سے 4.7 فیصد۔پرتگال کے پاس 382.5 ٹن یعنی ذخائر میں سے 77.7 فیصد، قازقستان کے پاس 378.5 ٹن یعنی ذخائر میں سے 65.5 فیصد، ازبکستان کے پاس 342.8 ٹن یعنی ذخائر میں سے 60 فیصد، برطانیہ کے پاس 310.3 ٹن یعنی ذخائر میں سے 10.2 فیصد، لبنان کے پاس 286.8 ٹن

یعنی ذخائر میں سے 1.6 فیصد اور دنیا میں 35017.79 ٹن سونے کے ذخائر ہیں۔ورلڈ گولڈ کونسل کے جاری اعداد و شمار کے مطابق پاکستان اس فہرست میں 44 ویں نمبر پر ہے اور اس کے پاس اس وقت 64.6 ٹن سونے کے ذخائر ہیں جو کہ اس کے مجموعی ذخائر کا 20.7 فیصد بنتے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…