جمعرات‬‮ ، 03 اپریل‬‮ 2025 

جولائی تک وفاقی حکومت کا قرض355 کھرب 55 ارب تک پہنچ گیا پچھلے سال یہ قرض کتنا تھا؟سٹیٹ بینک نے حقائق عوام کے سامنے رکھ دئیے

datetime 29  ستمبر‬‮  2020
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

کراچی(این این آئی) اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے کہاہے کہ جولائی کے آخر تک وفاقی حکومت کا قرض8.41فیصد اضافے سے 355 کھرب 55 ارب روپے تک پہنچ گیاہے جو 2019 کے اسی عرصے میں 327 کھرب 98 ارب روپے تھا۔مرکزی بینک کی جانب سے جاری رپورٹ کے

مطابق رواں سال جون کے 351 کھرب 6 ارب روپے کے مقابلے میں سرکاری قرض میں 1.28 فیصد یا 450 ارب روپے کا اضافہ ہوا۔اس کا زیادہ تر حصہ مقامی قرضوں سے آیا جو جولائی کے آخر تک 233 کھرب 92 ارب روپے تک پہنچ گیا اور اس میں گزشتہ سال کے اسی ماہ کے 220 کھرب 10 ارب کے مقابلے میں 13 کھرب 80 ارب روپے تک کا اضافہ ہوا۔رپورٹ کے مطابق پاکستان سرمایہ کاری بانڈز جو وفاقی حکومت کے طویل مدتی قرض میں شیئر کا حصہ ہے، اس میں 21 کھرب 89 ارب روپے یا 19.88 فیصد کا اضافہ ہوا اور یہ جولائی کے آخر تک 131 کھرب 95 ارب روپے تک پہنچ گئے جبکہ گزشتہ سال یہ اسی عرصے میں یہ 110 کھرب 6 ارب روپے تھا۔اسی طرح پرائز بانڈز کا اسٹاک جولائی تک 733 ارب 60 کروڑ روپے ریکارڈ کیا گیا جس میں 2019 کے اسی ماہ کے مقابلے میں 45 ارب 80 کروڑ روپے جبکہ رواں سال جون کے مقابلے میں 50 کروڑ روپے کی کمی دیکھی گئی۔

قلیل مدتی قرض کو دیکھیں تو مارکیٹ ٹریژری بلز گزشتہ سال کے اسی ماہ کے 62 کھرب 10 ارب روپے سے کم ہوکر جائزے کے اختتام تک 53 کھرب 32 ارب روپے پر موجود رہے۔علاوہ ازیں جولائی کے آخر تک مرکزی حکومت کے بیرون قرض 121 کھرب 64 ارب روپے تھے

جو جون کے 107 کھرب 86 ارب روپے کے مقابلے میں 13 کھرب 78 ارب روپے زیادہ تھے۔یہ طویل مدتی قرض کے ذریعے چل رہا تھا جس کی جولائی کے آخر تک رقم 119 کھرب 77 ارب روپے تھی جبکہ گزشتہ سال کے اسی مہینے میں 106 یہ کھرب 55 ارب روپے تھی۔

اسٹیٹ بینک کے مطابق جون کے اختتام تک پاکستان کا سرکاری بیرون قرض 87 ارب 88 کروڑ 50 لاکھ ڈالر تھا جو 2019 کے اسی ماہ کے 83 ارب 93 کروڑ 60 لاکھ ڈالر کے مقابلے میں 3 ارب 94 کروڑ 90 لاکھ ڈالر کا اضافہ ظاہر کرتا ہے۔ادھر بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے لیے ملک کا واجب الادا قرض مالی سال 20 تک 7 ارب 68 کروڑ ڈالر تھا جو مالی سال 2019 کے 5 ارب 64 کروڑ 80 لاکھ ڈالر کے مقابلے 2 ارب 3 کروڑ 20 لاکھ ڈالر زیادہ تھا۔

موضوعات:



کالم



چانس


آپ مورگن فری مین کی کہانی بھی سنیے‘ یہ ہالی ووڈ…

جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ

میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…

تیسری عالمی جنگ تیار(دوسرا حصہ)

ولادی میر زیلنسکی کی بدتمیزی کی دوسری وجہ اس…